
جعفر ایکسپریس آپریشن اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت
تحریر: جاوید کمیانہ
بلوچستان میں دہشت گردانہ کاروائیاں تسلسل سے جاری ہیں اور پاک فوج خارجیوں اور ملک دشمنوں کو جہنم واصل کرنے کے لیے روانہ کی بنیاد پر اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے امن قائم رکھنے میں مصروف ہیں، بی ایل اے طویل عرصہ سے بیرونی فنڈنگ اور غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر ناچ رہے کبھی پنجابیوں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈز دیکھ کر گولیاں مار کر شہید کیا جاتا ہے تو کبھی پہاڑوں سے سیکورٹی فورسز پر حملے کیے جاتے ہیں۔
گزشتہ روز جعفر ایکسپریس میں تین سو سے زائد مسافروں کو بی ایل اے کے دہشت گردوں نے یرغمال بنا لیا جس کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اول تو یہ کہ دہشت گردوں کا اسلام سے دور کا کوئی واسطہ نہیں ہے ورنہ رمضان المبارک کا احترام کرتے اور معصوم اور بے گناہ شہریوں کو بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنانا بعد ازاں شہید کرنا اسلام کا درس نہیں ہے دوسری بات اپنی فوج پر حملے کرنا کونسی ملکی خدمت ہے ؟
بھارتی میڈیا، بی ایل اے اور پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا نے مسلسل منفی پروپیگنڈا جاری رکھا کہ جعفر ایکسپریس میں سو سے زائد پاک آرمی کے جوان سوار تھے جن کو یرغمال بنایا گیا ہے جس میں کوئی صداقت نہیں ہے کیونکہ آپریشن کی تمام ضروری ویڈیوز ترجمان پاک فوج نے میڈیا کو مہیا کی ہیں جس میں واضح نظر آ رہا ہے کہ دہشت گردوں نے یرغمال مسافروں کو تین ٹولیوں میں بٹھایا ہوا ہے جبکہ دوسری جانب دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے بھی یرغمالیوں کی جو ویڈیو پوسٹ کی ہے اس میں کہیں بھی ایک فوجی جوان نظر نہیں آ رہا۔ سانحہ جعفر ایکسپریس میں پاک فوج کو اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا تھا ایک طرف دشوار گزار راستوں ، غاروں میں دہشت گردوں کا پیچھا کر کے یرغمالیوں کو رہا کرنے میں مصروف تھی اور دہشت گردوں کو افغانستان اور بھارت سے مسلسل ہدایات جاری کی جا رہی تھیں تو سوشل میڈیا پر دہشت گردوں کے ساتھیوں جن میں نام نہاد صحافی بھی شامل ہیں ہیجانی کیفیت برپا کی ہوئی تھی مگر اللّٰہ کریم نے پاک فوج کو سرخرو کیا اور اس نے ثابت کیا کہ دنیا کی بہترین فوج نے جس نے جدت اور شدت کے ساتھ موقع پر موجود تمام 33 دہشت گردوں کو جہنم کی راہ دکھائی اور دوران آپریشن قیمتی جانوں کے نقصان کو بچایا کیونکہ دہشت گردوں نے یرغمالی مسافروں کو جب تیں ٹولیوں میں تقسیم کیا تھا تو اطراف میں خودکش بمبار جیکٹیں پہن کر بیٹھے تھے جہاں خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ عجلت میں اگر یہ خودکش حملہ کر دیتے ہیں تو کہیں زیادہ جانی نقصان کا اندیشہ تھا مگر پاکستان کے ماہر و تجربہ کار سنائپرز نے خود کش حملہ آوروں کو نشانہ بنایا جس کے بعد باقی دہشت گرد وہاں سے بھاگنا شروع ہو گئے مگر پاکستان کی بہترین فضائیہ کے جوان ان کا پیچھا کر رہے تھے اور بالآخر کوئی دہشت گرد دنیا میں سانسیں بچانے میں کامیاب نہیں ہوا اور جہنم میں جا کر ہی سب نے سانس لی۔
پاک فوج کے ترجمان نے میڈیا سے تفصیلی بات کرتے ہوئے آپریشن کے شواہد پیش کیے اور اکیس مسافروں اور چار جوانوں کی شہادت کی دلخراش خبر سنائی جس پر پوری قوم رنجیدہ تھی مگر بڑی تعداد میں خواتین، بچوں کو بچانے اور محفوظ مقام پر منتقل کرنے پر عوام نے اطمینان کر اظہار کیا۔
جہاں بھارت نواز ملک دشمن سوشل میڈیا اپنی منفی سرگرمیوں میں مصروف تھا وہاں پاک فوج سے محبت کر۔ے والے محب وطن بھی سوشل میڈیا پر ہم اپنی فوج کے ساتھ ہیں کا ٹرینڈ بنا کر اپنی فوج کا مورال بلند کرتے دکھائی دیتے رہے جو خوش آئند بات ہے کہ کسی بھی ملک کی فوج کو عوامی حمایت حاصل ہو تو اس کی کارکردگی بڑھ جاتی ہے جس کا مظاہرہ کل مشاہدے میں آیا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر بلوچستان میں لگی آگ بجھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور ان کرداروں کو بے نقاب کرنا ہو گا جو بیرونی امداد کی بنیاد پر صوبے میں بدامنی پھیلا رہے ہیں اور پاک فوج کو دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں تیزی لانی ہوگی تاکہ ملک سے دہشت گردی کا سر کچلا جا سکے۔ پاکستان میں بیرونی مداخلت کے ثبوتوں کو پوری دنیا میں پیش کرنا چاہیے تاکہ سفارتی و خارجی سطح پر بھی ان کرداروں کو ننگا کیا جائے جو ارض پاک میں ایسی بزدلانہ کاروائیوں میں ملوث ہیں باقی پاک فوج کتنی پروفیشنل اور مہارت رکھتی ہے اس نے نے جعفر ایکسپریس کے سانحہ کے بعد پوری دنیا کو باور کروا دیا ہے کہ وہ آج بھی دنیا کی بہترین فوج ہے جس کا ایک ایک جوان ملک کی خاطر جذبے سے لڑتا ہے اور شہید ہونے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے تاکہ پاکستانی عوام کا تحفظ عبادت سمجھ کر کیا جائے جس کا وہ عملی نمونہ پیش بھی کر رہے ہیں۔۔۔