• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • تحریک انصاف اور مذاکرات

    تحریک انصاف اور مذاکرات

    تحریر: جاوید کمیانہ

    جمہوری سوچ رکھنے والے جماعتیں اور سیاسی زعما ہمیشہ بات چیت سے معاملات حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں مگر ماضی میں بانی پی ٹی آئی کسی سیاسی حریف سے کسی قسم کا اتحاد یا بات چیت کے حامی رہنے سے قاصر رہے جبکہ ماضی قریب میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان جن کو عمران خان مختلف القابات سے نوازتے تھے ان سے قربت کی پینگیں بڑھائیں گئیں بالخصوص 26 ویں آئینی ترمیم پر پی ٹی آئی کے قائدین صبح دوپہر شام مولانا صاحب کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوتے تھے اور تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم نے یکلخت مولانا کو ڈیزل سے عرق گلاب بنا دیا اگرچہ تحریک انصاف کو مولانا سے ملاقاتوں سے فوائد حاصل ہوئے مگر یہ عمران خان کے لیے باعث شرمندگی بھی ہو گا کہ جس شخصیت پر صبح وشام فقرے کستے تھے ان کی بدولت ہی سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی شق ترمیم سے ہذف کرنی پڑی اس لیے سیاست میں اتنا اخلاقی خلا برقرار رکھنا چاہیے کہ مستقبل میں ان کے در پر جانا پڑے تو آنکھیں نیچی نہ ہوں اسی طرح محمود خان اچکزئی کے بارے میں بانی پی ٹی آئی جلسوں میں نقلیں اتارا کرتے تھے آج وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ حکومتی حلقوں سے مزاکرات کے لیے بھی ان کو فرنٹ لائن پر کھڑا کیا گیا خواہ عمران خان کسی کے سامنے اظہار نہ کریں مگر خلوت میں اپنے ماضی کے عمل پر شرمندہ ضرور ہوتے ہوں گے۔
    تحریک انصاف نے تین روز بعد احتجاج کی آخری کال کا اعلان کیا ہوا ہے دوسری جانب حکومت یا مقتدرہ سے مزاکرات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے اس میں کس حد تک حقیقت ہے اور کیا توشہ خانہ ٹو مقدمہ میں عمران خان کی ضمانت منظور ہونا بھی کسی مذاکراتی عمل کا آغاز ہے تو ایسا کچھ نہیں ہے حکومتی سطح پر ایک شخصیت کا پی ٹی آئی سے رابطہ ضرور ہے مگر کوئی ایسے مزاکرات نہیں ہو رہے جس کی بنیاد پر عمران خان رہا ہو جائیں گے راقم نے اس سے قبل تحریر میں آگاہ کیا تھا کہ جلد سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی تقریباً مکمل ہونے کے قریب ہے اور اس کی زد میں خان صاحب بھی آ سکتے ہیں جس کی وجہ سے سوچ سمجھ کر احتجاج کی تاریخ دی گئی ہے اور نام نہاد مذاکراتی عمل محض لالی پاپ سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ حکومت کے بس میں نہیں ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے کوئی ٹھوس مزاکرات کریں دوسری جانب دو دن سے پاکستانی فوج کے سپہ سالار جو بیان دے رہے ہیں وہ واضح پیغام ہے کہ کسی بھی سطح پر تاحال عمران خان کے لیے کوئی نرمی کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ فوج نو مئی کے زخم اتنی جلدی مندمل نہیں کر پائے گی اور نو مئی کے دلخراش واقعات پر معافی مانگنے کے سوا بانی پی ٹی آئی کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔
    پی ٹی آئی بھی ہلکی آنچ پر حکومت سے مزاکرات سے تصدیق کرتی ہے ماضی میں تحریک انصاف مسلم لیگ ن یا پاکستان پیپلز پارٹی کے کسی عہدیدار سے بات چیت کی خواہاں نہیں رہی مگر حالات کی ستم ظریفی آپ کو کسی حد تک بھی لا سکتی ہے اور دو روز قبل بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے بھی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عندیہ دیا تھا کہ سیاست میں مزاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں یہ خوش آئند ہے کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی عمل سے گزرنا چاہیے اور سیاسی عداوت میں خاص حد تک نہیں جانا چاہیے جہاں واپسی ممکن نا ہوسکے ماضی میں خان صاحب کا سیاسی طرز عمل ایسا ہی رہا ہے کہ کسی سے کوئی بات نہیں کرتے تھے مگر اب اگر اس سوچ نے جنم لیا ہے کہ بات چیت سے جمہوری عمل کو آگے بڑھایا جائے تو یہ تحریک انصاف کی سوچ میں تبدیلی کی عکاسی ہے۔
    اگرچہ خان صاحب بارہا دہراتے ہیں کہ مزاکرات ان سے ہوں گے جن سے حقیقی طور پر ہوتے ہیں مطلب طاقتور حلقے مگر وہاں سے سبز جھنڈی نہیں لہرائی جا رہی اور یہ پیغام وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے دو دن کی بانی پی ٹی آئی سے طویل ملاقاتوں کے دوران پہنچا دیا ہے کہ احتجاج کی کال کو واپس لیں یا موخر کریں کیونکہ مزاحمتی عمل سے مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو جاتا ہے اور ہم پھر صفر پر کھڑے نظر آتے ہیں مگر خان صاحب اس وقت پارٹی کے کسی لیڈر پر اعتبار نہیں کر رہے اور ان کے نذدیک احتجاج یا دھرنے جیسے حربے سے ڈرا کر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو مزاکرات پر مجبور کیا جا سکتا ہے جبکہ ریاست بلیک میل ہو کر مزاکرات نہیں کرتی لیکن خان صاحب حالات کے جس دوراہے پر کھڑے ہیں وہ اپنے تمام جتن کریں گے دوسری جانب حکومت پر امید ہے کہ تحریک انصاف یہ احتجاج موخر کر دے گی لیکن ڈی چوک سیل اور اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی بھی کر چکی ہے اور شہر اقتدار میں کنٹینرز اور پولیس سمیت فورسز کی بھاری نفری بھی موجود ہے۔ ابھی بھی وقت ہے بانی پی ٹی آئی اپنے لہجے میں شائستگی اور خاموشی کی باعث مزاکرات کے عمل کو مثبت انداز میں آگے بڑھا سکتے ہیں بصورت دیگر بانی پی ٹی آئی کے لیے مشکلات کی کمی نظر نہیں آ رہی۔۔۔۔۔

    190 مناظر