• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • کاش، ماں کبھی نہ مرے

    کاش، ماں کبھی نہ مرے

    تحریر: سلمان احمد قریشی

    بےحد افسوس اور رنج کے ساتھ یہ خبر ملی کہ ہمارے محترم دوست کامران سکندر جو دنیا نیوز کے ڈسٹرکٹ رپورٹر ہیں کی والدہ محترمہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ ان کا انتقال ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے جس کا غم لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ والدہ کا سایہ اولاد کے لیئے وہ نعمت ہے جو بچھڑ جائے تو زندگی میں ایک ایسی خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے کوئی اور پُر نہیں کر سکتا۔ ماں کا مقام ہر رشتے سے بلند ہوتا ہے اور ان کی دعاؤں اور محبت کے بغیر زندگی بےرنگ محسوس ہوتی ہے۔ والدہ جیسی عظیم ہستی کا بچھڑ جانا زندگی کی ان تلخ حقیقتوں میں سے ایک ہے جو کسی بھی شخص کے لیئے سہنا آسان نہیں۔ یہ وہ رشتہ ہے جس کی جگہ کوئی دوسرا نہیں لے سکتا اور اس کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی ہے۔

    ماں کی دعائیں انسان کے لیئے دنیا و آخرت میں کامیابی کی کنجی ہوتی ہیں اور ان کی محبت اور شفقت ہر لمحہ ہمارے اردگرد رہتی ہے۔ کاش ماں کبھی نہ مرے۔ ماں تو زندگی کا وہ چراغ ہے جو ہر اندھیرے میں روشنی بکھیرتا ہے وہ سائبان ہے جو ہر طوفان میں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ماں کے بغیر زندگی کا تصور ادھورا سا لگتا ہے کیونکہ وہی تو ہے جو ہر دکھ میں ہمیں سنبھالتی ہے ہر درد کو اپنی مسکراہٹ سے کم کرتی ہے اور ہر خواب کی اچھی اور بہترین تعبیر کے لیئے دعائیں کرتی ہے۔

    ماں کی موجودگی ہمیں ایسا حوصلہ دیتی ہے جس کا نعم البدل کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ اس کی محبت، دعائیں اور شفقت وہ خزانے ہیں جو ہر پل ہمیں سکون فراہم کرتے ہیں۔ کاش ماں نہ مرے، کاش اس کا ساتھ ہمیشہ رہے۔ مگر یہ زندگی کی تلخ حقیقت ہے کہ ہمیں ایک دن اس رشتے سے بھی جدا ہونا ہوتا ہے۔ ماں کے بغیر زندگی میں ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے کوئی اور پُر نہیں کر سکتا۔ اس کی یادیں دل کے گوشوں میں بسی رہتی ہیں اور ہر لمحہ ہمیں اس کی کمی کا احساس دلاتی ہیں۔

    اللہ سے دعا ہے کہ وہ دنیا کی ہر ماں کو صحت و سلامتی دے اور ان کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رکھے۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ نیک والدہ کی تربیت کا اثر بچوں کی زندگی اور کردار پر نمایاں ہوتا ہے۔ ایک ماں کا کردار بچے کی ابتدائی زندگی میں بنیادی ہوتا ہے، اور اس کی اخلاقیات، عادات، اور مثبت سوچ بچے میں منتقل ہوتی ہیں۔ ایک اچھی تربیت یافتہ ماں اپنے بچوں میں دیانت داری، ہمدردی، اور اخلاقی قدروں کو پروان چڑھاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں، بچے زندگی کے ہر شعبے میں ان خوبیوں کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور اپنے کردار سے والدین کی تربیت کا عکس دکھاتے ہیں۔

    کامران سکندر واقعی ایک اچھے انسان اور مخلص دوست ہیں۔ ان کی شخصیت میں خلوص، ہمدردی، اور دوسروں کے لئے فکر کرنا شامل ہے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے لئے وقت نکالتے ہیں اور مشکل وقت میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ ان کا رویہ ہمیشہ مثبت اور خوش اخلاق ہوتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ ان کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں۔ کامران سکندر نہ صرف دوسروں کی مدد کرتے ہیں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی میں بہتر کام کر سکیں۔ وہ ایک ایسے دوست ہیں جو ہر وقت ساتھ نبھاتے ہیں اور کبھی بھی اپنی دوستی کو محض الفاظ تک محدود نہیں رکھتے۔

    کامران سکندر اور ان کے خاندان کو تسلی دینا ہمارے لیئے بھی لازم ہے اور اس دکھ کے موقع پر ہم سب ان کے اس ناقابلِ فراموش دکھ میں شریک اور ساتھ ہیں۔ ان کی والدہ کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے بھرا نہیں جا سکتا، لیکن ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کی مغفرت فرمائے۔ ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے تمام لواحقین کو صبر اور سکون عطا فرمائے اور انہیں یہ عظیم صدمہ و نقصان سہنے کی توفیق دے۔ ہماری دلی دعائیں اور ہمدردیاں کامران سکندر اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں۔

    583 مناظر