
اوکاڑہ کی پہچان یونیورسٹی اور سلمان غنی
تحریر: سلمان احمد قریشی
کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دارومدار تعلیم پر ہوتا ہے، اور تعلیم کی روشنی جب علم و تحقیق کی اعلیٰ درسگاہوں سے پھوٹتی ہے تو وہ معاشرے کے ہر گوشے کو منور کر دیتی ہے۔ اوکاڑہ، جو ماضی میں صرف زراعت کے حوالے سے جانا جاتا تھا، آج ایک نئے تعلیمی اور فکری دور سے گزر رہا ہے۔ اس تبدیلی کی علامت یونیورسٹی آف اوکاڑہ ہے، جو دن بدن علم، تحقیق اور کردار سازی کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اس یونیورسٹی کا قیام نہ صرف اس خطے کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولنے کا باعث بنا بلکہ اس نے ایک فکری انقلاب کی بنیاد بھی رکھ دی ہے۔
یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی علمی فضا، ترقی پذیر انفراسٹرکچر، متحرک قیادت اور نوجوانوں میں جذبہ حب الوطنی پیدا کرنے والے اقدامات اس ادارے کو جلد ہی پاکستان کی صفِ اوّل کی جامعات کی صف میں لاکھڑا کریں گے۔ خاص طور پر موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کی سربراہی میں اس ادارے نے جو انقلابی پیش رفت کی ہے، وہ اس خطے کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں۔ ان کی قیادت میں یونیورسٹی نے نہ صرف علمی میدان میں ترقی کی ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی مثبت تبدیلیوں کی راہ ہموار کی ہے۔
اسی علمی ماحول میں یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز کے زیرِ اہتمام ایک نہایت خوبصورت اور بامقصد سیمینار منعقد کیا گیا، جس کا مقصد ملک کے سینئر اور باوقار صحافی سلمان غنی کو سول ایوارڈ ملنے پر خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔ سلمان غنی کا تعلق اسی خطہ اوکاڑہ سے ہے اور ان کی کامیابی دراصل اس مٹی کی کامیابی ہے۔ ان کا اعزاز اس شہر، اس یونیورسٹی اور یہاں کے طلبہ کے لیے نہ صرف باعثِ فخر ہے بلکہ ایک محرک بھی ہے کہ خوابوں کی تعبیر ممکن ہے اگر نیت صاف ہو، محنت مخلصانہ ہو اور مقصد بلند ہو۔
سیمینار کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے کی، جبکہ سلمان غنی بطورمہمانِ خصوصی شریک تھے۔ دیگر معزز مہمانوں میں ایم این اے چوہدری ریاض الحق جُج، سماجی کارکن مظہر حسین ساہی، اور معروف کالم نگار و تجزیہ نگار اسلم ڈوگر شامل تھے۔ اس موقع پر طلبہ، اساتذہ اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ سلمان غنی کی شخصیت صرف صحافت تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک عوامی اور فکری رہنما کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر زاہد بلال نے استقبالیہ کلمات میں سلمان غنی کی صحافت کو امید، امن، ترقی اور محبت کا پیغام قرار دیا۔ انہوں نے انہیں ”عوامی صحافی” کہا جنہوں نے ہمیشہ عوامی مسائل کو اجاگر کیا اور قومی بیانیے کو استحکام دیا۔ہمارا ماننا ہے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر زاہد بلال صرف ایک استاد نہیں بلکہ سچائی کو زبان دینے،، قوم کی رہنمائی کرنے اور معاشرے کے ضمیر کو بیدار کرنے میں مصروف ہیں۔اسلم ڈوگر نے سلمان غنی کو عاجز، بے لوث اور سچ کے متلاشی صحافی قرار دیا، جبکہ چوہدری ریاض الحق نے انہیں پاکستان کا فخر کہا اور اس بات پر زور دیا کہ زرد صحافت کے دور میں سچ اور ذمہ داری کی صحافت کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
سماجی کارکن مظہر ساہی نے سلمان غنی کے سول ایوارڈ کو اوکاڑہ کے لیے تاریخی قرار دیا۔ خود سلمان غنی نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحافت پاکستان اور عوام کے مسائل سے جڑی ہوئی ہے، اور صحافت کا اصل مقصد قوم کو جوڑنا، سچائی کا پرچار کرنا اور امید پیدا کرنا ہے۔انہوں نے یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی ترقی اور وائس چانسلر کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہا اور ایم این اے چوہدری ریاض الحق کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے جامعہ کے لیے 1.5 ارب روپے کے فنڈز مہیا کیے۔
راقم الحروف کو بھی اس پُروقار تقریب میں اظہارِ خیال کا موقع دیا گیا، جوہمایلیے نہایت اعزاز کی بات تھی۔ ہم نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ سلمان غنی جیسے شخصیات کسی خطے کی پہچان اور اثاثہ ہوا کرتی ہیں۔ ان کا سول ایوارڈ دراصل اوکاڑہ کی علمی، فکری اور صحافتی شناخت کا اعتراف ہے۔ہم نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ سلمان غنی گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول اوکاڑہ میں میرے والد محترم، ضمیر قریشی (مرحوم) کے شاگرد رہ چکے ہیں۔ وہ اس دور کو آج بھی محبت سے یاد کرتے ہیں، اور ہمیشہ ہمارے خاندان سے احترام و عقیدت کا تعلق برقرار رکھا۔شاگردی کا یہ رشتہ محض تعلیمی ادارے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے شخصیت سازی، خاندانی اقدار، اور باہمی احترام کے رشتے کو عمر بھر کے تعلق میں بدل دیا۔ سلمان غنی کی یہی انکساری اور ظرف انہیں عظیم بناتا ہے۔”
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی نے ہمیشہ اپنی جنم بھومی اور تعلیمی ادار ے سے گہری وابستگی کا عملی ثبوت دیا۔ ان کی یہ آمد محض ایک رسمی دورہ نہیں تھی، بلکہ ان کی علمی و صحافتی خدمات کے اعتراف اور تعلیمی ادارے سے محبت کے اظہار کا مظہر تھی۔ہمارے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ گزشتہ سال انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا اور امسال ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز عطا کیا گیا، جو ان کی بے لوث صحافتی وابستگی اور تجزیاتی مہارت کا شاندار اعتراف ہے۔ ان کی آمد نہ صرف ایک خوشگوار لمحہ تھی بلکہ موجودہ طلبہ کے لیے ایک روشن مثال اور تحریک کا باعث بھی بنی۔ہمارا کہنا ہے نوجوان طلبہ سلمان غنی کی زندگی سے سیکھیں کہ کامیابی کے سفر میں محنت، دیانت، مطالعہ اور انسان دوستی کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ ”صحافت صرف خبر دینے کا نام نہیں، بلکہ سچائی کو زبان دینا، قوم کی رہنمائی کرنا، اور معاشرے کے ضمیر کو بیدار کرنا صحافت کی اصل روح ہے اور سلمان غنی اس روح کے محافظ ہیں۔”اسلم پراچہ اور رائے احمد حسن نے بھی اظہار خیال کیا۔
تقریب کے اختتام پر سلمان غنی اور دیگر مہمانانِ گرامی کو اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں، جبکہ وائس چانسلر نے چوہدری ریاض الحق کو ”محسنِ جامعہ” اور مظہر ساہی کو ”رفیقِ جامعہ” کے اعزازات سے نوازا۔
یہ تقریب نہ صرف ایک انفرادی شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا مظہر تھی، بلکہ یہ اس بات کی علامت بھی تھی کہ اوکاڑہ اب صرف زمین کی زرخیزی سے نہیں، بلکہ ذہنوں کی بالیدگی سے بھی پہچانا جائے گا۔ سلمان غنی کا اعزاز اوکاڑہ کے ہر نوجوان کے لیے پیغام ہے کہ بڑے خواب دیکھیے، محنت کیجیے اور اپنی مٹی سے محبت کیجیے، کیونکہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی قیادت، خاص طور پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کی کاوشیں اس شہر کو ایک نیا فکری مرکز بنا رہی ہیں۔ میری دُعا ہے کہ یہ جامعہ علم، تحقیق اور کردار سازی کے میدان میں ہمیشہ سربلند رہے، اور ہمارے نوجوان ایسے ہی قابلِ تقلید شخصیات سے روشنی لیتے رہیں۔