• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • مودی کی سیاسی بقا اب خطرے میں

    بھارت کی مثال اج کل اس ڈوبتے ہوئے شخص کی سی ہے جس نے کہ دریا میں تیرتے ہوئے خوبصورت کمبل کو دیکھ کر اسے پکڑنا چاہا لیکن جب کامیابی نہ ملی اور ڈوبنے کے دہانے پر پہنچ گیا تو کسی نے اواز دی کہ بھائی تو اس کو چھوڑ اور واپس لوٹ تو اگے سے ڈوبتے ہوئے شخص کا کہنا تھا کہ میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا. بالکل یہی حالات اج کل بھارت اور اس کی مودی سرکار کا ہے. کہ اس نے اپنے گھمنڈ اور تکبر میں اپنے ملک میں اپنے ہی عوام میں ذہنوں نفرت کا زہر انڈیل دیا ہے کہ جہاں سے اپ واپسی انتہائی مشکل ہو چکی ہے اور مودی کو اپنی سیاسی بقا خطرے میں نظر ارہی ہے.
    تو اس نے اپنےبیانیہ کو ہی ہتھیار بنا لیا ہے

    پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے حسبِ روایت فوری طور پر اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا اور اشارہ دیا کہ وہ کسی بھی وقت پاکستان پر حملا کر سکتا ہے۔ اس بیانیے کے ساتھ بھارتی فوجی قیادت نے اپنے دفاعی نظام کو حرکت میں لائی جبکہ پاکستان نے بھی اپنے دفاعی نظام کو مکمل طور پر ایکٹیویٹ کر کے ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا۔
    اس ساری صورتحال میں بھارتی میڈیا نے حکومتی بیانیے کو مزید شدت دے کر عوامی جذبات بھڑکانے کا کام کیا ہر چینل پر جنگی جنون کو ہوا دی گئی اور مصالحہ دار مباحثوں کے ذریعے پاکستان دشمن جذبات کو ابھارا گیا لیکن دوسری طرف عالمی ردعمل نے بھارتی حکومتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔

    جب بھارت نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تو امریکہ یورپی ممالک اور دیگر عالمی طاقتوں نے اس بات کو تو تسلیم کیا کہ بھارت ماضی میں دہشتگردی کا شکار رہا ہے اور اب بھی خطے میں دہشتگردی ہے ماضی میں کشمیر کے عسکریت پسند تنظیموں اور بھارت مخالف گروپوں کے لیڈران کے پاکستان سے تعلقات تھے لیکن موجودہ پہلگام واقعے میں بھارت کوئی قابلِ اعتبار ثبوت فراہم نہ کر سکا یہی وہ لمحہ تھا جب نئی دہلی کی قیادت کو احساس ہوا کہ واقعے کے فوراً بعد سخت ردعمل دینا شاید ان کے لیے سیاسی اور سفارتی طور پر نقصان دہ ثابت ہوا۔

    اس معاملے میں بھارت کی سب سے بڑی مایوسی چین کا واضح اور دو ٹوک ردعمل تھا چین نے صاف الفاظ میں کہا کہ اگر پاکستان پر حملا کیا گیا تو چین کا جھکاؤ پاکستان کی طرف ہو گا بیجنگ کا یہ سخت مؤقف نئی دہلی کے لیے غیر متوقع تھا اور اگر یہ مخالفت عملی سطح پر ظاہر ہوتی ہے تو اس کے بھارت کے لیے سنگین جیو پولیٹیکل نتائج ہو سکتے ہیں۔

    یہ بھی قابل غور ہے کہ اگر چین بھارت کے خلاف کوئی قدم اٹھاتا تو بنگلادیش بھی غالباً چین کا ساتھ دیتا کیونکہ حالیہ برسوں میں ڈھاکہ اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے بھارت کی سات شمال مشرقی ریاستیں، جنہیں “سیون سسٹرز” کہا جاتا ہے پہلے ہی چین اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی کی علامت بنی ہوئی ہیں ان حساس علاقوں میں چین اگر بنگلادیش کی مدد سے کوئی چال چلے تو بھارت کو اندرونی خلفشار اور علیحدگی پسند تحریکوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے جو اُس کی علاقائی سالمیت کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔

    بین الاقوامی سطح پر مایوس ہونے کے بعد اب بھارت کی ساری توجہ اندرونی محاذ یعنی میڈیا پر مرکوز ہے حکومت کو بخوبی اندازہ ہے کہ وہ پاکستان پر عسکری حملا نہیں کر سکتی لہٰذا اب “فیس سیونگ” یعنی عزت بچانے کے لیے میڈیا کو میدانِ جنگ بنایا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کو یہ ذمیداری سونپی گئی ہے کہ وہ عوام کی توجہ اصل ناکامیوں سے ہٹا کر ایک مصنوعی جنگی ماحول برقرار رکھے۔
    اس میڈیا حکمتِ عملی کا ایک حصہ پاکستان سے ان آوازوں کو بلانا بھی ہے جو بھارتی بیانیے کو تقویت دیں جبکہ وہ یوٹیوبرز اور تجزیہ نگار جو سنجیدہ غیر متعصبانہ اور حقائق پر مبنی گفتگو کرتے ہیں ان پر قدغنیں لگائی جا رہی ہیں بھارتی حکومت نے خود اپنے ملک میں بھی ایسے یوٹیوبرز اور صحافیوں کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیاں شروع کی ہیں جو حکومتی بیانیے پر سوالات اٹھا رہے تھے انہیں دبایا جا رہا ہے تاکہ صرف ایک رخ کی آواز سنائی دے وہ جو حکومت کی پالیسی کے مطابق ہو۔

    یہ واضح ہو چکا ہے کہ بھارت اب عسکری کارروائی سے پیچھے ہٹ چکا ہے اس کی تمام تر کوشش اب محض عوامی غصے کو قابو میں رکھنے اور اپنی اندرونی کمزوریوں کو چھپانے پر مرکوز ہے مگر سوال یہ ہے کہ کب تک ایک بڑی جمہوریت محض میڈیا کی جنگ سے اپنے مسائل کا حل تلاش کرے گی؟ اور کیا بھارتی عوام اس بیانیے سے مطمئن ہو جائیں گے یا اس بار سچ کی تلاش میں جھوٹ کے شور کو نظر انداز کر دیں گے؟

    امن، شانتی اور بھائی چارہ ہی وہ راستہ ہے جو پاک بھارت عوام کو نفرت جنگ اور تباہی سے بچا سکتا ہے ہم دو ایٹمی طاقتیں ضرور ہیں لیکن اصل طاقت محبت اور انسانیت میں ہے سرحد کے دونوں طرف بسنے والے عوام ایک جیسے خواب دیکھتے ہیں بچوں کے روشن مستقبل سکون کی زندگی اور ترقی کی راہوں کا جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ تباہی کا دروازا ہے۔
    جبکہ مودی اپنی انتہا پسندانہ سوچ دہشت گردانہ ذہنیت اور سیاسی موت سے بچنے کے لیے دونوں ممالک کے ڈیڑھ ارب انسانوں کو بھوک افلاس اور گمنامی کے اندھیروں میں دھکیلنا چاہتا ہے
    میاں صفدر حسین اوکاڑہ

    160 مناظر