
ڈی آئی جی عمران کشور OCU کے لیے بہترین انتخاب
تحریر:جاوید کمیانہ
پولیس کے ونگ سی آئی اے سے عوام بہترین انداز میں واقف تھی جس نے جرائم کی بیخ کنی میں اپنا مقام پیدا کیا مگر آرگنائزڈ کرائم یونٹ (OCU) کے بارے میں جہاں ذکر کیا گیا متعدد لوگ پولیس کے اس ونگ سے ناآشنا پائے گئے جس پر حیرانگی ہوا کرتی تھی 2023 میں پولیس آرڈر ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے او سی یو کو نافذ العمل بنایا گیا اور اس ادارے کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا جس میں گھناؤنے جرائم بشمول اغوا برائے تاوان ، بھتہ خوری ، ڈکیتی اور دوران ڈکیتی قتل،موٹر گاڑی کی چوری، منشیات اسمگلنگ ز انسانی اسمگلنگ یا مختلف اعلی جرائم میں ملوث افراد کا تعین اور تفتیش کے بعد قرار واقعی سزا دینا شامل ہے۔ چونکہ سی آئی اے کے پاس آزادانہ طور پر مقدمہ کے اندراج کا کوئی اختیار نہیں تھا اور وہ تھانوں کے ایس ایچ اوز پر انحصار کرتے تھے اس لیے جاری کردہ آرڈیننس کے ذریعے او سی یو میں تعینات افسران کو اندراج مقدمہ کا اختیار بھی دے دیا گیا۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کی زیر قیادت بہترین افسران کا انتخاب کیا گیا جس میں او سی یو میں تعینات ڈی آئی جی عمران کشور قابل ذکر ہیں جنہوں نے تعینات ہونے کے بعد جرائم کے قلع قمع میں شب و روز محنت کی اور تجربہ کار افسران و اہلکاروں کی منظم ٹیم کے ساتھ بہترین انداز میں کام کیا اور ان کی ٹیم ممبران نے پیچیدہ جرائم کو حل کر کے متعدد بار تعریفی اسناد اور انعامی رقوم حاصل کیں جو اس امر کا ضامن ہے کہ ڈی آئی جی عمران کشور آرگنائزڈ کرائم یونٹ کو سنبھالنے اور کارکردگی دکھانے میں مقام رکھتے ہیں۔ بحثیت صحافت کے طالب علم میری آج تک ان سے ملاقات نہیں ہے اور نہ کسی قسم کا کوئی لالچ ہے مگر جو افسران و اہلکار دلجمعی کے ساتھ کام کرنے اور جرائم کی شرح میں واضح کمی لانے کے لیے سرتوڑ کوشش کرتے ہیں ان کی خدمات کو سراہنا چاہیے تاکہ مستقبل میں ان کی کارکردگی کا تسلسل مزید متاثر کن رہے۔ چند روز قبل لاہور پولیس میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں جس میں سردست ڈی آئی جی عمران کشور کو تبدیل کر کے ڈی آئی جی ایڈمن لگا دیا گیا۔ در حقیقت جرائم پیشہ افراد کے لیے ڈی آئی جی عمران کشور خوف کی علامت بنے رہے ہیں اور ان کے تبادلہ کے بعد ان جرائم پیشہ افراد نے سکھ کا سانس لیا ہے جو کہ نیک شگون نہیں ہے میں ذاتی طور پر کسی بھی پولیس افسر یا بیوروکریٹ کے تقرر و تبادلہ پر لکھنے سے گریز کرتا ہوں مگر عوام کے وسیع تر مفاد اور جرائم میں کمی واقع ہونے کے بعد اگر جرائم پیشہ افراد سر اٹھانے لگیں تو لمحہ فکریہ ہے۔ ویسے ٹیم کا کپتان بہتر جانتا ہے کہ کس کھلاڑی کو کس نمبر پر کھلانا ہے اور میں نے پورے کیرئیر میں پولیس سمیت دیگر محکموں میں کبھی غیر ضروری کام کے لیے گزارش نہیں کی بلکہ کوئی پولیس اہلکار تبادلہ کے لیے رابطہ کریں تو میں جواب دیتا ہوں کہ جیسے آپ میرے گھر اور میں آپ کے گھر کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا اسی طرح پولیس افسران اپنے گھر کے معاملات کو چلانا بہتر سمجھتے ہیں اور میں خاموشی سے معزرت کر لیتا ہوں، میری وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز ، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ سے دست بدست گزارش ہے کہ عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی آئی جی عمران کشور کو دوبارہ او سی یو میں تعینات کیا جائے جو ہر لحاظ سے عوام کے لیے بہترین فیصلہ ہو گا۔