
جنگی فضا،قومی یکجہتی، تاریخ، تدبر اور تقابل
فضا،قومی یکجہتی، تاریخ، تدبر اور تقابل
تحریر: سلمان احمد قریشی
پہلگام، مقبوضہ کشمیر کی ایک خوبصورت وادی، ایک بار پھر خون میں نہلا دی گئی۔ چھبیس انڈین شہریوں کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی فضا نہ صرف سرحد پار کو ہلا گئی بلکہ برصغیر میں بسنے والے ہر فرد کو بھی اضطراب میں مبتلا کر گئی۔ انڈیا نے فوری طور پر اس واقعے کو دہشت گردی کا نام دیا اور بغیر کسی تحقیق کے انگلی پاکستان کی طرف اٹھا دی۔یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے کسی واقعے کے بعد فوری طور پر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا ہو۔ 2001 کا بھارتی پارلیمنٹ حملہ، 2008 کا ممبئی حملہ، 2016 کا اُڑی واقعہ، اور 2019 کا پلوامہ سانحہ ہر واقعے کے بعد تحقیق سے پہلے ہی ایک ہی کہانی دہرائی گئی۔ مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اندرونی مسائل سے توجہ ہٹائی جائے، پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کیا جائے، اور جنگی جنون کو ہوا دی جائے۔آج پھر ویسا ہی ماحول ہے۔ بھارتی میڈیا اور سیاست دان اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر جنگی نعرے گونج رہے ہیں، اور دونوں ممالک نے کئی باہمی معاہدے معطل کر دیے ہیں۔ عسکری نقل و حرکت میں تیزی آ چکی ہے، اور خطہ ایک خطرناک دوراہے پر کھڑا ہے۔
پہلگام کی دلخراش واردات نے ایک بار پھر برصغیر کو کشیدگی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ بھارتی حکومت نے حسبِ روایت بغیر کسی شواہد کے پاکستان پر انگلی اٹھائی، میڈیا نے جنگی جنون کو ہوا دی، اور سیاست دانوں نے ایک بار پھر امن کو پسِ پشت ڈال کر جنگ کی للکار سنائی۔ مگر اس بار ایک اہم سیاسی ردعمل پاکستان سے سامنے آیا، جس نے خطے کے تلخ حقائق کو ایک سادہ مگر گہری تمثیل میں بیان کر دیا۔
پاکستان کے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ”اگر دریاؤں میں پانی نہیں بہے گا، تو خون بہے گا۔” یہ بیان صرف جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک تلخ سچائی کی طرف اشارہ ہے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں، آبی جارحیت، اور کشمیری عوام پر ظلم و ستم، اس خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ایسے نازک وقت میں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا بیان سامنے آیا یہ الفاظ محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ بھارت کی آبی جارحیت، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں، اور خطے میں طاقت کے عدم توازن پر ایک گہرا انتباہ ہیں۔ بلاول کے اس بیان پر بھارت میں شدید ردعمل آیا۔ دہلی، ممبئی، اور دیگر شہروں میں ان کے خلاف مظاہرے کیے گئے، پتلے جلائے گئے، اور نفرت آمیز نعرے لگائے گئے اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ تک کیا گیا۔مگر بھارتی ردعمل اصل سوالات سے نظریں چرا رہا ہے۔ کیا بھارت اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کہ وہ برسوں سے کشمیر پر قبضے، اقلیتوں پر ظلم اور پاکستان کے خلاف جارحانہ پالیسیوں پر گامزن ہے اور خطے کے آبی وسائل پر بھی تسلط کی کوشش کر رہا ہے؟
بلاول بھٹو صرف ایک فرد نہیں، ایک تاریخی تسلسل کا نمائندہ ہیں۔ ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا: ”ہم گھاس کھا لیں گے، مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔” اُن کے عزم سے ہی پاکستان ناقابلِ تسخیر دفاعی طاقت بنا۔ ان کی صاحبزادی، محترمہ بینظیر بھٹو، جو عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں، نے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کر کے پاکستان کو دفاعی خود کفالت کی راہ پر ڈالا۔ لیکن افسوس، وہ خود دہشت گردی کا نشانہ بن گئیں۔یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہے، نہ کہ اس کا بانی۔
بھارتی حکومت نے بلاول بھٹو زرداری کا ایکس اکاؤنٹ بلاک کر کے بزدلی کی نئی مثال قائم کی،بلاول بھٹو کے اکاؤنٹ پر پابندی محض ڈیجیٹل سنسرشپ نہیں، مودی سرکار اور بی جے پی کے اندر چھپی سچائی سے خوف کی کھلی علامت ہے۔بھارتی مودی سرکار ہر اُس آواز کو دبانے پر تلی ہوئی ہے جو اس کی انتہاپسند ہندوتوا سوچ کو چیلنج کرتی ہے۔ یہ اقدام بی جے پی کی گھبراہٹ، عدم برداشت اور سفارتی محاذ پر مکمل ناکامی کو عیاں کرتا ہے۔کوئی بھی ڈیجیٹل دیوار اُس آواز کو روک نہیں سکتی۔
بھارت کی بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ ہر دہشت گردی کو ریاستِ پاکستان سے جوڑ دیتا ہے، حالانکہ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ 80 ہزار سے زائد پاکستانی شہری و فوجی شہید ہوئے، اربوں ڈالرز کا معاشی نقصان ہوا، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ مگر ان قربانیوں کے باوجود پاکستان نے ضربِ عضب، ردالفساد اور نیشنل ایکشن پلان جیسے اقدامات کے ذریعے امن کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایسے وقت میں جب بھارت جنگی زبان بول رہا ہے، پاکستان میں عوام افواج کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ ملک بھر میں افواج پاکستان سے یکجہتی کے لیے ریلیوں کا انعقاد ہو رہا ہے۔ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، اوکاڑہ، ملتان ہر جگہ عوام کا سمندر اپنے محافظوں سے یکجہتی کا پیغام دے رہا ہے۔ ان ریلیوں میں صرف نعرے نہیں بلکہ جذبے بولتے ہیں ”ہم امن چاہتے ہیں، مگر کمزوری کے ساتھ نہیں۔“
افواج پاکستان کا کردار ہمیشہ سے ہماری قومی بقا کی ضمانت رہا ہے۔ چاہے وہ کارگل کی بلندی ہو یا ضربِ عضب کا محاذ، چاہے وہ سیلاب کی تباہی ہو یا زلزلے کا ملبہ یہ ادارہ نہ صرف جنگ کا محافظ ہے بلکہ زندگی کا ضامن بھی۔
برٹرینڈ رسل نے کہا تھا”جنگ یہ طے نہیں کرتی کہ کون صحیح ہے، بلکہ یہ طے کرتی ہے کہ کون بچا رہتا ہے۔”اس لئے جذبے کے ساتھ ساتھ حکمت بھی لازم ہے۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان سفارتی محاذ پر اپنی پوزیشن کو مزید مؤثر بنائے۔ اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور عالمی میڈیا کے ذریعے یہ واضح کرے کہ پاکستان امن چاہتا ہے، جنگ نہیں۔ اگر بھارت کے پاس ثبوت ہیں، تو عالمی اداروں کے ذریعے پیش کرے، میڈیا کی عدالت میں نہیں۔تاریخ نے سکھایا ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں بلکہ نئے زخموں کی بنیاد بنتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم جنگ کے نعرے نہیں، امن کے دروازے کھولیں مگر سر بلندی کے ساتھ، کمزوری کے نہیں۔قوم، فوج، اور قیادت سب ایک پیج پر ہوں تو کوئی خطرہ ناقابلِ قابو نہیں۔ اور آج یہی منظر ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔
لیکن کیا ہم صرف جذبات سے کام لے سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ہمیں تاریخ سے سیکھتے ہوئے عقل و تدبر کا دامن بھی تھامنا ہوگا۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ سفارتی محاذ پر عالمی برادری کو حقائق سے آگاہ کرے، ثبوت طلب کرے، اور بھارت کو مکالمے کی میز پر لانے کے لیے دباؤ بڑھائے۔امن ایک مشکل راستہ ہے، مگر جنگ سے کہیں بہتر۔ اگر ہم واقعی جنوبی ایشیا کو ایک پائیدار مستقبل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں تلخی، الزام تراشی اور جنگی بیانیے سے نکل کر باہمی عزت، انصاف اور استحکام کی راہ پر آنا ہوگا۔قوم آج بھی متحد ہے، افواج چاق و چوبند ہیں، مگر اصل جیت تب ہوگی جب ہم جنگ روک کر امن جیتیں۔مودی سرکار سمجھنا چائیے کہ
جنگیں مزاق نہیں ہوتیں, جنگیں تہذیب, ورثہ, خوبصورتی, پیار, محبت یہاں تک کہ انسانیت بھی کھا جاتی ہیں۔بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کی غلطی کی تو پھر ایساجواب آئے گا کہ دنیا دیکھی گئی خطہ آگ کے شعلوں میں چل رہا ہے اور پھر سفارت کاری سے نقصان کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔