
دہشتگردی کے خلاف فوج کی قربانیاں اور قومی عزم
تحریر: سلمان احمد قریشی
پاکستان ایک بار پھر دہشتگردی کی ایک نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے، جس کے خلاف ہماری بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہراول دستے کے طور پر کھڑے ہیں۔ وہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ملک میں امن و استحکام قائم رکھنے کے لیئے انتھک جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان قربانیوں کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا کیونکہ یہ قربانیاں صرف ایک جنگ نہیں بلکہ نظریے، بقا اور مستقبل کی جنگ ہے۔
پاکستانی فوج نے ہمیشہ اپنے خون سے وطن کی مٹی کو سینچا ہے۔ چاہے وہ سرحدوں کی حفاظت ہو یا داخلی امن قائم رکھنے کی جدوجہد، ہمارے جوان ہر محاذ پر دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے جوانوں نے جس بہادری اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ شمالی وزیرستان، سوات، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں پاک فوج نے بے شمار آپریشنز کے ذریعے دہشتگردوں کو شکست دی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب اور آپریشن ردالفساد جیسے اقدامات نے نہ صرف دہشتگردوں کی کمر توڑی بلکہ ملک میں امن و امان بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
گزشتہ روز آرمی چیف جنرل سیّد عاصم منیر نے پاکستان کی مختلف جامعات سے آئے ہوئے طلبہ سے ملاقات کی، جو اس بات کی علامت ہے کہ فوج نہ صرف میدانِ جنگ میں دشمنوں کا مقابلہ کر رہی ہے بلکہ نوجوانوں کی رہنمائی اور فکری بیداری کے لیئے بھی کوشاں ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ “جب تک قوم، بالخصوص نوجوان، پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم کبھی شکست نہیں کھائیں گے۔” یہ الفاظ کسی نعرے سے زیادہ ایک حقیقت ہیں، کیونکہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عوام اور فوج ایک ساتھ کھڑے ہوئے دشمن کے ناپاک اور مذموم عزائم خاک میں مل گئے۔
جنرل عاصم منیر نے فتنہ خوارج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر اسلام کی من مانی تشریحات کر کے معصوم لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے سامنے سرنڈر کرنے والے افراد ہی رحم کے مستحق ہو سکتے ہیں، لیکن جو عناصر اس ملک کے امن و استحکام کو چیلنج کریں گے، انہیں کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشتگردوں کے نشانے پر رہے ہیں، لیکن ان علاقوں کے عوام نے ہمیشہ دشمن کے خلاف بھرپور مزاحمت کی ہے۔ آرمی چیف نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام دہشتگردوں کے خلاف آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ہمارے بہادر سپاہیوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اور آج بھی عوام اور فوج ایک ساتھ ان عناصر کے خلاف نبرد آزما ہیں۔
قلات میں لیویز چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، جس میں ہمارے بہادر سپاہی علی نواز نے وطن کی خاطر اپنی جان قربان کی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کے دشمنوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے اور ہم مل کر ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی دہشتگردی کو شکست دی اور آج بھی پاک فوج، عوام اور قومی قیادت اسی جذبے سے متحد ہیں۔ ہمیں اپنے مذہب، تہذیب اور روایات پر فخر ہے، اور کوئی بھی گمراہ گروہ ہمارے ملک پر اپنے نظریات مسلط نہیں کر سکتا۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم کو متحد ہونا ہو گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ دہشتگردی کے خلاف صرف فوج کی قربانیاں کافی نہیں، بلکہ ہر پاکستانی کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔ ہمیں اپنے اداروں پر اعتماد برقرار رکھنا ہو گا اور دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار ہونے سے بچنا ہو گا۔
پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے خاتمے کے لیئے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، اور ہمیں ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا ہو گا۔ دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ صرف فوج کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری قوم کو بھی اس جنگ میں متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ پاکستان کی بقا، ترقی اور استحکام کے لیئے ہمیں اپنی افواج کا ساتھ دینا ہو گا اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ہمیشہ کے لیئے خاک میں ملانا ہو گا۔
یہ جنگ صرف بندوقوں کی نہیں، بلکہ نظریات، اتحاد اور قومی یکجہتی کی جنگ ہے۔ ہمیں اپنے فوجی بھائیوں کا ساتھ دینا ہو گا، ان کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہو گا، اور اپنے وطن کی حفاظت کے لیئے ہر ممکن کردار ادا کرنا ہو گا۔ پاکستان ایک پرامن اور خوشحال ملک بنے گا، کیونکہ اس کی حفاظت پر مامور محافظ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔پاک فوج زندہ باد! پاکستان پائندہ باد!