• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • ماضی  کی روشنی میں نئے سال کا عزم

    تحریر: عاصمہ حسن

    یہ ایک سال بھی بیت گیا ساتھ میں کچھ کھٹی  اور کچھ میٹھی یادیں دے گیا ـ وقت کی ایک خاصیت ہے کہ  یہ اچھا ہو یا بُرا گزر  ہی جاتا ہے ـ زندگی کے اس سفر میں ہمیں کئی مرحلوں  سے گزرنا پڑتا ہے کچھ واقعات اچھے ثابت ہوتے ہیں لیکن بیشتر ہمیں کندن بنانے کے لیے ہوتے ہیں ـ

    ماہ و سال تو گزرتے جاتے ہیں لیکن سب سے اہم وہ تجربات ہوتے ہیں جو ہمیں بہت کچھ سکھا جاتے ہیں ـ ہر نیا دن ہمیں نئے امتحانات سے گزارتا ہے پھر دن کے اختتام پر ہمارے پاس بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جس سے ہم سیکھتے ہیں ـ اسی طرح دن سے ہفتہ ‘ ہفتے سے مہینہ’ اور مہینے سے سال بھی پَر لگا کر اُڑ جاتا ہے ـ پھر ہم اکثر لوگوں کو یہ کہتے سنتے ہیں کہ یہ سال تو بہت جلدی گزر گیا ہے ـ لیکن اہم یہ ہے کہ ہم نے گزرے وقت سے کتنا سیکھا ؟ اور خود  میں کیا تبدیلی لائے ؟  

    ہر سال کے اختتام پر یہ ایک روایت بن گئی ہے کہ سب نئے سال کے عزائم   کی بات کرتے ہیں  لیکن   اہم یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ اس گزرنے والے سال میں ہم نے  کیا کھویا ‘ کیا پایا اور  کن تجربات سے گزرے اور ان سے کیا سیکھا ؟ کیا ہم نے اپنے علم یا ہنر کو ضرب دے کر تقسیم کیا ؟  

    ہمیں  اپنی کارکردگی کا خود جائزہ لینا چاہئیے تاکہ ہم اپنی کمیوں’ کوتاہیوں ‘ ناکامیوں سے سیکھ سکیں اور ان غلطیوں کو دوبارہ نہ دہرائیں ـ ہمیں وقت کے ساتھ خود میں تبدیلی لانی چاہئیے اور  ہر دم کچھ نیا سیکھتے رہنا چاہئیے تاکہ خود کو وقت کی دوڑ میں شامل  رکھ  سکیں اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں کہیں  اپنی وقعت نہ کھو دیں  ـ جو لوگ خود  کو وقت کے ساتھ نہیں بدلتے اور نئے علوم حاصل نہیں کرتے ‘ خود کو اپنے ہنر کو  ‘ صلاحیتوں کو بہتر نہیں بناتے ‘  وہ بہت پیچھے رہ جاتے ہیں ـ ان کی زندگی وہیں رک جاتی ہے کیونکہ ان کی نمو نہیں ہو پاتی  یعنی  وقت کے ساتھ ان میں  بہتری یا تبدیلی  نہیں آتی ـ

    سال کے آخر میں یہ سوچیں کہ جو مقاصد یا اہداف ہم نے ترتیب  دیے  تھے کیا ان کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ؟ اگر ہوئے ہیں تو کتنے فیصد کامیابی حاصل ہوئی اور اگر نہیں ہوئے یا کوئی کمی بیشی رہ گئی ہے تو کیسے ان کو نئی حکمتِ عملی کے ساتھ آنے والے سال میں پورا کیا جا سکتا ہے ـ

    ہم چاہے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتے ہوں ‘ طالبعلم ہوں یا  عملی زندگی کا آغاز کر چکے ہوں ‘ چھوٹے ہوں یا بزرگ سب کے کچھ نہ کچھ خواب ہوتے ہیں ـ سب سوچتے ہیں اور اپنے خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے منصوبہ بندی بھی کرتے ہیں ـ 

    اپنے آپ کو جانیں کہ آپ کرنا کیا چاہتے ہیں اور  نئے  سال میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ـ ہم سب کے  عزائم ہوتے ہیں جن میں کچھ مختصر مدت کے مقاصد ہوتے ہیں اور کچھ طویل مدتی مقاصد ہوتے ہیں ـ اہداف  چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے ان کو کسی کاغذ’ ڈائری’  کمپیوٹر’ یا موبائل میں لکھ لیں اور ترجیح کی نوعیت پر فہرست بنا لیں اور اپنی نظروں کہ سامنے رکھیں تاکہ یاداشت میں محفوظ ہو جائے ـ کیوں کہ یہ ہمیں تحریک  یا قوت دیتے ہیں اور ہمیں ہمارے مقصد سے جوڑے رکھتے ہیں ـ اس کے ساتھ ساتھ اپنے پچھلے سال کے تجربات بھی ذہن میں رکھیں کیونکہ ان سے حاصل کیا گیا سبق ہماری رہنمائی اور نئی حکمت عملی بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ـ

     اپنی ذہنی غذا کا اہتمام کریں یعنی ایک فہرست بنائیں اُن کتابوں کی جو آپ نے اس آنے والے سال میں پڑھنی ہیں ـ کیونکہ  ذہنی صحت کے لیے مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے ـ  کامیاب لوگوں کی اور خاص طور پر ان لوگوں کی جیسا آپ بننا چاہتے ہیں’ ان  کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ ہم اپنے حلقہ احباب سے بہت کچھ سیکھتے ہیں ـ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی ان لوگوں کی عادات کو اپنا لیتے ہیں جو ہمارے اردگرد ہوتے ہیں یا جن کے ساتھ ہمارا اٹھنا بیٹھنا اور زیادہ وقت گزرتا ہے لہذا سوچ سمجھ کر اپنے دوستوں کا انتخاب کریں ـ

    روح کی غذا کے لیے تفریحی مقامات کی فہرست تیار کریں تاکہ آپ خود کو تروتازہ  رکھ سکیں ـ اپنی صحت و تندرستی کے حوالے سے اپنے اہداف متعین کریں کیونکہ جان ہے تو جہان ہے ـ 

    بقول ٹونی روبنس :

    ” اپنے جسم کو تیار رکھنے کا مطلب ہے کہ آپ ذہنی اور جزباتی طور پر جو چاہتے ہیں ‘ وہ کرنے کے لیے آپ کا جسم آپ کے ساتھ کھڑا ہو ـ”

    ہمارے اہداف قابلِ حصول ہونے چاہئیے ـ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ مقصد کوئی بھی ہو ہم ایک ہی رات میں ان کو حاصل نہیں کر سکتے ـ ان کو  چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کریں تاکہ آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف پیش قدمی کی جا سکے ـ راستے میں آنے والی مشکلات سے نہ گھبرائیں ـ کیونکہ جیسا ہم سوچتے ہیں ویسا اکثر  نہیں ہوتا ہر قدم پر ہمارے لیے چیلنجز ہوتے ہیں اور ہم نے اپنی سوچ اور توانائیوں کے ذریعے ان مسائل کو مواقع میں تبدیل کرنا ہوتا ہے ـ

    تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

    یہ تو چلتی  ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

    ٹونی روبنس کہتے ہیں کہ ” اگر زندگی میں ہر شے ہماری توقعات کے مطابق ہو جائے تو زندگی کا حُسن اور قدر ہی ختم ہو جائے ـ ”

    ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمارے خواب صرف ہمارے ہوتے ہیں ـ ان کی اہمیت صرف ہم جانتے ہیں اور ان کو ہم ہی اپنی محنت’ لگن اور جستجو سے حاصل کر سکتے ہیں ـ کسی دوسرے کو ہماری کامیابی اور ناکامی سے  کوئی فرق نہیں پڑتا لہٰذا لوگوں کا نہیں اپنا سوچیں اور وہ کام کریں جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ آپ کو آپ کی منزل کے قریب لے جائے ـ زندگی ایک بار ملتی ہے کیوں نہ اس کو جیا جائے ـ

    وقت کا مناسب اور درست سمت میں استعمال ہی کامیابی کا اصل  نسخہ ہے ـ اپنے خوابوں کو پانے کے لیے اپنے خول یا کمفرٹ زون سے باہر آنا ضروری ہے ـ صرف خواب دیکھ لینا کافی نہیں ہوتا ان کو حاصل کرنے کے لیے پہلا قدم بہت اہمیت رکھتا ہے ـ کیونکہ خواب تو بہت سارے لوگ  دیکھ لیتے ہیں لیکن بہت کم لوگ ان کی تعبیر کے لیے اپنی جان لگاتے ہیں ‘ محنت کرتے ہیں ‘ خطروں سے کھیلتے ہیں ‘ اپنے تجربات سے ‘ ماضی میں کی گئی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے گرتے اور سنبھلتے  ہوئے آگے بڑھتے ہیں ـ

    گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں —– 

    تجدید نو کرنا بہت اہم ہے لیکن اپنا محاسبہ کرنا ‘اپنی توانائیوں’ علم ‘ ہنر کو بڑھانا اور تجربات سے سیکھنا سب سے اہم ہے ـ  خود پر اپنی سوچ پر کام کریں ـ وقت کی ضروریات کے مطابق خود کو اپ ڈیٹ کریں تاکہ زندگی کےسفر میں کبھی مایوسی کا شکار نہ ہوں –

    165 مناظر