
26 ویں آئینی ترمیم میں کس کا کردار اور آنے والے چیف جسٹس کون ؟
26 ویں آئینی ترمیم میں کس کا کردار اور آنے والے چیف جسٹس کون ؟
تحریر: جاوید کمیانہ
26 ویں آئینی ترمیم کے لیے گزشتہ دو ماہ سے جاری تیاری گزشتہ رات اختتام پذیر ہو گئی اور اس کے ڈرافٹ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں نے سر جوڑے اور پچاس سے زائد شقوں کو کم کر کے بائیس تک محدود کر دیا، اس میں تمام سیاسی جماعتوں کو پھل ملا ہے قارئین کے ذہن میں سوال ہو گا کہ تحریک انصاف کو کیا ملا تو ان کے دو بڑے مطالبات جس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مدت ملازمت میں توسیع نہ دینا اور بانی پی ٹی آئی سمیت شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی شقیں حذف کر دی گئیں جس کا سہرا مولانا فضل الرحمان صاحب کو جاتا ہے حالانکہ ماضی میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی غیر سیاسی جماعت نے مولانا صاحب کو مختلف القابات سے نوازا مگر مولانا صاحب نے اپنا مثبت کردار ادا کر کے اپنی جمہوری سوچ کو اور تقویت پہنچائی اب حکومت کی بات کریں تو مسلم لیگ ن کو کچھ قربانی قاضی فائز عیسیٰ کی صورت میں دینی پڑی مگر اس وقت کے یقینی آنے والے چیف جسٹس منصور علی شاہ سے مسلم لیگ ن مکمل طور پر خائف تھی کہ شاید شاہ صاحب عہدہ سنبھالتے ہی 2023 کے الیکشن پر پی ٹی آئی کی پٹیشن سنیں گے اور انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ن لیگ کو گھر بھیج دیں گے اگرچہ ذرائع کو یقین دہانیاں کروائی گئیں تھیں کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا مگر مخصوص نشستوں کے کیس میں جسٹس منصور علی شاہ صاحب جیسے جسٹس منیب اختر کے ہاتھوں استعمال ہوئے اور غیر آئینی فیصلہ دینے کے مرتکب ہوئے حکومت کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی تو اس طرح اب کم از کم منصور علی شاہ صاحب چیف جسٹس تو نہیں ہوں گے اور اس آئینی ترمیم سے پارلیمنٹ کے ہاتھ مضبوط اور جوڈیشل ایسٹبلشمنٹ کا ریموٹ کنٹرول حکومت کے ہاتھ میں چلا جانے کے بعد وہ سکھ کا سانس لے رہی ہے اب بات کرتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے کیا حاصل کیا تو مسلم لیگ ن کے ابتدائی مسودہ پر پیپلز پارٹی بھی رضا مند نہیں تھی اور اس کی بھی خواہش تھی کہ کوئی سیاسی مقدمہ فوجی عدالت میں نہیں چلنا چاہیے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ ہے کہ وہ کسی غیر آئینی اقدام کا حصہ نہیں بنتے اور پھر گزشتہ چند روز سے بلاول بھٹو زرداری جس انداز میں حکومت اور مولانا صاحب کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے رہے ہیں اس اس مسودہ کی نوک پلک کو اتفاق رائے تک لانے میں کردار ادا کیا ہے ملک کے نامور صحافی بھی بلاول بھٹو کی سیاسی پختگی کے معترف ہو گئے ہیں اور کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اس آئینی ترمیم کی ڈرائیونگ سیٹ پر بلاول بھٹو زرداری بیٹھے تھے حکومت تو گاڑی کی پچھلی نشستوں پر بیٹھی اونگھ رہی تھی اب جے یو آئی ف کا تزکرہ کریں تو مولانا صاحب پر بالخصوص یہ الزام لگتا آیا ہے کہ مولانا ذاتی یا مالی مفادات کے تحت حکومت کا ساتھ دیتے ہیں مگر اس ترمیم کے لیے مولانا کا گھر سیاست کو محور و مرکز بنا ہوا تھا کہ ایک سیاسی جماعت آتی تھی دوسری ڈرائنگ روم میں ملاقات کے لیے منتظر پائی جاتی تھی اور تیسری پارٹی میڈیا پر نظریں گاڑھے ہوئی بیٹھی ہوتی کہ کب وہ دو جائیں اور ہم مولانا صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل کر سکیں مگر مولانا صاحب ایک ہی بات کرتے تھے کہ اتفاق رائے سے آگے بڑھیں گے اور مولانا صاحب نے آخری دن تک ترمیم میں کوئی ایسا خلا نہیں چھوڑا جہاں تحریک انصاف کو اتفاق رائے نہ کرنے کا موقع ملتا اور پی ٹی آئی کے قائدین نے اتوار کے روز مولانا صاحب کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے مسودہ سے اتفاق کی نوید تو سنائی ساتھ ہی بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی فیصلہ کرنے کی بے بسی بھی دکھائی مگر مولانا صاحب کو تجویز دی کہ آپ اس ترمیم کے لیے حکومت کو ووٹ کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ہم آپ کے کردار سے نہایت خوش ہیں اس طرح مولانا صاحب کے سیاسی قد میں اور اضافہ ہوا اور عوامی سطح پر پذیرائی ملی۔ آخر میں ذکر کرتے ہیں کہ حکومت، اس کے اتحادی اور اسٹیبلشمنٹ بلاول بھٹو زرداری کے ذریعے ایک اور کامیابی سمیٹ گئے وہ یہ تھی کہ ترمیم مولانا صاحب کے بغیر بھی ہو سکتی تھی جس میں پی ٹی آئی کے آزاد ارکان کی لمبی چوڑی تعداد موجود تھی مگر مولانا صاحب کے بغیر اس ترمیم کو پاس کرنے سے تحریک انصاف اور جے یو آئی کا سیاسی اتحاد پیدا ہو سکتا تھا جو کسی مزاحمتی تحریک میں تبدیل ہو سکتا تھا جس کی ایسٹبلشمنٹ اور حکومت متحمل نہیں ہو سکتی تھی پہلے مرحلے میں تحریر سینیٹ سے باآسانی پاس کروائی گئی بعد ازاں قومی اسمبلی کے ایوان میں پیش کرتے وقت بلاول بھٹو زرداری نے جو پینتالیس منٹ کی دھواں دار تقریر کی اور وہ مسلم لیگ ن اور میاں نواز شریف صاحب کے ساتھ برانا بدلا بھی چکا دیا کہ کس طرح وہ سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ہاتھوں کھلونا بنے بعد ازاں اسی سپریم کورٹ کا شکار ہوئے اس میں رتی برابر شک نہیں ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ سمیت صوبائی عدالتیں سیاسی ہو چکی تھیں اور لاہوری ججز کا گروپ تواتر سے اپنے حلیف ججز کو سپریم کورٹ تک لاتے تھے اس ترمیم کے بعد لاہوری ججز کے بانی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خطرناک عزائم کا دروازہ بھی بند کر دیا گیا۔
26 ویں آئینی ترمیم پر صدر مملکت زرداری نے دستخط کر دیے ہیں اور قومی اسمبلی نے گزٹ بھی شائع کر دیا جو فوری نافذ العمل ہو گئی ہے اور بائیس اکتوبر تک پہلے تین سینیئر ججز میں سے پارلیمانی کمیٹی چیف جسٹس کے لیے دو تہائی اکثریت سے نام تجویز کرے گی اور اس لحاظ سے پہلے نمبر پر جسٹس منصور علی شاہ صاحب دوسٹپر جسٹس منیب اختر ہیں جو حکومت کو کسی صورت قبول نہیں ہیں اور ترمیم کا باعث بھی یہی دو ججز ہیں جبکہ تیسرے نمبر پر جسٹس یحییٰ آفریدی ہیں تو یقیناً قرعہ ان کے نام کا نکلے گا، ایک بات اور عرض کرتا چلوں کہ ترامیم رکیں گی نہیں اور مخصوص نشستوں پر اب تک الیکشن کمیشن نے عملدرآمد نہیں کیا اور وہ فیصلہ الیکشن کمیشن یا موجودگی پاس شدہ آئینی ترمیم کے تحت مستقبل کا آئینی بینچ پی ٹی آئی کو نشستیں نہیں دیتا تو وہ بھی حکومت میں تقسیم ہو جائیں گی جس کے بعد حکومتی اتحاد کو باآسانی دو تہائی اکثریت حاصل ہو جائے گی جس کی بعد بھی ترامیم آ سکتی ہیں جو مستقبل میں تحریک انصاف یا بانی پی ٹی آئی کے لیے نیک شگون ثابت نہیں ہوں گی اس طرح تحریک انصاف نے غیر سیاسی رویہ اپناتے ہوئے اس ترمیم کا بائیکاٹ کر کے اپنے لیے مزید مشکلات خرید لی ہیں۔۔۔۔۔