• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • میرا مستقبل

    تحریر: سلمان احمد قریشی

    مستقبل ایک ایسا غیر معین وقت ہے جو حال کے بعد آتا ہے، اور قوانینِ طبیعیات کے تحت اس کی آمد یقینی ہے۔ حقیقت اور مستقبل کی ناگزیر فطرت ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ ہر وہ شے جو موجود ہے، وہ کسی نہ کسی شکل میں مستقبل میں بھی موجود ہوگی۔ انسان ہمیشہ اپنے مستقبل کے بارے میں جاننے کی خواہش رکھتا ہے۔ اسی لیے وہ کبھی ستاروں کا حساب لگواتا ہے، کبھی خوابوں کی تعبیر جاننے کی کوشش کرتا ہے، اور کبھی ہاتھوں کی لکیروں یا نام کے اعداد پر غور کرتا ہے۔ ان تمام اعمال کی بنیاد صرف ایک چیز ہے مستقبل کی آگاہی کی خواہش۔یہ آگاہی ہی ہے جو انسان کو فکر مند کرتی ہے، اور فکر ہی تدبیر کو جنم دیتی ہے۔ کامیاب مستقبل کا راز یہ ہے کہ انسان بروقت درست فیصلے کرے، اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے محنت، حکمت، اور منصوبہ بندی سے کام لے۔ اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔
    آج کا دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے، جہاں روایتی تعلیم کے ساتھ فنی مہارت بھی ضروری ہو چکی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک نئی جہت دی ہے، اور نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو سیکھیں اور اپنائیں۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ آج کی دنیا میں ٹیکنالوجی نے ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جغرافیائی حدود کو ختم کرکے دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے۔ ای کامرس نے اقتصادی ترقی کو ایک نیا موڑ دیا ہے، جہاں کاروبار روایتی حدود سے نکل کر عالمی سطح پر پھیل گئے ہیں۔ آج کی دنیا میں کامیابی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو ٹیکنالوجی کے استعمال کو اپنی مہارت کا حصہ بناتے ہیں۔
    یہ خوش آئند بات ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ نجی شعبہ بھی آئی ٹی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ جماعت اسلامی کا بنو قابل پروگرام ایک روشن مثال ہے، جو نوجوانوں کو آئی ٹی کی تربیت فراہم کر رہا ہے۔ ایسے اقدامات ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔عصرِ حاضر میں ریاستوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے فلاحی اداروں کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ادارے حکومت وقت کے شانہ بشانہ نہ صرف عوام الناس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کرتے ہیں بلکہ ملک و قوم کی بہتری کے لیے وسائل پیدا کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ چاہے کوئی ملک پسماندہ ہو، ترقی پذیر ہو یا ترقی یافتہ، فلاحی اداروں کی موجودگی وہاں کے سماج کا لازمی جزو سمجھی جاتی ہے۔
    فلاحی ادارے معاشرتی مسائل کے حل اور عوامی زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ خطوں، جیسے یورپ، میں بھی بے شمار فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں جو سماجی خدمات اور انسانی فلاح کے لیے وقف ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں مساوات، ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے بھی کوشاں رہتے ہیں۔
    الحمد للہ، ہمارے وطنِ عزیز پاکستان میں بھی کئی فلاحی ادارے کامیابی سے کام کر رہے ہیں، جو انسانی خدمت اور فلاح و بہبود کے اصولوں پر عمل پیرا ہیں۔ ایک بہترین مثال فضل دین فاؤنڈیشن کی دی جا سکتی ہے، جو مختلف شعبہ جات میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ ایسے اداروں کی تشکیل کے پیچھے اکثر کسی شخصیت کا خواب اور خدمتِ خلق کا جذبہ ہوتا ہے، جو ان کے قیام کی وجہ بنتا ہے۔ایسے ادارے کامیابی سے چلانے کے لیے نہ صرف سرمائے بلکہ وقت، محنت اور لگن کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تمام معاملات تب ہی احسن انداز میں انجام دیے جا سکتے ہیں جب ان کی بنیاد احترامِ انسانیت اور خالص عوامی فلاح کے اصولوں پر ہو۔
    انسانیت کی خدمت ہی اصل عبادت ہے اور یہی سبق ہمیں ہمارے دینِ اسلام سے بھی ملتا ہے۔ قرآن و سنت ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ معاشرے کے محروم طبقات کی مدد اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا نہ صرف ایک دینی فریضہ ہے بلکہ ایک قومی ذمہ داری بھی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر فلاحی اداروں کی مدد کریں۔ مدد صرف مالی معاونت ہی نہیں ایسے ادروں اور شخصیات کی اہمیت کو تسلیم کریں۔سب کی ذمہ داری ہے کہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہر فرد کو اس کے بنیادی حقوق میسر ہوں، اور وہ باعزت زندگی گزار سکے۔ یہی راستہ قوموں کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے۔
    اوکاڑہ کے مشہور بزنس مین اور سماجی شخصیت چوہدری فیاض ظفر نے میرا مستقبل انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے نوجوانوں کو ویب ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اور ای کامرس جیسے جدید کورسز مفت فراہم کرکے ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ نہ صرف نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کر رہا ہے بلکہ انہیں معاشی خودمختاری کی جانب بھی گامزن کر رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ میں جدید لیبز، تجربہ کار اساتذہ، اور عملی تربیت کے ایسے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں جو نوجوانوں کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرتے ہیں۔ ان کا یہ کام واقعی ایک نعمت ہے اور اوکاڑہ کے نوجوانوں کے لیے ترقی کی راہ ہموار کر رہا ہے۔اس کے ساتھ فضل دین فاؤنڈیشن کے تحت خواتین کے تربیتی مراکز، فری اسپتال، اور دیگر فلاحی ادارے بھی کام کر رہے ہیں۔ خواتین کے لیے خاص طور پر ہنر سکھانے کے پروگرامز، سلائی کڑھائی، اور کمپیوٹر کی تربیت شامل ہے تاکہ وہ بھی اپنے گھر کی معیشت میں کردار ادا کر سکیں۔
    میرا مستقبل انسٹی ٹیوٹ جیسے ادارے پورے ملک میں قائم کیے جائیں تو یقیناً ہمارے ملک میں ایک انقلابی تبدیلی آسکتی ہے۔ اگر ہر ضلع میں ایسا انسٹی ٹیوٹ قائم ہو، جہاں نوجوانوں کو فنی تربیت کے ساتھ رہنمائی اور مواقع فراہم کیے جائیں، تو بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہے۔ یہ ادارے نہ صرف روزگار فراہم کریں گے بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ ہمیں بطور قوم اس سوچ کو اپنانا ہوگا کہ صرف دعوے اور نعرے کافی نہیں، بلکہ عمل کے ذریعے اپنے مستقبل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو نوجوانوں کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے اور حکومتی اداروں کے لیے بھی قابلِ عمل بنایا جائے۔ نجی و سرکاری تعاون سے جدید مہارتوں کو عام کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میدان میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ نوجوانوں کے لیے یہ مواقع نہ صرف روزگار کے مسائل حل کریں گے بلکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔
    اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کو درست رہنمائی فراہم کی، انہیں فنی مہارتیں سکھائیں، اور ان کی حوصلہ افزائی کی، تو وہ نہ صرف خود کامیاب ہوں گے بلکہ ملک و قوم کا نام بھی روشن کریں گے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اپنے نوجوانوں کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کریں جہاں سے وہ ترقی کی منازل طے کر سکیں۔ یہی کامیاب اور خوشحال مستقبل کی ضمانت ہے۔
    آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو وہ پلیٹ فارم فراہم کریں جہاں سے وہ ترقی کی منازل طے کر سکیں۔ ایسے ادارے صرف تعلیمی نہیں بلکہ سماجی انقلاب کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ہمارا مستقبل نوجوانوں کی قابلیت اور جذبے سے جڑا ہے۔ اگر ہم نے ان کی رہنمائی کی، انہیں ضروری وسائل مہیا کیے، اور حوصلہ افزائی کی، تو نہ صرف ان کے خواب حقیقت میں بدلیں گے بلکہ ہمارے ملک کا مستقبل بھی روشن ہوگا۔
    ” آگے بڑھنے کا وقت ہے، خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا وقت ہے۔”

    294 مناظر