
آہو نی آہو
تحریر: سلمان احمد قریشی
فلمی گانوں میں جب ہیروئن رقص کرتی ہے تو اس کے پیچھے درجنوں خواتین “آہو نی آہو” کرتی نمودار ہوتی ہیں۔ یہ منظر ہمیں حقیقی زندگی میں بھی نظر آتا ہے جہاں کچھ افراد “آہو نی آہو” کا کردار نبھاتے ہوئے خود کو فلمی ستارے سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ جس طرح فارمولا فلمیں فلاپ ہوتی ہیں، یہ کردار بھی ستارے نہیں بلکہ غبارے ثابت ہوتے ہیں جلد ہی ان میں سے ہوا نکل جاتی ہے۔ مرکزی کردار فائدہ اٹھاتا ہے اور یہ چند پیسوں کے عوض رسوائی کما کر ایک طرف ہو جاتے ہیں۔
قارئین کرام! ملکی سطح پر فیصلہ سازی بھی اسی طرز پر ہوتی ہے۔ کابینہ اکثر ایسے فیصلے کرتی ہے جن پر نہ تو اسمبلی میں بحث ہوتی ہے اور نہ ہی عوامی نمائندوں کی رائے لی جاتی ہے۔ اچانک بِل آتا ہے اور منتخب نمائندے بِل پاس کر دیتے ہیں جبکہ دستخط کرنے والے نہیں جانتے کہ قانون کیا ہے اور اس کے اثرات کیا ہوں گے کابینہ میں بھی منظوری کچھ اسی انداز سے ہوتی ہے۔
القادر کیس میں یہ حقیقت اس طرح عیاں ہوئی کہ وزیراعظم عمران خان نے بند لفافے پر ہی منظوری لے لی اور سب “آہو نی آہو” کرتے نمودار ہوئے اور ایک طرف ہو لیئے۔ جب کیس بنا تو کابینہ ایک طرف اور عمران خان تنہا کھڑے نظر آئے۔ اگر اس مسئلے پر کابینہ میں بحث ہوتی اور عوامی نمائندے اپنی رائے دیتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔ ملکی فیصلہ سازی سے لے کر مقامی سطح تک ہر جگہ “آہو نی آہو” والے کردار اپنے چھوٹے سے مفاد کی خاطر اجتماعی مفاد کو قربان کر دیتے ہیں اور کرسی پر بُراجمان شخصیت کے سامنے ہاں میں ہاں مِلاتے جاتے ہیں۔ بعد ازاں جب نقصان کا پتا چلتا ہے تو لاتعلقی اور لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔ سرکاری فنڈز کا استعمال چند افراد اپنی مرضی اور منشا کے مطابق کرتے ہیں جس کی وجہ سے درست استعمال کا امکان محدود ہو جاتا ہے۔
راقم الحروف صحافتی تنظیموں کا حصہ رہا ہے مشاہدے میں ہے کہ “آہو نی آہو” کردار ہمیشہ “یس سر” کہہ کر غلط اقدام کی حمایت اور توثیق کے لیے فوری دستخط کرتے جاتے ہیں۔ فیصلہ سے پہلے اختلاف یا باہمی اتفاق کی نوبت نہیں آتی۔ اب صحافتی معاملات کتنے احسن انداز سے چل رہے ہیں درجنوں تنظیموں کا وجود اور اختلافات سب کچھ عیاں کر رہے ہیں۔ خود نمائی، خود پسندی اور اجارہ داری ہے جبکہ اجتماعی فیصلہ سازی اور اجتماعیت نظر نہیں آتی۔ اس خرابی کے سب سے زیادہ ذمہ دار “آہو نی آہو” کا کردار ادا کرنے والے احباب ہیں جو ذاتی مفاد کے لیئے سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔ اب مرکزی کردار کا کیا کہنا وہ تو “اندھا کیا چاہے دو آنکھیں” کے مصداق موج میں رہتا ہے۔ بدنامی سب کی اور صاحب بہادر کا سَر گھی میں۔
اہل افراد سے مشورہ لینے کی اہمیت کو سمجھنےوالے ہی کامیاب رہتے ہیں اور عزت و توقیر پاتے ہیں۔
قرآنی حکم ہے ،اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مشاورت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: “اور ان سے (اہم) معاملات میں مشورہ کرو۔” (سورۃ آل عمران، 3:159)
ایک اور مقام پر ارشاد ہے: “اور ان کا کام باہمی مشورے سے ہوتا ہے۔” (سورۃ الشوریٰ، 42:38)
حدیث کی روشنی میں مشاورت کی اہمیت کچھ یوں سامنے آتی ہے
رسول اللہ ﷺ نے مشورہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا: “عقل مندوں سے مشورہ کرو، کامیابی پاؤ گے، اور ان کی مخالفت نہ کرو، ورنہ شرمندگی ہوگی۔”
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: “جس شخص سے مشورہ کیا جاتا ہے، وہ امانت دار ہوتا ہے، اسے امانت داری کا پورا حق ادا کرنا چاہیے۔”
منطقی دلیل ہے کہ
اہل اور ماہر افراد سے مشورہ لینے کے کئی فوائد ہیں جیسے تجربہ اور مہارت سے فائدہ اٹھانا، متعلقہ شعبے کے ماہرین کی رائے مسائل کے مؤثر اور کارآمد حل پیش کرتی ہے۔غلطیوں سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ اہل افراد کی رہنمائی ممکنہ نقصانات اور غلط فیصلوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ بہتر فیصلہ سازی اسی طرح ممکن ہوتی ہے جب متعدد زاویوں سے مسئلے کا جائزہ لے کر بہترین حل تک پہنچا جا سکتا ہے۔
لہٰذا اسلامی تعلیمات اور عقل دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ مشورہ ہمیشہ اہل، ماہر اور تجربہ کار افراد سے لینا چاہیئے تاکہ کامیابی اور بہتری حاصل کی جا سکے۔
ہم عقل کے اندھوں اور مفادات کے اسیروں کو فوقیت دیتے ہیں جو اپنے کردار اور اعمال میں اخلاقی جرآت نہیں رکھتے۔ ہم صرف اپنے مطابق رائے کو اہمیت دیتے ہیں نتائج تباہی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اہلیت سے دور بھاگتے ہیں کیونکہ مقصد مشورہ نہیں صرف فیصلہ کی توثیق ہوتا ہے اور اس طرح کیئے گئے غلط فیصلوں کا بار سب پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کم فہم اور مفاد پرست وقتی فائدہ کے لیئے باخوشی شریکِ جرم بننے کو تیار رہتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم “آہو نی آہو” کے کردار سے باہر نکلیں اور اپنی سوچ کو وسیع کریں۔ اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں اور فیصلہ سازی میں فعال کردار ادا کریں تاکہ معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے