• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • مارخورنی

    مارخورنی

    تحریر: جاوید کمیانہ

    قارئین کرام انگشت بدنداں ہو رہے ہونگے کہ مارخور کو تو عالمی سطح پر بہت اچھے انداز میں جانا پہچانا جاتا ہے مگر مارخورنی کیا ہے تو اس پر روشنی ڈالنے اور توجہ دلانے کے لیے چند محب وطن بھائیوں نے اصرار کیا کہ اس اختراع کو بھی تفصیلاً متعارف کروائیں۔
    پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے طفل مکتب بھی شناسا ہے اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے عالمی سطح پر اپنا نام کمایا اور دشمن کو لوہے چنے چبوانے میں اپنا خاص مقام رکھتی ہے کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ مارخور کے گمنام ہیرو جو ظاہر نہیں ہوتے ملک کے اندرونی و بیرونی معاملات کے باطن پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں بلکہ لمحہ بہ لمحہ کی صورتحال سے نبرد آزما بھی ہوتے ہیں۔ ملک پاکستان کے خلاف دشمن کے بچھائے ہوئے جال کو کاٹنا چال کو پہچاننا اور حال و مستقبل پر گہری نظر رکھنا ان کی اول ترجیح ہوتی ہے صحرا، چٹانوں، میدانوں اور سرحد کے آر پار تک ہر سرگرمی کو باریک بینی سے مشاہدہ اور جامع منصوبہ بندی اور تکمیل تک کے مراحل میں کن کن آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہم صرف سوچ سکتے ہیں جو میدان عمل میں ان کو ہم خراج تحسین پیش تو کر سکتے ہیں۔
    دنیا کی نمبر ون خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی (مارخور) سے جدید ٹیکنالوجی وسائل سے آراستہ اور معاشی سطح پر مستحکم عالمی خفیہ ادارے بھی کانپتے ہیں خیر میں صرف مارخور کی خوبیاں ہی بیان کرتا چلوں تو کافی اوراق درکار ہیں مگر شاید پھر بھی ان گمنام سپاہیوں اور ہیروز کا حق ادا نہ ہو سکے اس لیے میں اصل موضوع کی طرف رخ کرتا ہوں۔
    دور جدید میں سوشل میڈیا پر ملک دشمن مختلف روپ دھار کر اپنی منفی سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں اور ان ملک دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسی پلیٹ فارم پر مقابلہ کرنا پڑتا ہے تو اس کے لیے ہزاروں لوگ اگر فرائض سر انجام دیں اور وہ بھی بے لوث بلکہ یوں کہا جائے کہ اپنی نوکری یا کاروبار میں سے اپنا قیمتی وقت نکال کر اپنی جیب سے اخراجات کر کے ملک کی جو خدمت کر رہے ہیں وہ مارخور کی اضافی طاقت ہے ویسے تو ہر محب وطن پاکستانی اپنے آپ کو مارخور سمجھتا ہے کہ جب بھی وہ ملک مخالف سرگرمی دیکھے گا وہ فوری اس سر کی گرمی اتارنے میں اپنے جذبات کو قابو نہیں رکھے گا اور کسی بھی اندرونی و بیرونی خلفشار کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا مگر میں حیرت زدہ رہ گیا کہ اس میں ایک کثیر تعداد خواتین کی بھی ہے جو ملک سے اور مارخور سے محبت میں اپنا وقت صرف کر کے ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں اور ماضی میں غیر مسلم دشمن ایجنسیاں اپنی خواتین کو پیسوں کا لالچ دے کر اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرتی تھیں مگر میں سلام پیش کرتا ہوں ہماری ان غیرت مند، تعلیم یافتہ،باکردار ،حیا کا پیکر،خاندانی اور باپردہ خواتین کو جو بنا لالچ اور اخلاقیات کا دامن تھامے مارخور قافلہ کی صف میں شامل ہو کر سوشل میڈیا پر ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں تو چند بھائیوں نے کہا کہ ان نڈر خواتین کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی دلجوئی کرنی چاہیے اور ان کو مارخورنی کا خطاب دینا چاہیے تاکہ یہ جانباز خواتین فخر محسوس کرتے ہوئے اس سے زیادہ جذبے کے ساتھ مارخور اور ملک کی سلامتی کے لیے ہمیشہ ہراول دستہ بن کر ابھریں۔ یہ واضح ثبوت ہے کہ ملک کی محبت سے سرشار وطن کی یہ بیٹیاں مارخور سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتی ہیں اور ان کی کسی قسم کی نہ تو کوئی تربیت کی گئی ہے نہ ادارے کی طرف سے ان کو مجبور کیا گیا اور ممکن ہے ان کی کبھی کسی مارخور فرد سے ملاقات بھی نہ ہوئی ہو مگر کون سی بات کونسا جذبہ ان کے اندر پنہاں ہے کہ صبح سے شام تک اپنی فوج اور مارخور کی اخلاقی مدد اور دفاع کے لیے ایک جذبے کے تحت فریضہ سمجھ کر کام میں مشغول ہیں۔
    میری ذاتی رائے اوور خواہش ہے کہ مارخور کے آفیشل ادارے کی جانب سے بالخصوص ملک کی ان بیٹیوں اور مارخور کے بازو بنے مرد حضرات کی عزت افزائی کرنی چاہیے تاکہ سوشل میڈیا پر ہزاروں کی تعداد میں کام کرنے والے خواتین و حضرات مزید پر اعتماد ہو کر دشمن کی ہر چال اور منفی پراپیگنڈہ کو ناکام بنا سکیں۔

    243 مناظر