• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • بے نظیر کانام دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ بے نظیر ہی رہے گا

    تحریر: سلمان احمد قریشی

    شہید بنتِ شہید، مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم، محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی جدوجہد، قربانی، اور جمہوری عزم کی ایک لازوال داستان ہے۔ ان کی سیاسی زندگی پر بے شمار تحریریں لکھی جا چکی ہیں، اور یہ موضوع ابھی بھی ادب و تحقیق کا مرکز ہے۔ راولپنڈی کی 27 دسمبر 2007 کی وہ سرد شام بھلا کون بھول سکتا ہے جب ایک بہادر باپ کی بے مثال بیٹی کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ ظالموں کی بھول تھی کہ ان کے قتل سے ان کی کہانی ختم ہو جائے گی، کیونکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا عزم اور نظریہ آج بھی ”زندہ ہے بی بی زندہ ہے” کے نعرے کی گونج میں زندہ ہے۔
    بے نظیر بھٹو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہیں جو ہمت، استقامت، اور انتھک جدوجہد کا مظہر ہے۔ وہ جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی زندگی بھر لڑتی رہیں اور ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے عوام کے لیے ایک بہتر مستقبل کا خواب دیکھتی رہیں۔ ان کی قیادت نہ صرف خواتین کے لیے ایک تحریک تھی بلکہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے بھی امید کی کرن ثابت ہوئی۔ ان کی شہادت نے اس بات کو ثابت کیا کہ نظریے اور قربانیوں سے مزین شخصیات کبھی نہیں مرتیں، بلکہ وہ قوموں کے ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔بے نظیر بھٹو کا ذکر صرف ماضی کے ایک باب کے طور پر نہیں، بلکہ ان کے وژن اور قربانیوں کو سمجھنے اور آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کو وہ منزل مل سکے جس کا خواب انہوں نے دیکھا تھا۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی ایک عظیم جدوجہد، قربانی، اور جمہوری عزم کی ایسی کہانی ہے جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ زندہ رہے گی۔ وہ شہید باپ کی بیٹی اور ایک ایسے خاندان کی فرد تھیں جنہوں نے پاکستان کی سیاست میں نہ صرف نئے باب رقم کیے بلکہ عوام کی خدمت اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنی جان تک قربان کر دی۔
    ذوالفقار علی بھٹو کی یہ ہونہار بیٹی تعلیم کے میدان میں بھی بے نظیر ثابت ہوئیں۔ انہوں نے ہارورڈ اور آکسفورڈ جیسے عالمی شہرت یافتہ اداروں سے تعلیم حاصل کی، جہاں ان کی ذہانت اور قائدانہ صلاحیتوں نے سب کو متاثر کیا۔ اپنے والد کی شہادت کے بعد، جب خاندان کو ظلم و جبر کا سامنا تھا، بے نظیر نے اپنی والدہ نصرت بھٹو کے ساتھ جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا۔ یہ ان کی ہمت اور استقامت ہی تھی کہ آمریت کے اندھیروں میں وہ امید کی کرن بن کر ابھریں۔
    اردو ادب میں دسمبر کی اداس شاموں کا ذکر ہمیشہ سے گہرے جذبات اور حساس کیفیات کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے، لیکن 27 دسمبر 2007 کی شام نے ان تمام اداس شاموں کو ایک المیہ کی شکل دے دی، جس کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں۔ اس روز دنیا نے ایک ایسا خونی منظر دیکھا جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑ گیا۔یہ المناک لمحہ، جب جمہوریت کی علمبردار اور عوام کی امیدوں کی کرن، محترمہ بے نظیر بھٹو کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، کسی بھی انسان کے لیے ناقابلِ فراموش ہے۔ وہ درد، جو دلوں کو چھلنی کر دے، وہ دکھ، جو روح کو زخمی کر دے، صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پوری قوم پر ایک گہری خاموشی چھا گئی، اور دنیا نے آنکھوں میں آنسو اور دل میں کرب کے ساتھ یہ سانحہ دیکھا۔27 دسمبر کی شام نے نہ صرف ایک فرد کو ہم سے چھین لیا بلکہ ایک عہد، ایک نظریہ، اور ایک امید کو زخمی کر دیا۔ یہ المیہ صرف ایک شخص کا نہیں بلکہ پوری قوم کا تھا، جو آج بھی اس زخم کو اپنے دل میں محسوس کرتی ہے۔ اردو ادب کی یہ روایت رہی ہے کہ دکھ، کرب اور جدائی کے لمحات کو ہمیشہ احساسات کی گہرائیوں سے بیان کیا گیا ہے، لیکن 27 دسمبر کی اس شام کے رنج و الم کو بیان کرنے کے لیے شاید الفاظ ہمیشہ کم رہیں گے۔ یہ وہ دکھ ہے جو ہر بار یاد آنے پر دلوں کو رلا دیتا ہے اور ہر سال دسمبر کو مزید اداس کر دیتا ہے۔
    پاکستان کو دولخت کرنے کی سازش نے قوم کے دل میں گہرے زخم چھوڑ دیے، لیکن قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بصیرت اور قیادت سے قوم کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر دنیا کے سامنے پورے قد سے کھڑا کر دیا۔ ارض پاک کو ایک ناقابل تسخیر ایٹمی قوت بنایا، جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کیا، اور عوام کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کر کے پاکستان کو ایک روشن مستقبل کی راہ پر گامزن کیا۔ لیکن یہ کامیابیاں دشمنوں کو کیسے برداشت ہو سکتی تھیں بھٹو کو راستے سے ہٹا دیا گیا، اور پاکستان ایک بار پھر اندھیروں میں ڈوب گیا۔ خوشیاں ماتم میں بدل گیئں۔ قوم کا حوصلہ توڑنے کے لیے ظلم و جبر کا ماحول بنایا گیا۔ جھوٹ ا کابازار گرم رہا۔ مایوس کی شکار قوم کو جواں سالہ آنسہ بے نظیر بھٹو نے جینے کی نئی امنگ دی۔ جوان اور لاڈلے بھائی میر شاہنواز کا مردہ جست خاکی باپ کے پہلو میں سپرد خاک کیا لیکن وطن کی محبت اور عوام کی خدمت کے جذبہ میں کمی نہ آئی۔ انتقام کی بے جائے عوام کا سوچا۔ 1988کو پاکستان میں عوامی راج قائم کیا۔اسلامی ممالک میں پہلی خاتون وزیراعظم بن کر روشن مثال قائم کی۔ ایک نہتی لڑکی نے مردوں کے سماج میں اپنی برتری ثابت کی۔حکومت میں آکر ترقی کے نئے دور کاآغاز کیا۔ یہ تھیں قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو جو نہ ڈری نہ جھکی پہلے عوام کی طاقت سے آگے بڑھی۔عالمی افق پر پاکستان کی آواز بنی۔ غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی طاقت بنی۔وہ کچھ کرنے میں کامیابی ہوئیں جسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔فلاحی منصوبے شروع کرنے کے ساتھ ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی۔ آج 2024میں امریکہ کو پاکستان کے بین براعظمی میزائلسے خطرہ محسوس ہورہا ہے۔ کاش آج بی بی زندہ ہوتی تو وہ پاکستان کا مقدمہ خود لڑتیں۔
    بے نظیر نے اپنی زندگی میں کئی ناقابل بیان سانحات دیکھے۔ مرتے دم تک جمہوریت کے لیے لڑنے والے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کی المناک شہادت کے باوجود، انہوں نے نہ انتقام کا راستہ اختیار کیا اور نہ ہی ہمت ہاری۔ عوام کی خدمت اور ملک کی ترقی ان کا واحد مقصد رہا۔ اپنے عزم سے دنیا کو دکھایا کہ ایک عورت بھی کسی سے کم نہیں۔ 5 جولائی 1977 کی سیاہ رات کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے جمہوریت کو بحال کیا۔ انہوں نے فلاحی منصوبوں کے ذریعے عوام کی زندگی میں خوشحالی لانے کی کوشش کی اور عالمی سطح پر پاکستان کی ایک مضبوط اور باوقار آواز بنیں۔
    آج 2024 میں بے نظیر بھٹو کی غیر موجودگی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ ان کی قیادت کا خلا آج بھی پر نہیں ہو سکا، اور وہ قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی، ایک ایسی رہنما کے طور پر جو نہ ڈری، نہ جھکی، اور ہمیشہ عوام کے لیے لڑتی رہی۔ؒآج محترمہ بینظیر بھٹو اپنی جان قربان کرکے ہم میں موجود نہیں، میں اور آپ ہی سوگوار نہیں اس المیہ پر تاریخ بھی ماتم کررہی ہے۔سفاک قاتلوں نے تیسری دنیا کی عظیم لیڈر کو چھینا جو وفاق پاکستان کی علامت تھی۔شہید جہموریت محترمہ بے نظیر بھٹو نے 18اکتوبر سانحہ کار ساز کراچی کے باوجود یہ جانتے ہوئے بھی انکی جان کو خطرہ ہے ملک اور جمہوریت کے لیے سرگرم رہیں۔
    بے نظیر عالمی سطح کی بے مثال لیڈر تھیں پوری دنیا کے لیڈروں نے ان کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قرارداد منظور کی۔ستم ظرفی محترمہ بے نظیر کے قاتلوں کے ہم خیال اور نظریاتی ہم آہنگی رکھنے والے پاکستان کے کچھ سیاستدانوں اس قتل کے محرکات اور کرداروں کی حمایت میں سرگرم رہے اس قتل کا الزام پارٹی لیڈرشپ پر لگاتے رہے تاکہ اصل کردار قوم کی نظروں سے اوچھل رہیں یہی کردار پاکستان کی جمہوریت اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے اصل دشمن اور مخالف تھے۔اس وقت کے وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر چیمہ نے پے در پے بیانات بدلے، جائے وقوعہ سے سارے نشانات حملے کے بعد فوری مٹادئیے گئے قاتلوں کو بچانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا گیا۔تاہم محترمہ بے نظیر بھٹو نے مارک سیگل کو ای میل پیغام میں اپنے قاتلوں کا تعین خود ہی کردیا تھا۔ایک بہت کی تکلیف دہ حقیقت بانی چیرمین پی ٹی آئی عمران خان واحد پاکستانی سیاستدان ہیں جہنوں نے آج تک بلاول بھٹو سے انکی والدہ کی شہادت پر اظہار تعزیت نہیں کیا۔ یہی وہ سوچ ہے جس کی وجہ سے آج پاکستان کی سیاست میں اختلاف رائے دشمنی، نفرت میں بدل چکا ہے۔ سیاست بندگلی میں داخل ہوچکی ہے۔
    ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بھٹو خاندان کی چوتھی فرد تھیں جو قتل کردی گئیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس مشعل کو روشن رکھا جو انکے والد قائد عوام نے جلائی تھی۔طاقت کے بل بوتے اور خفیہ سہاروں کے بل بوتے پر کچھ شخصیات ایوان اقتدار میں براجمان ہوسکتے ہیں لیکن وہ اپنے جیتے جی اور موت کے بعدبھی عوام کی حقیقی محبت، احترام کے حقدار نہیں ہوسکتے جو بھٹو خاندان کا طرہ امتیاز ہے۔تعصب اور دشمنی کی عینک اتار کر کوئی بھی پاکستان کی تاریخ لکھنے بیٹھے تو وہ بھٹو اور بے نظیر سے اوپر کسی سیاسی رہنما کو فائز نہیں کرسکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی طرح بے نظیر بھٹو بھی کرشماتی شخصیت ہیں۔سیاست میں مقبولیت میں اضافہ اور کمی ایک الگ معیار ہے لیکن کرشماتی شخصیت ہونا الگ معاملہ ہے۔ بینظیر کانام دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ بے نظیر ہی لکھا جاتا رہے گا۔

    229 مناظر