امریکی سیاست اور پاکستانی خود مختاری کا امتحان
تحریر: سلمان احمد قریشی
امریکہ میں حالیہ صدارتی انتخابات مکمل ہو چکے ہیں، جن کے نتائج کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ امریکی الیکشن میں 538 الیکٹورل ووٹس میں سے ڈونلڈ ٹرمپ نے 277 جبکہ کملا ہیرس نے 226 ووٹ حاصل کیے۔عوامی ووٹوں میں بھی ٹرمپ کو 6 کروڑ 92 لاکھ جبکہ ہیرس کو 6 کروڑ 40 لاکھ سے زائد ووٹ ملے۔ ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ امریکی یہودی ووٹرز کی اکثریت نے کملا ہیرس کے حق میں ووٹ دیا۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق 79 فیصد یہودی ووٹرز نے ہیرس کو ووٹ دیا، جبکہ ٹرمپ کو محض 21 فیصد حمایت ملی۔ یہ امر خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ 2016 اور 2020 میں یہودی ووٹرز میں ٹرمپ کی مقبولیت نسبتاً زیادہ تھی۔ ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران یہودی ووٹرز کی ڈیموکریٹس کی طرف جھکاؤ پر مایوسی کا اظہار بھی کیا تھا۔ ٹرمپ کی جیت کو عالمی سطح پر تبدیلی کی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر اسرائیلی جارحیت اور یوکرائن جنگ جیسے تنازعات میں امریکی کردار کے تناظر میں۔
پاکستانی میڈیا نے بھی امریکی انتخابات کو بھرپور کوریج دی۔ پاکستانی سیاست پر امریکی انتخابات کا اثر ہمیشہ سے رہا ہے اور اس بار بھی اس موضوع پر کافی بات چیت ہوئی۔ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خاتمے پر امریکہ پر مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے یہ نعرہ اٹھایا گیا تھا کہ “ہم کوئی غلام ہیں؟”۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی کے بانی نے اپنی حکومت کے خاتمے کو امریکی سازش قرار دیا، جسے امریکہ نے بارہا مسترد کیا۔ کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت ناقابلِ قبول ہے، اور پاکستان ایک آزاد ملک ہے جس میں جمہوری نظام موجود ہے۔
تاہم، اس بار پی ٹی آئی نے امریکی انتخابات کے نتائج پر اپنی امیدیں باندھ رکھی ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما رؤف حسن کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ٹرمپ کی ٹیم سے دو تین ملاقاتیں ہوئیں، جہاں عمران خان کے مسئلے پر توجہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اس بیان نے مختلف چینلز پر ایک نئی بحث کو جنم دیا کہ آیا ٹرمپ کی جیت عمران خان کی رہائی کے لیے سود مند ثابت ہوسکتی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے یہ امید باندھنا کہ امریکی صدر پاکستان کے عدالتی معاملات میں کسی طرح کا کردار ادا کریں گے، اس جماعت کے “ہم کوئی غلام ہیں” کے نعرے کے بالکل برعکس ہے۔ یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ پاکستان کی عدالتی خودمختاری اور قانون کے ساتھ مذاق نہیں ہوگا کہ امریکہ کسی پاکستانی شہری کی رہائی کے لیے مداخلت کرے۔ ڈونلڈ ٹرمپ شاید عمران خان کو قیدی نمبر 804 کے طور پر بھی نہ پہچانیں، مگر پھر بھی میڈیا اور سیاستدان امریکی انتخابات کے نتائج کو پاکستانی سیاست میں مؤثر دیکھ رہے ہیں۔
اس صورت حال پر غور کرتے ہوئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی توجہ کشمیر اور فلسطین جیسے بڑے عالمی مسائل پر مرکوز کریں اور سفارتی محاذ پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کریں۔ ٹرمپ نے جنگوں کے خاتمے کی بات کی ہے، تو ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے تیار رہنا چاہیے، نہ کہ اپنی سیاست میں امریکی مداخلت کی توقع باندھ کر اپنی آزادی اور خودمختاری کو مذاق بنائیں۔
امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے سرحدوں کو ٹھیک کرنے کا عزم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “سرحدوں کو سیل کرنا پڑے گا، ہم چاہتے ہیں کہ لوگ قانونی طریقے سے امریکہ آئیں، امریکہ کو محفوظ بنائیں گے۔ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کریں گے، امریکہ کے تمام معاملات اب ٹھیک ہونے والے ہیں، اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک لوگوں کے خواب پورے نہ کردوں۔”ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا “ہم مضبوط اور طاقتور فوج چاہتے ہیں اور آئیڈل صورتحال ہے کہ ہمیں اسے استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑے، آپ جانتے ہیں کہ اپنے سابقہ 4 سال میں ہماری کوئی جنگ نہیں تھی، سوائے اس کے کہ ہم نے داعش کو شکست دی تھی، ہم نے داعش کو ریکارڈ مدت میں شکست دی، لیکن ہماری کوئی جنگ نہیں تھی۔”
ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات میں اندونی مسائل پر فوکس رکھا، امریکہ اور امریکی مفاد اولین ترجی رہا۔امریکی عوام ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ ، انداز اور طرز حکمرانی سے مطمین دیکھائی دیئے اور ہم ہیں کہ ان انتخابات سے اپنا سیاسی راستہ تلاش کرنے میں مصروف ہوگئے۔
عالمی رہنماؤں کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دینے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی، اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی، ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، فرانس کے صدر امانوئل ماکروں، نے انہیں مبارک باد دی ہے۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے بھی ٹرمپ کی “تاریخی کامیابی” پر انہیں مبارک باد دی ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ہمیں اپنی سوچ کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے ملکی مسائل کے حل کے لیے مقامی اداروں اور عوامی طاقت پر اعتماد کرنا چائیے، بحائے اسکے کہ امریکہ یا کسی دوسرے ملک کی حمایت کے طلبگار بنیں۔