
بھارت کی بے شمار بے شرمی
بھارت کی بے شمار بے شرمی
تحریر: جاوید کمیانہ
بھارت کی حالیہ جارحیت اور نام نہاد ناکام آپریشن سندور جس کو پاکستان کی بہادر فوج اور قیادت نے مانگ سے ہی غائب کر دیا تھا اور آپریشن ودوا میں تبدیل کر دیا گیا اس کا معترف عالمی ذرائع ابلاغ بھی ہوا۔ دنیا بھر کے جرائد، چینلز اور مضامین کا مطالعہ کر لیں تو یکسانیت کے ساتھ سب نے اتفاق کیا کہ پاکستان نے نہ صرف بھرپور اور ٹیکنیکل طریقے سے دفاع کیا بلکہ بہترین ٹیکنالوجی کے ساتھ آپریشن بنیان مرصوص سے بھارت کو گہری ضرب لگائی کہ بھارت اپنے زخم چاٹ رہا ہے اور اگلے کئی برس تک یہ زخم مندمل بھی نہیں ہوں گے۔ پاکستان نے اس معرکہ حق کو انتہائی شاندار طریقے سے یوم تشکر سے لے کر یوم فتح تک منایا اور ہر محب وطن پاکستانی نے اپنی سطح پر انفرادی یا اجتماعی طور پر افواجِ پاکستان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور سرکاری سطح پر یوم تشکر منایا اور اسی کامیاب آپریشن کے نتیجے میں آرمی چیف جنرل حافظ سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
چند سازشی عناصر اور ایک خاص سیاسی طبقہ اپنی گندگی کو عیاں کرنے سے باز نہ آیا اور کہنا شروع کر دیا کہ بھارت آپریشن سندور کی کامیابی کے دعوے کر رہا ہے اور پاکستان اپنی فتح کا جشن منا رہا ہے تو کیسے فیصلہ ہو گا کہ کون جیتا ان سب کو ایک دلیل دے کر جواب دیا جا سکتا ہے کہ آپ لوگ صبح شام بھارتی میڈیا کو سنیں کیا وہ بہاولپور، مریدکے اور چند مخصوص جگہوں پر معصوم پاکستانی شہریوں کے نقصان کا راگ الاپ رہا ہے مگر پاکستان کی کسی فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتا ہے ؟ حتیٰ کہ کم ترین سطح پر پاکستان کے جوان شہید کرنے ، کوئی طیارہ گرانے یا میزائل ناکارہ بنانے کا دعویٰ کرتا ہے ؟کیا ان کی فوج کے ترجمان نے عالمی میڈیا کو بلا کر کوئی ثبوت فراہم کیے تو جواب نفی ہی ہو گا جبکہ دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر اب تک متعدد پریس کانفرنس کر چکے ہیں اور سائیڈز کے ساتھ مستند ثبوت فراہم کر چکے ہیں اس سے بھی زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سی این این ، نیویارک ٹائمز، الجزیرہ سمیت تمام عالمی میڈیا اپنے طور پر ویڈیوز چلا کر آگاہی دیتا رہا ہے کہ بھارت کی کونسی ائیر بیسز تباہ ہوئیں اور کتنے طیارے گرائے گئے اور رافیل بنانے والی فرانس کی کمپنی کے مارکیٹ شیئرز کیسے زمین بوس ہوئے اس دلیل کے بعد یہ ذلیل طبقہ اپنے آپ کو کوستا ہے اور دشمن کی شکست اور پاکستان کی فتح پر رنجیدہ ہو جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے حمایتی ہیں اور اس کی پشت پر محض ایک ناکام سیاسی لیڈر ہے جو اڈیالہ جیل میں بند ہے۔
چند روز قبل بھارت نے نام نہاد آپریشن سندور کی کامیابی پر ایک پروگرام کا انعقاد کیا جس میں بھارتی وزیر اعظم چائے فروش مودی قصائی اور اس کے گماشتے جن میں مکیش امبانی بھی موجود تھا اور لکھی تقریر کو پڑھ کر مودی اور اپنی بزدل افواج کو خراج تحسین پیش کر رہا تھا اسی وقت ایک بھارت کے شرارتی کیمرہ مین نے اپنے فریم میں نریندر مودی کا گھناؤنا چہرہ دکھا دیا جو پریشانی اور خاموشی اس وقت بھارتی وزیر اعظم کے چہرے پر عیاں تھی وہ پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ مکیش امبانی جھوٹ بول رہا ہے اور ہمیں اتنی مار پڑی ہے کہ بھارتی خواتین اپنے ضدی بچے کو سلاتے ہوئے کہتی ہیں کہ سو جاؤ ورنہ پاکستانی فوجی آ رہا ہے۔ بھارت کو شرم آنی چاہیے کہ چھ فرانس کے طیارے، روسی ساختہ ائیر ڈیفنس سسٹم متعدد اہم ائیر بیسز تباہ کروا کر اور دو سو سے زائد اپنے فوجی مروا کر جبکہ ایک سو چوبیس چوکیاں لائن آف کنٹرول اور بارڈر پر پاکستان کے حوالے کر کے بھاگ کر کس فتح کا جشن منا رہا ہے ؟ پاکستان کے چند معصوم شہریوں کو شہید کر کے یا محض ایک ہماری ائیربیس کو نشانہ بنا کر جشن منا رہا ہے ویسے حد ہے ڈھٹائی اور بے شرمی کی۔ دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر بھارتی طیاروں کے تباہ ہونے کے حوالے سے جگ ہنسائی ہو رہی ہے اور مختلف میمز بن رہی ہیں مگر بے ضمیر بھارتی سیاسی قیادت اس کو فتح کا نام دے رہی ہے ان سے زیادہ تو کچھ ان کی فوجی قیادت غیرت مند نکلی جو ماتم بھی خاموشی سے منا رہی ہے اور کسی بھی قومی یا عالمی میڈیا پر کوئی بات نہیں کر رہی جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر روزانہ کی بنیاد پر کسی نہ کسی عالمی ذرائع ابلاغ کی زینت بنے ہوئے ہیں اور ہر انٹرویو میں بھارت کو للکار رہے ہیں۔
مسٹر مودی آئیں ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ فتح کا جشن کیا ہوتا ہے ہم نے آپریشن بنیان مرصوص کا واہ شگاف اعلان کیا اور محض پانچ گھنٹے میں آپکے ائیر ڈیفنس سسٹم کو پہلی فرصت میں ناکارہ کر کے تسلی و تسلسل کے ساتھ ایم ائیر بیسز تباہ کیں اور جب افواجِ پاکستان کے تینوں ترجمان پریس کانفرنس کر رہے تھے تو ہم نے تفصیلا سب مقامات کی ثبوت کے ساتھ بات کی اور اس دن سے سب کے چہروں پر فاتحانہ مسکراہٹ دیکھ کر سب کو یقین ہو رہا تھا کہ فاتحین اسی طرح شکر کے بعد فخر سے بات کرتے ہیں اور الحمدللہ اس روز سے آج تک ہماری فوجی و سیاسی قیادتِ کے چہروں پر مسکراہٹ اور عوام کے چہروں پر رونق ثابت کر رہی ہے کہ فاتح کون تھا لہذا بے شرمی کے ساتھ اپنے زبردست نقصان کو نام نہاد فتح کا نام مت دو تم وہ قوم ہو جو ایک کرکٹ میچ جیت کر پورے گراؤنڈ میں بھاگتے رہتے ہو چاہے سانس چڑھنے سے موت ہی کیوں نہ واقع ہو جائے اور تم لوگ فاتح ہوتے تو اب تک بنگلہ دیش اور چین کو بھی للکار چکے ہوتے اور بازاری عورت کی طرح ناچ ناچ کر ہلکان ہو جاتے مگر چہروں کے تیور سب بتا جاتے ہیں مگر بے شرم قوم کو اس سے کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔