
لمبی اننگز کی ضرورت
تحریر: سلمان احمد قریشی
کراچی میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ”ہم دودھ کے دھلے نہیں، مگر اتنے برے بھی نہیں ہیں۔ میں نے شارٹ ٹرم نہیں بلکہ لمبی اننگز کھیلنی ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ سندھ سے کوئی شکایت ہے تو میرے پاس آئیں، کہیں اور جا کر چغلی کرنے کی ضرورت نہیں۔ سندھ حکومت کو اپنا مخالف نہیں بلکہ ساتھی سمجھیں۔”بلاول بھٹو کا کہنا تھا ”کیا میں نے کبھی آپ کو تنگ کیا؟ میں کیوں چاہوں گا کہ میرے نام پر یا حکومت کے نام پر کوئی آپ کو تنگ کرے مسائل کے حل کی ذمہ داری ہماری ہے اور ہم اسے قبول کرتے ہیں۔”
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کراچی میں تاجروں سے ملاقات کی تھی، جس دوران تاجر رہنما عتیق میر نے کہا تھا کہ ”کچھ عرصے کے لیے مریم نواز ہمیں دے دیں اور مراد علی شاہ آپ رکھ لیں۔” ان کے اس بیان پر سندھ حکومت کے ترجمان سعدیہ جاوید نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی خوشامدی سے رٹا ہوا بیان کہلوانے سے زمینی حقائق نہیں بدلتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مراد علی شاہ منتخب وزیر اعلیٰ ہیں اور متعلقہ تاجر نے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے۔پیپلزپارٹی کے دیگر ترجمانوں نے بھی اس بیان کو غیر ضروری قرار دیا،سندھ حکومت کے ایک اور ترجمان سکھ دیو آسرداس ہمنانی نے کہا کہ ایک تاجر کا خوشامدی بیان پوری تاجر برادری کی سوچ کا عکاس نہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی کارکردگی پیپلزپارٹی کے منشور کا حصہ ہے، اور کسی ایک تاجر کے کچھ کہنے سے حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے۔
پیپلزپارٹی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آنے پر تاجر رہنما عتیق میر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کر کے اپنے بیان پر وضاحت پیش کی۔ عتیق میر کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو سندھ دینے کی بات میں نے مذاق میں کہی تھی۔ میں نے کسی بلدیاتی کارکردگی کے حوالے سے یہ بات نہیں کہی تھی، کیونکہ مریم نواز کون سا وہاں کارکردگی کے جھنڈے گاڑھ رہی ہیں۔ تاجر رہنما کا مزید کہنا تھا کہ مریم نواز کا معاملہ بھی اپنے والد اور چچا جیسا ہی ہے کہ“ساڈے کام نہ ویکھو، ساڈیاں آنیاں جانیاں ویکھو”(ہمارے کام نہ دیکھو، بس ہمارا آنا جانا دیکھو)۔
یہ معاملہ سیاسی اور غیرسیاسی بیانیوں کی حدود کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ سیاستدانوں کا سیاسی گفتگو کرنا ان کا حق ہے، لیکن تاجروں کو اپنی نمائندگی کرتے وقت سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔ پروفیشنل تنظیموں کے پلیٹ فارمز کا سیاسی معاملات میں الجھنا نہ صرف غیر موزوں ہے بلکہ ان کے مینڈیٹ سے تجاوز بھی ہے۔یہ مسئلہ صرف تاجروں تک محدود نہیں۔ چند روز قبل ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اوکاڑہ کے لیٹر پیڈ پر ایک سیاسی جماعت کے رہنما کے خلاف عدالتی فیصلے پر مذمتی بیان جاری ہوا۔ اس اقدام پر بھی وکلاء کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے کہ بار ایسوسی ایشن غیرسیاسی ادارہ ہے اور اسے سیاسی موقف اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں حدود اور دائرہ کار کا خیال نہ رکھنا عام ہو گیا ہے، جو بالآخر ان اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔پاکستان میں حدود سے تجاوز کرنا عام بات ہے۔ جہاں حقوق ہیں، وہاں حدود بھی ہیں، لیکن جب اس کا خیال نہیں رکھا جاتا، تو سب سے پہلے نقصان اسی شعبے کا ہوتا ہے جس سے تعلق رکھنے والی نمائندہ شخصیات ایسا کرتی ہیں۔
چند روز قبل راقم الحروف نے مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر و ایم پی اے میاں محمد منیر کا انٹرویو کیا۔ اس دوران انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کھیل اور سیاست کو الگ الگ رکھنا ضروری ہے۔ سیاست کی طرح کرکٹ بھی میاں منیر کا مضبوط حوالہ ہے، کیونکہ وہ کرکٹ بورڈ سے مختلف حیثیتوں میں منسلک رہے۔ میاں منیر نے درست کہا کہ کھیل اور سیاست کا میدان الگ الگ ہے۔
دیگر شعبہ جات سے وابستہ افراد اور تنظیمیں بھی اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور سیاسی معاملات کو سیاست دانوں پر چھوڑیں۔ حدود اور حقوق کا خیال رکھنا نہ صرف ہر فرد کا فرض ہے، بلکہ یہ معاشرتی ہم آہنگی اور ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ سیاست دان، تاجر اور دیگر طبقات ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مسائل کے حل کے لیے کام کریں تو یہی اصل اجتماعی کامیابی ہوگی۔
بلاول بھٹو زرداری کے تاجر برادری سے خطاب میں ان کا لمبی اننگز کھیلنے کا عزم قابل تعریف ہے۔ نوجوان قیادت کا مستقبل پر یقین اور مسائل کے حل کی خواہش سیاست میں ایک مثبت رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ سیاست کا مقصد اجتماعی جدوجہد ہے، جہاں ذاتی مفادات کے بجائے عوامی فلاح کو ترجیح دی جائے۔ہمیں امید ہے کہ بلاول بھٹو جیسے نوجوان سیاستدان اپنے عزم کو عملی شکل دے کر ملک کے مسائل حل کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ اسی طرح، دیگر شعبہ جات سے وابستہ افراد کو بھی اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور سیاسی معاملات کو سیاست دانوں پر چھوڑیں۔ حدود اور حقوق کا خیال رکھنا نہ صرف ہر فرد کا فرض ہے، بلکہ یہ معاشرتی ہم آہنگی اور ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ سیاست دان، تاجر اور دیگر طبقات ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مسائل کے حل کے لیے کام کریں تو یہی اصل اجتماعی کامیابی ہوگی۔بلاول بھٹو کا تاجر برادری سے مطالبہ کہ کوئی شکایت یا شکوہ ہو تو مجھ سے کریں، چغلی نہ کریں، بالکل درست ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا تاجر برادری سے خطاب ان کے سیاسی ویژن اور عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
سیاستدانوں، تاجروں اور دیگر طبقات کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہی قومی مسائل کے حل کا راستہ ہے۔ سیاست صرف وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات اور دیرپا کامیابیوں کا تقاضا کرتی ہے۔ یہی وہ لمبی اننگز ہے جو ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے ضروری ہے۔نوجوان قیادت کا لمبی اننگز کھیلنے کا ارادہ ملک کی سیاست میں استحکام اور تسلسل کے لیے خوش آئند ہے۔ سیاست اجتماعی جدوجہد کا نام ہے، جہاں ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر قوم کی بھلائی کے لیے کام کیا جاتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ بلاول بھٹو جیسے نوجوان رہنما اپنے عزم کو عملی جامہ پہنا کر ملک کو درپیش مسائل کا حل نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
سیاسی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ مستقبل کے لیے عملی اقدامات اور مضبوط پالیسیوں کے ذریعے عوام کو بہتر نتائج فراہم کرے۔ سیاست کا مقصد صرف نعرے نہیں، بلکہ دیرپا کامیابیاں اور عوام کی فلاح ہونا چاہیے۔ یہی حقیقی لمبی اننگز کا راز ہے۔