• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • ڈاکٹر ذاکر نائیک اور اسلامی دنیا

    آئینہ دیوار
    عاصم پرویز گورسی

    ڈاکٹر ذاکر نائیک ایک بہت بڑے اسلامی اسکالر ہیں۔ میں گزشتہ کئی سالوں سے آپ کے لیکچرز سنتا آ رہا ہوں۔ ہمیشہ آپ سے کچھ نا کچھ نیا سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ آپ ادیان کے تقابلی جائزے کے ماہر ہیں اور ذندگی کے عمومی مسائل کو احادیث و قرآن کی روشنی میں حل کرنے کا فن اور ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ آپ دنیا میں ہزاروں غیر مسلموں کو مسلمان کر چکے ہیں۔
    آپ دلیل اور منطق کا استعمال انسانی عقل اور شعور کے عین مطابق کرتے ہوئے سامعین کو اپنے علم کے حصار میں جکڑ لیتے ہیں۔ آپ بلاشبہ زمانہ جدید کے ایک نامور عالمِ دین ہیں۔ میری تربیت سنی گھرانے میں ہوئی ہے اور ہم لوگ ہمیشہ دین کے علمبرداروں کیساتھ انتہائی عزت و احترام سے پیش آتے ہیں اور انہیں جھک کر ملنا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں۔ ان کی تابعداری اور فرماں برداری انتہائی ضروری قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر کی پاکستان آمد پر سارے ذرائع ابلاغ آپ کو نشر کرنے اور آپ کے مناظروں کی تشہیر میں جٹ گئے ہیں۔ میں یہاں انتہائی عاجزی اور انکساری سے ایک سوال اٹھانا چاہتا ہوں کہ کیا اس وقت عالم اسلام کو چھوٹے چھوٹے دینی مسائل میں الجھنے اور مناظروں میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت ہے یا فلسطین، کشمیر اور برما میں نہتے مسلمانوں کے بہتے ہوئے خون پر یکجا ہو کر لائحہ عمل دینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اسلامی دنیا کو ذاکر نائیک کے چھوٹے چھوٹے معاملات پر خطابات سننے کی ضرورت ہے یا عملی طور پر مسلمانوں کے حقوق کے لیے مقبوضہ علاقوں میں جہاد بالسیف کی ضرورت ہے۔
    اسلامی دنیا مصنوعی ذہانت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پسماندگی کا شکار ہے۔ 93 لاکھ افراد کے قریب مشتمل ایک صہیونی ریاست نے ساری امت کو آگے لگا رکھا ہے۔ یہ بیک وقت لبنان، شام، یمن اور غزہ پر بمباری کر رہا ہے۔ غزہ کو کھنڈر بنا چکا ہے۔ ایران پر حملے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ دوسری طرف امت خاموشی سے سارا تماشہ دیکھ رہی ہے۔ ایسا کیوں؟ اس لیے کہ ہم اس وقت ہاتھ کہاں باندھنے ہیں، شلوار گھٹنوں سے اوپر رکھنی ہے یا نیچے، داڈھی کتنی ہونی چاہیے، مونچھ رکھنی عین اسلامی ہے یا غیر اسلامی، سحری اور افطاری کے اوقات پر اختلافات اور چھوٹے چھوٹے معاملات پر کفر کے کھلے فتوے جاری کرنے کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہمیں اپنے انسانی حقوق سے بھی کوئی سروکار نہیں ہے۔ آدھی سے ذیادہ اسلامی دنیا میں بھوک افلاس اور بے روزگاری نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ کہیں بادشاہت تو کہیں آمریت کا دور دورہ ہے۔ ایک تہائی سے ذیادہ اسلامی دنیا صاف پانی کی فراہمی سے محروم ہے۔ اس پس منظر کے باوجود ہمارے علماء حضرات قوم کو عملی طور پر یکجا کرنے کی بجائے فرقہ واریت اور آپسی اختلافات میں الجھائے رکھتے ہیں۔
    اس وقت ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسے مفکر اور دانشور کو ان مسائل کا حل دینا چاہیے۔ امت کو آگے بڑھ کر بتانا چاہیے کہ وہ کیسے مصنوعی ذہانت میں دنیا میں اپنا مقام پیدا کر سکتی ہے اور کیسے اسرائیل جیسی بلا سے خود کا چھٹکارا حاصل کر سکتی ہے۔ ہمیں عملی طور پر کچھ کر دکھانے والے عالموں اور دانشوروں کی ضرورت ہے۔ اس قادر الکلامی کا کیا فائدہ جس سے اسلامی دنیا میں دن بدن غربت و افلاس میں اِضافہ ہو رہا ہو اور اسرائیل، بھارت اور میانمر جیسے ممالک مسلمانوں پر دن رات ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہے ہوں اور ہم آپسی چھوٹے چھوٹے ذو معنی قسم کے مسائل پر لڑ جھگڑ رہے ہوں۔
    یہ سنی، شیعہ، وہابی اور دیوبندی سب فرقے اسرائیل کے لیے ایک جیسے ہی ہیں۔ وہ بس ہمیں ان میں تقسیم کر کے لڑا رہے ہیں تا کہ وہ ایک ایک کر کے ان کو تہس نہس کر سکیں۔ بدقسمتی سے اس وقت امت کا ایک مکتبہ فکر اس چکر میں الجھا ہوا ہے کہ اسرائیل صرف شیعہ مسلمانوں کے ساتھ محاذ پر ہے اور دوسرے فرقے کے مسلمانوں کو وہ کوئی نقصان پہچانے والا نہیں۔ اور یہ کہ اسرائیل اس وقت جن جن ملکوں پر فضائی اور زمینی حملے کر رہا ہے وہاں شیعہ مسلمانوں کی تعداد ذیادہ ہے، جیسے کہ شام، لبنان، غزہ اور یمن وغیرہ میں۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ غزہ کی سنی آبادی کب کی غزہ چھوڑ کر ہجرت کر چکی اور صرف شیعہ مسلمان ان کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ یہ بھی کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے چونکہ یہودیوں کو خیبر فتح کر کے عرب سے نکالا تھا، اس لیے یہودی صرف شیعہ مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔

    یہ صرف دل کو بہلانے اور خود کو سمجھانے کے بہانے ہیں۔ سامنے سے حملہ آور ہونے والے دشمن کو دیکھ کر آنکھیں موند لینے کے طور طریقے ہیں۔ یہ سر اٹھا کر جینے کا سلیقہ نہیں ہے۔ اسرائیل ایک ایک کر کے سب اسلامی ریاستوں پر حملہ آور ہو گا۔ یہ “تقسیم کرو اور تباہ کرو” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ یہ سب اسکی جنگی چالیں ہیں۔ بہتر ہوتا اگر ڈاکڑ ذاکر نائیک اور ان جیسے دوسرے بڑے اسلامی دانشور اس خطرے کو بھانپ لیں اور امت کو پسماندگی ختم کرنے، مصنوعی ذہانت اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرنے کے لیے سمجھائیں اور اپنے مشترکہ دشمن اسرائیل کے ساتھ مشترکہ پالیسیوں کے ذریعے نبٹنے کے لیے مناظرے کریں نا کہ اسے آپسی اختلافات کو ہوا دے کر آپس میں ہی الجھائے رکھیں۔

    206 مناظر