
ایران اسرائیل کشیدگی کے خطے پر اثرات
ایران اسرائیل کشیدگی کے خطے پر اثرات
تحریر: جاوید کمیانہ
اسرائیلی ننگی جارحیت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ صیہونی فاشسٹ ریاست اپنے منطقی انجام کی طرف عازم سفر ہے کیونکہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے اور اسرائیل نے غزہ میں ہزاروں بچوں و معصوم شہریوں کو جس بے دردری سے شہید کیا ہے بہرحال ان کی دعائیں دربار باری تعالیٰ میں اسرائیل کے خاتمے کی منتظر ہیں۔ کچھ ماہ قبل اسرائیل نے ایران کے صدر سمیت اہم شخصیات کو نشانہ بنایا جواب میں ایران کی کاروائی موثر نہ ہونے کے باعث ایران کا خاکہ کمزور ریاست کے طور پر ابھرا اور اسرائیل مسلم ممالک پر اپنی دھاک بٹھانے میں کامیاب نظر آیا۔ میں عرصہ دراز سے کہا کرتا ہوں کہ اسرائیل غیر قانونی ریاست ہے اور امریکہ اس کا ناجائز بیٹا اور بھارت اسرائیل کا حرامی پوتا ہے اور اگر ملاحظہ فرمائیں تو یہ تین حرامی النسل ممالک اپنے پڑوس سمیت دیگر ممالک میں بے جا مداخلت اور پنگے لیتے نظر آئیں گے جبکہ دیگر عالمی قوتیں مضبوط معیشت و بھرپور وسائل کے باوجود بھی خاموشی سے اپنی اپنی عوام کی بہبود پر توجہ مرکوز کیے نظر آئیں گے۔ عراق، شام ، لیبیا ، اردن کے بعد ایران کی جانب ایران کی پیشقدمی کا مطلب کیا ہے ؟ امریکہ اس کا اظہار کر چکا ہے کہ ایران کو جوہری طاقت نہیں بننے دیا جائے گا کیونکہ اس کے بعد اسرائیل کی خطے میں بدمعاشی کو خطرات لاحق ہیں اور امریکہ اسرائیل کے تمام مفادات کے تحفظ کا ضامن ہے مگر دونوں سفاک ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کو کیوں معلوم نہیں ہو سکا کہ ایران جوہری طاقت بن چکا ہے اور بعید نہیں ہے کہ حالیہ ایران اسرائیل کشیدگی کے دوران ہی ایران ایٹمی تجربے کی کامیابی کا اعلان بھی کر دے۔ اسرائیل نے گزشتہ دو روز کی فضائی کارروائی میں جہاں ایران کے فوج کے چیف اسٹاف، پاسداران انقلاب کے سربراہ اور سائنس دانوں کو شہید کیا وہاں ایران کی جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا مگر وہ زیر زمین ہونے کی وجہ سے محفوظ رہیں جبکہ بیرونی سطح پر کچھ نقصان ضرور پہنچا ہے مگر ایران نے جس دلجمعی کے ساتھ عرصہ دراز سے میزائل ٹیکنالوجی پر کامیابی سے کام جاری رکھا بلا شبہ وہ میزائل تل ابیب و دیگر شہروں کی کامیابی سے ناصرف زیارت کر کے آئے ہیں بلکہ متعدد عمارتیں زمین بوس ہونے کے باعث اسرائیل کی عوام میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ ایک لحاظ سے تو ایران کی جوابی کارروائی پر جیسے اسرائیلی عوام چیختی ہوئی منتشر ہو زخمی حالت میں ہسپتالوں کا رخ کر رہی ہے ان کو غزہ کے بے بس و لاچار عوام کا چہرہ سامنے رکھنا چاہیے۔
ایران پر حالیہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں پاکستان ، چین، روس اور سعودی عرب، ترکیہ سمیت برادر اسلامی ممالک نے جہاں افسوس کا اظہار کیا وہ ایران کے ساتھ ہر طرح کی مدد کا بھی اعلان کیا اور پاکستان کے وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وزیراعظم شہباز شریف نے واشگاف الفاظ میں اسرائیلی بدمعاشی کی بھرپور مذمت کی اور ایرانی صدر کو فون بھی کیا اسی طرح سعودی فرمانروا محمد بن سلمان نے بھی ایرانی صدر کے ساتھ گفتگو کی اور اظہار یک جہتی کیا جو خوش آئند ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں دوران تقریر تاریخی جملے ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مسلم ممالک کو ایک ایک کر کے نشانہ بنا رہا ہے اور اگر آج متحد نہ ہوئے تو سب کی باری آ سکتی ہے خواجہ آصف کے اس بیان کو مسلم ممالک میں خاصہ سراہا گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ایران اسرائیل کشیدگی میں ایک ایسا مکار ملک ہے جو مکمل خاموش ہے جس کا میں میں اظہار کر چکا ہوں اب بھارت کیونکہ اسرائیل کا ناجائز پوتا ہے جو اپنے دادا کو بھی ناراض نہیں کر سکتا مگر پاکستان میں بالخصوص بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے اس کو ایران کی ضرورت بھی ہوتی ہے تاکہ چاہ بہار میں متعدد نام نہاد کاروباری دفاتر کھول کر بدنام زمانہ را کے ایجنٹ اپنی مذموم سازشوں میں مصروف رہتے ہیں تو ایران کے ساتھ بھارت نہیں بگاڑنا چاہتا مگر ابھی بھی وقت ہے کہ ایران برادر اسلامی ملک ہے اور پاکستان نے اس موقع پر کھل کر اسرائیل کی مخالفت اور ایران کی حمایت کی ہے مستقبل میں بھی ایران کو پاکستان کے جزبات کی قدر کرتے ہوئے بھارت کی سازشوں سے کوسوں دور رہنا چاہیے۔
بظاہر ایک مضبوط بلاک دکھائی دے رہا ہے جس میں ایران، پاکستان، ترکیہ، روس، چین اور سعودی عرب اس وقت صیہونی ریاست کے خلاف متحد نظر آ رہے ہیں اور ایران کی ہر طرح سے ممکن وسائل مہیا کر سکتے ہیں جس کے بعد اسرائیل کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اور امریکہ اگر عملی طور پر اسرائیل کو فوج فراہم کر کے ایران کے خلاف صف آراء ہوتا ہے تو اس کا ایران کو فائدہ پہنچے گا اور ایران کے پاس جواز ہو گا کہ متعدد ممالک میں امریکی بحری بیڑے اس وقت موجود ہیں جن کو ایران نشانہ بنا سکتا ہے اور وہ میزائل بھی ایران کے پاس اس وقت موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ اسرائیل امریکہ کو اس جنگ میں شامل کرنا چاہتا ہے مگر امریکہ بیان بازی و درپردہ طور پر اسرائیل کا ساتھ دینا چاہتا ہے اور اس امر کا اظہار محمد بن سلمان بھی کر چکے ہیں۔ ایک بات طے ہے کہ اسرائیل اس جنگ کو طویل نہیں کرنا چاہے گا اور دو دن میں اسرائیل پر ایران کی جانب سے ہائبرڈ ڈرونز، ہاپر سونک میزائل داغے گئے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر کاروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔
اقوام متحدہ اور با اثر ممالک کو چاہیے کہ فوری مداخلت کرتے ہوئے اسرائیل کو دہشت گردی سے باز رکھیں بصورت دیگر تمام اسلامی ممالک کو اکٹھے ہو کر اسرائیل کو موثر جواب دینا چاہیے تاکہ مستقبل میں اسرائیل کسی اسلامی ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت سے پہلے سو بار سوچے اور اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے فوری طور پر مضبوط بلاک بنا کر اعلان کرنا چاہیے۔۔۔۔۔