• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • تباہ کن سیاست کا خاتمہ کیسے ممکن ہے ۔۔۔؟

    تحریر: سلمان احمد قریشی

    سال 2024 کے اختتام پرپاکستان کی سیاست ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے اور سیاسی استحکام کے لیے مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا ہے۔ اگرچہ یہ پہلا موقع نہیں جب اس نوعیت کی بات چیت کی کوشش کی گئی ہو، لیکن ماضی میں ناکامیوں نے اس عمل کو مشکوک بنا دیا ہے۔پی ٹی آئی کے حالیہ رویے اور حکومت کی جانب سے غیر سنجیدہ بیانات نے بداعتمادی کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ملک میں بڑھتی سیاسی کشیدگی اور عوامی مسائل کے تناظر میں سوال یہ ہے کہ تباہ کن سیاست کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
    پاکستان میں سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا عمل ناگزیر ہے۔ تاہم اس عمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں جانب سے سنجیدگی اور لچک کا مظاہرہ کیا جائے۔ ماضی میں یہ دیکھا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے نفرت آمیز بیانیے کا سہارا لیتے رہے، جس نے مسائل کے حل کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ کر دیا۔
    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت ایک مثال ہے کہ کیسے ایک رہنما ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ بھٹو نے ایک تقسیم شدہ قوم کو متحد کرنے کی کوشش کی اور 1973 کا متفقہ آئین دیا۔ آج، جب ملک ایک بار پھر سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، بھٹو جیسی بصیرت کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔تاہم، موجودہ حالات میں فوج کا کردار مختلف نظر آتا ہے۔ ماضی کے برعکس، پاکستانی فوج نے سیاسی معاملات سے دوری اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے اور نو مئی 2023 کے واقعات میں ملوث افراد کو سزا دے کر قانون کی بالادستی کا پیغام دیا ہے۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کا سیاسی ایجنڈا نہیں، لیکن سیاست دانوں کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔تباہ کن سیاست کا خاتمہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام سیاسی جماعتیں ایک مشترکہ ایجنڈے پر متفق ہوں۔ یہ ایجنڈا عوامی مسائل کے حل، جمہوری اقدار کے تحفظ، اور سیاسی عدم استحکام کے خاتمے پر مبنی ہونا چاہیے۔نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دینا اور ان واقعات کے ماسٹر مائنڈز کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔ لیکن یہ عمل سیاسی انتقام کے تاثر سے بالاتر ہونا چاہیے۔
    دونوں فریقین کو ایک دوسرے پر اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ طنزیہ بیانات اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا جائے۔مذاکرات کا عمل محض وقتی نہیں ہونا چاہیے۔ اسے ایک طویل مدتی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے تاکہ سیاسی استحکام ممکن ہو سکے۔پارلیمنٹ کو عوام کے مسائل کے حل کا مرکز بنایا جائے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو پارلیمنٹ کے ذریعے مسائل حل کرنے کی روایت کو فروغ دینا ہوگا۔
    حالیہ مذاکراتی عمل میں دونوں جماعتوں کی کمیٹیوں نے بند کمرہ اجلاس منعقد کیا اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ لیکن مذاکرات کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے مؤقف کو سنیں اور اپنے اپنے ایجنڈے میں لچک دکھائیں۔ اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ اگلے اجلاس میں پی ٹی آئی اپنے مطالبات پیش کرے گی۔جاری اعلامیہ کے مطابق اگلا اجلاس دو جنوری 2025 کو منعقد ہوگا۔اجلاس کے اختتام پر دونوں مذاکراتی کمیٹیوں کے مشترکہ اعلامے کو پڑھ سناتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ’مذاکرات کے عمل کو دونوں کمیٹیوں نے خیر سگالی کا اظہار کرتے ہوئے آج کے اجلاس کو نہایت مثبت پیش رفت قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں مذاکراتی کمیٹیوں نے توقع ظاہر کی پارلیمنٹ مسائل حل کرنے کا اہم فورم ہے اور مذاکراتی عمل کو جاری رہنا چاہیے۔سینیٹر عرفان صدیقی کے مطابق حزب اختلاف کی کمیٹی نے اپنے ابتدائی مطالبات کا خاکہ پیش کیا، طے پایا کہ اگلے اجلاس میں حزب اختلاف کی کمیٹی اپنے تحریری مطالبات اور شرائط کار پیش کرے گی تاکہ اس دستاویز کی روشنی میں بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
    حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کا عمل نیک شگون ہے مذکرات کا عمل جمہوریت کا حسن ہے، حکومت اور حزب اختلاف کا مل بیٹھنا جمہوریت کو مضبوط بنائے گا۔پارلیمان 24 کروڑ عوام کا منتخب ادار ہے اور عوام کو پارلیمان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں، ملک کی موجودہ صورت حال سیاسی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا تقاضا کرتی ہے۔کمیٹی اجلاس میں سابق سپیکر راجہ پرویز اشرف، سید نوید قمر، ڈاکٹر فاروق ستار، علیم خان بھی موجود ہیں۔حزب اختلاف کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی میں سابق سپیکر اسد قیصر، صاحبزادہ حامد رضا اور سینیٹر علامہ ناصر عباس شامل ہیں۔
    سال 2024 کے اختتام پر مذاکرات کا آغاز ایک نیک شگون ہے۔ دونوں فریقین کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوامی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو سمجھنا ہوگا کہ عوام کی امیدیں پارلیمنٹ سے وابستہ ہیں، اور اس اعتماد کو ٹھیس پہنچانا جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔پاکستان اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ تباہ کن سیاست کو ختم کرنے کے لیے لازم ہے کہ سیاسی قیادت ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دے۔ مذاکرات کے ذریعے سیاسی ہم آہنگی کو فروغ دے کر ہی پاکستان بند گلی سے نکل سکتا ہے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
    پاکستان کی عوام طویل عرصے سے سیاسی عدم استحکام کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ ملک کی معیشت جمود کا شکار ہے، عوام بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں، اور عالمی برادری میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ ان حالات میں عوام کی توقعات ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ملک کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔
    سیاسی عمل کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین جمہوری اقدار کو تقویت دیں اور پارلیمانی نظام کو مضبوط بنائیں۔ پارلیمنٹ ہی وہ فورم ہے جہاں تمام سیاسی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ مذاکراتی عمل کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں عوام کو اپنے فیصلوں میں شامل کریں اور شفافیت کو یقینی بنائیں۔سیاسی استحکام نہ صرف اندرونی معاملات کے لیے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کے لیے بھی ضروری ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کو ایک جمہوری ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور یہاں سیاسی انتشار بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور شراکت داروں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی ادارے پہلے ہی فوجی عدالتوں میں ہونے والے فیصلوں پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ اگر سیاسی قیادت اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے قانونی اور آئینی دائرے میں مسائل حل کرنے کی کوشش کرے تو یہ پاکستان کے لیے عالمی برادری میں ایک مثبت پیغام ہوگا۔پاکستان کی موجودہ صورت حال میں، تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ ملک کو سیاسی انتشار سے نکالنے میں کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔
    حکومت کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن کو ایک قابل احترام حریف سمجھے، نہ کہ دشمن۔ سیاسی معاملات میں سنجیدگی اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے تحفظات کو اہمیت دی جائے۔اپوزیشن کو احتجاج کی سیاست سے ہٹ کر تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ متبادل تجاویز پیش کرنا اور مذاکرات کے لیے سنجیدگی دکھانا وقت کی ضرورت ہے۔فوج کا سیاسی معاملات سے دور رہنے کا عندیہ خوش آئند ہے، لیکن سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ فوج کو تنازعات میں نہ گھسیٹے اور معاملات کو سیاسی طور پر حل کرے۔تباہ کن سیاست کا خاتمہ صرف اس وقت ممکن ہوگا جب سیاسی قیادت اپنے اختلافات کو دور کرکے ملکی مفادات کو ترجیح دے۔ عوام کو مایوسی سے نکالنے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے سنجیدہ، دور اندیش اور قومی سوچ کی ضرورت ہے۔
    سال 2025 کی شروعات پاکستان کے لیے ایک نیا باب رقم کر سکتی ہے، اگر سیاسی قیادت اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے اور مذاکرات کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرے۔ یہ ملک کی سیاست کو بند گلی سے نکالنے کا موقع ہے، اور اگر اس موقع کو ضائع کیا گیا تو تاریخ اس غفلت کو معاف نہیں کرے گی۔

    202 مناظر