
پاکستان کی بدقسمتی
پاکستان کی بدقسمتی
تحریر مقصود عالم
برصغیر پاک و ہند کی آزادی کے بعد بھارت میں تو جاگیریں نوابیاں اور رجواڑے ختم کر دئے گئے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہ ہوسکا جاگیریں اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ نہ صرف برقرار رہیں بلکہ انہی لوگوں مے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور بھی آ گئی جن کے آقاؤں سے آزادی حاصل کرنے کےلئے جدوجہد کی گئی تھی لاکھوں جانوں اورعصمتوں کی قربانی دی گئی تھی ان لوگوں کو تحریک آزادی سے غداری اور اسے کچلنے میں دامے درمے سخنے مدد کرنے کے عوض یہ جاگیریں دی گئیں اور یہ خاندان آج بھی پاکستان میں سربلند ہیں
بہاول پور میں آباد عربی نژاد قبیلے عباسی کے نواب ‘ نواب آف بہاول پور نے انگریز کے ساتھ “وفاداری” نبھائی۔ لہٰذا انگریز سرکار نے پاکستان کے قیام تک بہاول پور کی ریاست کا والی عربی نژاد قبیلے عباسی کو بنائے رکھا۔
ملتان میں آباد عربی نژاد قبیلے قریشی کے سربراہ اور گدی نشین مخدوم شاہ محمود نے رائے احمد کھرل کی انگریزوں کے خلاف پنجاب کی آزادی کی تحریک میں انگریز کمشنر کو مقامی آبادی کی بے چینی کے متعلق معلومات اور اطلاعات پہنچائیں اور سرکاری فوج کی مدد کے لیے پچیس سو سواروں کی ایک ملتانی پلٹن تیار کر کے دی۔ لہٰذا انگریزوں نے اس “خدمت“ کے عوض اسے قیمتی جاگیر’ نقد انعام اور آٹھ کنویں زمین عطاء کی۔
ملتان میں آباد عربی نژاد قبیلے گیلانی کے سربراہ اور گدی نشین مخدوم سید نور شاہ نے انگریز سرکار کا ساتھ دیا۔ لہٰذا انگریز سرکار نے اس “خدمت“ کے عوض خلعت اور سند سے نوازا اور بعد میں کاسہ لیسی کے صلے گیلانی خاندان کو جاگیریں بھی ملیں۔
ملتان میں آباد پٹھان قبیلے کے گردیزی خاندان نے انگریز سرکار کا بھرپور ساتھ دیا۔ لہٰذا انگریز سرکار نے انگریز کی “مدد” کر نے کے صلے میں جاگیریں عطاء کیں۔
خان گڑھ میں آباد پٹھان قبیلے کے نوابزادگان کے جد امجد اللہ داد خان نے انگریزوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کو کچلنے میں انگریزوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ لہٰذا انگریز سرکار نے اس “خدمت“ کے عوض اسے دو بار خصوصی خلعت دی اور انعام میں جاگیریں عطاء کیں۔
قصور میں آباد پٹھان قبیلے ممدوٹ نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا۔ چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ‘ عہدے اور منصب دیے گئے۔
عیسیٰ خیل میں آباد پٹھان قبیلے کے نیازیوں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا۔ چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ‘ عہدے اور منصب دیے گئے۔
راجن پور میں آباد بلوچ قبیلے مزاری کے سردار امام بخش مزاری نے کھل کر انگریزوں کا ساتھ دیا۔ لہٰذا انگریز سرکار نے انگریز کی “مدد” کر نے کے صلے میں اسے سر کا خطاب دیا اور جاگیریں عطا کیں۔
راجن پور میں آباد بلوچ قبیلے دریشک کے سردار بجاران خان دریشک نے انگریزوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کے خلاف لڑنے کے لیے دریشکوں کا ایک خصوصی دستہ انگریزوں کے پاس بھیجا۔ لہٰذا انگریز سرکار نے انگریز کی “مدد” کر نے کے صلے میں دریشکوں کو جاگیریں عطا کیں۔
مکھڈ شریف کے عربی نژاد پیروں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا۔ چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ‘ عہدے اور منصب دیے گئے۔
لاھور میں آباد ایرانی نسل قزلباش سردار علی رضا نے ایک گھوڑ سوار دستہ تیار کر کے جنگ آزادی میں لڑنے والے مسلمان اور ھندو سپاھیوں کے خلاف انگریز کو بھیجا۔ اسی دستے کے ساتھ علی رضا کا بھائی محمد تقی خان تھا جو مجاھدوں کے ساتھ لڑائی میں مارا گیا۔ قزلباشوں کو جنگ کے بعد خطاب ‘ سند ‘ وظیفے اور 147 دیہات کی تعلقہ داری سونپ دی گئی۔
لاھور کے کلاًں شیخ خاندان کے سربراہ شیخ امام دین نے جنگ آزادی میں دو دستے خصوصی طور پر دھلی بھجوائے جنھوں نے حریت پسندوں کا خون بہایا۔ انہی خدمات کی بدلے انگریز نے ان کو بہت بڑی جاگیر بخشی۔
گوجرانوالہ کے چٹھہ خاندان کے جان محمد نے1857 میں انگریز کا بھرپور ساتھ دیا۔ چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ‘عہدے اور منصب دیے گئے۔
سرگودھا کے ٹوانوں کے گھڑ سواروں نے دھلی کی تسخیر میں بہادری کے خوب جوھر دکھائے۔ چنانچہ انہیں خطاب ‘ پنشن اور لمبی چوڑی جاگیریں ملیں۔
خانیوال کے ڈاھوں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا۔ چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ‘ عہدے اور منصب دیے گئے۔
کالاباغ کے نوابوں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا۔ چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ‘ عہدے اور منصب دیے گئے۔
پنجابیوں کی بدقسمتی یہ ھے کہ شہیدوں کے ساتھ غداری کی وجہ سے انگریز دور میں سر بلند ھونے والوں کی اولاد آج بھی “ممتاز“ اور“معزز“ ھے۔