پاکستان میں احتجاجی سیاست، تاریخ، نتائج اور اثرات
پاکستان میں احتجاجی سیاست، تاریخ، نتائج اور اثرات
تحریر: سلمان احمد قریشی
پاکستان میں احتجاجی مظاہرے ایک عام سیاسی اور سماجی رویہ بن چکے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں احتجاج عوامی رائے اور حقوق کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں یہ مظاہرے اکثر ملک کو نقصان پہنچانے والے عوامل میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ نقصان معاشرتی، سیاسی، اور اقتصادی سطح پر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ 76 سالہ تاریخ میں سیاسی افراتفری، بے یقینی، دلفریب نعرے، تشدد، جلاؤ گھیراؤ، ہلاکتیں، کمزور جمہوریت، جلاوطنی، اور انقلاب کی خواہش، حکومتوں کے قیام و زوال کی کہانی کا حصہ رہے ہیں۔ ہمارے سیاسی نظام اور عوامی ردعمل میں انتقام اور ہیجان تو نمایاں ہیں، لیکن حکومتیں تاریخ سے سبق سیکھنے میں ناکام رہی ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جمہوری اقدار سے انحراف قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی شروع ہو گیا تھا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ متحدہ ہندوستان کی تحریکیں، خصوصاً تحریکِ ریشمی رومال اور تحریکِ پاکستان، جدوجہد اور قربانیوں کی روشن مثالیں ہیں۔ تحریک پاکستان اس لیے کامیاب ہوئی کہ اس کے مقاصد واضح اور قیادت مخلص تھی۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد سازشیں اور اقتدار کی ہوس نے سیاسی نظام کو استحکام سے محروم رکھا۔
ایوب خان کی آمریت نے جمہوریت کو کچل دیا، اور محترمہ فاطمہ جناح کو ناکام کرنے کی سازش کی گئی۔ ایوب خان کا زوال شیخ مجیب الرحمان اور ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی تحریک کے ذریعے آیا، جس کے بعد پہلی بار ایک آدمی ایک ووٹ کی بنیاد پر انتخابات ہوئے۔ لیکن اقتدار کی ہوس اور سیاسی بدنظمی نے ملک کو دو لخت کر دیا۔ 1973 کے آئین کے نفاذ کے باوجود سیاسی بحران جاری رہا، اور 1977 میں تحریک نظام مصطفیٰ کے نتیجے میں مارشل لا نافذ ہوا۔
ضیاء الحق کا دور ظلم و جبر کی ایک طویل داستان ہے، جہاں بھٹو کو پھانسی دی گئی، عوامی احتجاج کچل دیا گیا، اور سیاسی کارکنوں پر کوڑے برسائے گئے۔ 1988 میں ضیاء الحق کی موت کے بعد جمہوری عمل بحال ہوا، لیکن عوامی احتجاج اور اقتدار کی کھینچا تانی جاری رہی۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے بار بار اقتدار میں آنے اور نکالے جانے کے واقعات نے سیاسی استحکام کو نقصان پہنچایا۔ 1999 میں پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا، لیکن کوئی بڑی عوامی تحریک سامنے نہ آ سکی۔
2007 میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جمہوریت کا عمل دوبارہ بحال ہوا، لیکن سیاسی قیادت اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے میں ناکام رہی۔ نواز شریف اور عمران خان کے درمیان اقتدار کی کشمکش نے ملک کو بار بار سیاسی بحران میں دھکیلا۔ عمران خان کے دور حکومت کے خاتمے اور تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہروں نے سیاسی عدم استحکام کو مزید بڑھایا۔
تاریخ گواہ ہے کہ احتجاجی تحریکوں کے نتائج اکثر غیر متوقع اور مہنگے ثابت ہوئے ہیں۔ 1968 کی تحریک نے ایوب خان کا خاتمہ کیا، لیکن اقتدار یحییٰ خان کے ہاتھ میں چلا گیا۔ 1977 کی تحریک نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کی، لیکن مارشل لا نافذ ہوا۔ 1983 کی ایم آر ڈی تحریک نے ضیاء الحق کو کمزور کیا، لیکن فوری جمہوری حکومت قائم نہ ہو سکی۔
تحریک انصاف کی حالیہ احتجاجی حکمت عملی بھی واضح روڈ میپ سے محروم رہی ہے۔ عوامی مسائل کے حل کے بجائے بانی تحریک انصاف کی ذات اور خواہشات پر توجہ مرکوز رہی، جس کا نقصان نہ صرف پارٹی کو بلکہ ملک کو بھی ہوا۔ 9 مئی کے واقعات نے تحریک انصاف کی سیاسی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا۔
پاکستان کی تاریخ سے یہ سبق ملتا ہے کہ احتجاج اور سیاسی تحریکوں سے فوری طور پر جمہوری استحکام حاصل نہیں ہوتا۔ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ تشدد اور الزام تراشی کی سیاست کو ترک کریں اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور مثبت رویہ اپنائیں۔ بصورت دیگر، احتجاجی سیاست کا انجام مزید انتشار اور نقصان کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
197 مناظر