
پاکستان کا مثبت چہرہ
تحریر: سلمان احمد قریشی
پاکستان، جو دنیا کے نقشے پر ایک اہم مقام رکھتا ہے، محض ایک ملک نہیں بلکہ ایک تہذیب، ثقافت، اور تاریخ کا آئینہ دار ہے۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شامل وادیٔ سندھ کی تہذیب اسی سرزمین پر پروان چڑھی۔ موئن جو دڑو اور ہڑپہ کے آثارِ قدیمہ یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ خطہ ہزاروں سال سے علم و ہنر اور ترقی کا گہوارہ رہا ہے۔
بدقسمتی سے، آج کے عالمی میڈیا میں اکثر پاکستان کو منفی پہلوؤں سے پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قارئین کرام، ہر ملک اپنی قوم کی پہچان ہوتا ہے۔ یہ وہ اثاثہ ہے جو تاریخ، ثقافت، اور روایات کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فرد کے کردار اور انفرادیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
ملک کی عزت انسان کی عزت کا عکاس ہوتی ہے۔ اگر کوئی ملک عالمی سطح پر ترقی یافتہ، طاقتور، اور معزز سمجھا جاتا ہے تو اس کے شہری بھی دنیا میں اسی عزت کے حقدار سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح، اگر کوئی ملک مشکلات یا تنازعات میں گھرا ہو، تو اس کے شہریوں کو بھی اسی قسم کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ اپنے ملک کے وقار اور ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کرے۔
راقم الحروف کو عہدِ شباب میں بیرونِ ملک سفر اور قیام کا موقع ملا۔ ہر جگہ سب سے پہلا سوال ہوتا “کہاں سے ہو؟” جب مخاطب کو لفظ “پاکستان” سننے کو ملتا، تو ان کے تاثرات مختلف ہوتے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان نے ایٹمی طاقت کے طور پر اپنی پہچان بنائی تھی، اور پرویز مشرف کے دورِ حکومت کا آغاز تھا۔ آذربائیجان میں قیام کے دوران، وہاں کے نوجوان ہمیں ایک بہادر قوم کے نمائندے کے طور پر دیکھتے، کیونکہ وہ خود آرمینیا کے ساتھ تنازع سے گزر رہے تھے۔ ایران اور جارجیا میں ردعمل مختلف تھا، لیکن ہر جگہ یہ محسوس ہوا کہ پاکستان ہماری پہچان ہے اور ہم پاکستان کا چہرہ ہیں۔
پاکستان کا مثبت چہرہ پیش کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اپنی انفرادی اور اجتماعی کاوشوں سے ہم دنیا کے سامنے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ پاکستان ایک عظیم، پُرامن، اور ترقی یافتہ ملک ہے۔
پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے دنیا کے اہم ترین ممالک میں شامل کرتا ہے۔ چین، بھارت، ایران، اور افغانستان کے ساتھ سرحدیں ملانا، اور بحیرۂ عرب کے ذریعے خلیجی ممالک تک رسائی اسے تجارتی اور اقتصادی طور پر بے پناہ اہمیت دیتا ہے۔ گوادر بندرگاہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے تجارتی مرکز بن سکتی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کا عملی مظہر ہے، جو نہ صرف چین بلکہ وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ رابطے کا ذریعہ ہے۔
پاکستان کے شمالی علاقے، جن میں کے-ٹو اور دیگر بلند پہاڑ شامل ہیں، دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔ ہنزہ، سوات، اور گوادر جیسے دلکش مقامات قدرتی حسن کی بہترین مثال ہیں۔ پاکستان کے نوجوان تعلیمی میدان میں عالمی سطح پر اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ آئی ٹی، زراعت، اور ٹیکسٹائل انڈسٹریز میں پاکستان عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنا چکا ہے۔
ہم سب کو مل کر اپنی ثقافت، تعلیم، سیاحت، اور اقتصادی ترقی کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہوگا۔ پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔پاکستان زندہ باد!