• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • 26واں آئینی ترمیمی پیکج

    پاکستان نے اپنا پہلا آئین1956میں بنایا، جسے 1958ء میں منسوخ کر دیا گیا۔ 1962ء میں بھی ایک آئین تیار ہوا۔ تاہم یہ آئین بھی 1969ء میں جنرل یحییٰ خاں نے منسوخ کر دیا۔ 1972ء میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم بنے تو انہوں نے بھی ایک ایسے آئین کی تیاری شروع کی جس کی تیاری میں ملک کے ماہر قانون دانوں نے اپنی تجاویز بھٹوصاحب کو دیں۔ دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت ہوئی۔ سیاسی قائدین سے حکومتی آئینی کمیٹی نے کئی نشستیں کیں۔ جس کے بعد متفقہ طور پر ایک نئے قانون کی منظوری دی گئی۔ یہ آئین 1973ء کا آئین کہلایا۔ جو بعدازاں صدر کے دستخطوں کے بعد نافذالعمل ہو گیا۔

    آئین کوئی بھی ہو، ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔وقت اور ضرورت کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ ترامیم بھی ہوتی ہیں۔ تاہم آئین کے بنیادی ڈھانچے کو نہیں چھیڑا جاتا۔ 1973ء کے آئین میں کب کب اور کتنی بار ترامیم ہوئیں؟ احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے یہ جان لیں کہ آئین سے کیا مراد ہے؟ آئین یا دستور کسی بھی حکومت کے لیے ضابطوں کا ایسا مجموعہ ہے جو حکومت کے ساتھ ساتھ کسی بھی سیاسی جماعت کے وجود، اْس کے اختیارات، کارکردگی کو محدود اور متعین کرتا ہے۔ بھارتی دستور (آئین) دنیا کے کسی ملک کا لکھا ہوا سب سے بڑا آئین ہے۔ جس کے انگریزی ترجمے میں 117396الفاظ ہیں جبکہ امریکی دستور دنیا کے کسی بھی ملک کا سب سے چھوٹا دستور ہے۔
    اگر 1973ء کے آئین کی بات کریں تو اس کی تیاری میں کافی وقت لگا۔ صرف رپورٹ کی تیاری میں آٹھ ماہ صرف ہوئے۔ بالآخر یہ رپورٹ 10اپریل 1973ء کو نیشنل اسمبلی میں پیش کر دی گئی۔ جسے 135ووٹو ں کی اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔ جبکہ 14اگست 1973ء کو یہ آئین پورے پاکستان میں نافذالعمل بھی ہو گیا ۔
    آٹھویں ترمیم کی بہت بات کی جاتی ہے۔ یہ آٹھویں ترمیم ہے کیا؟ اس سے کیا مراد لی جاتی ہے؟ آٹھویں ترمیم کو سرکاری طور پر آئینی ایکٹ (آٹھویں ترمیم) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایکٹ ترمیم کے بعد 9نومبر 1985ء کو نافذالعمل ہوا ۔ اس ترمیم کی رْو سے پارلیمانی طرزِ حکومت جزوی صدارتی طرز ِ حکومت میں تبدیل ہو گئی۔ صدر پاکستان کو کئی اضافی آئینی اختیارات حاصل ہو گئے۔ تیرھویں آئینی ترمیم کے بارے میں بھی بتاتے چلیں کہ اس ترمیم سے آئین پاکستان کے آرٹیکل اٹھاون ٹو بی میں تبدیلی آئی۔ جس کی رْو سے صدر پاکستان کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار مل گیا۔ ترمیم میں کہا گیا صدر اگرسمجھتے ہوں کہ ریاست میں کوئی غیر معمولی صورت حال جنم لے رہی ہے۔ ریاست کا نظام چلانا آئین پاکستان کی رو سے ممکن نہیں رہا۔ نئے انتخابات کا انعقاد بہت ہی ناگزیر ہے تو صدر اٹھاون ٹو بی کو استعمال کر تے ہوئے قومی اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں۔
    مختلف ادوار میں جو بھی حکومتیں آئیں انہوں نے اپنی صوابدید، خواہش اور ضرورت کے مطابق 73ء کے آئین میں بہت سی ترامیم کیں لیکن گزشتہ دو ، تین ہفتوں سے آئینی ترامیم کے جس نئے پیکج کی بات ہو رہی ہے اْس کا شور پہلے سے کہیں زیادہ اب پورے ملک میں سنائی دے رہا ہے۔ ریاست کا کیپٹیل اسلام آباد پوری طرح اس شوروغوغا کی زد میں ہے۔ وکلاء تنظیموں کی ان ترامیم پر اپنی اپنی الگ رائے ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اور وکلاء اس ترمیمی آئینی پیکج پر اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
    آئین پاکستان میں اب تک بہت سی ترامیم ہو چکی ہیں۔ جو وقت اور ضرورت کے مطابق کی گئیں۔ ان ترامیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 46، 48، 75، 90،91، 99، 101،105، 116،129، 130، 131، 139، 231اور 243میں تبدیلیاں کی گئیں۔ صدر کو حاصل اختیارات میں بھی تبدیلی عمل میں لائی گئی۔ صدر کے بعض خصوصی اختیارات عوام کے منتخب نمائندوں، وزیراعظم، پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کو منتقل کر دئیے گئے۔
    موجودہ حکومت 1973ء کے آئین میں ایک بار پھر ترامیم کرنے جا رہی ہے۔ جس کے لیے سیاسی جماعتوں کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیراطلاعات عطاء تارڑ کے مطابق مجوزہ قانون سازی کی ہر شق پر حکومت کی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشاورتی عمل کی وجہ سے اس 26ویں ترمیمی آئینی پیکج کو منظور کرانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ حکومت کادعویٰ ہے کہ ترامیم کو منظور کرانے کے لیے اْس کے نمبرز پورے ہیں۔ وہ بآسانی اس آئینی ترمیمی پیکج کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کرا لے گی۔ تاہم ابھی ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ یہ 26واں آئینی ترمیمی پیکج آسانی سے منظور یا پاس ہو جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اس آئینی ترمیمی پیکج کی کھل کر مخالفت کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی سے وابستہ سینئر وکلاء اس رائے کا اظہار کر چکے ہیں کہ پی ٹی آئی اس ترمیمی آئینی پیکج کو منظور نہیں ہونے دے گی۔
    ترمیمی آئینی پیکج کے تناظر میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بہت اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مولانا کے پاس اتنے ووٹ ہیں کہ اْن کی سپورٹ سے حکومت بآسانی ان ترامیم کو منظور کرا سکتی ہے۔
    اس وقت حکومت اور اْس کی اتحادی جماعتوں کو یہ آئینی ترمیمی پیکج منظور کرانے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ جبکہ حکومت کو مطلوبہ تعداد میسر نہیں۔ اس لیے حکومت دوسری جماعتوں سے وسیع تر سیاسی مشاورت کر رہی ہے۔ ان ترامیم میں سب سے اہم ترامیم عدالتی اصلاحات سے متعلق ہیں۔ کئی روز سے ان اصلاحات کو لے کر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کا خیال ہے حکومت سپریم کورٹ کے اندر ایک اور سپریم کورٹ بنانا چاہتی ہے جس سے عدالتی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا اور بہت سے آئینی مسائل جنم لیں گے۔
    پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سینئر وکیل علی ظفر ان عدالتی اصلاحات کے پیکج کو ’’غیر آئینی‘‘ قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔ اور اس کے خلاف صف آراء ہونے کا اشارہ دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما مولانا فضل الرحمن کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اْن سے کئی ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے عندیہ ظاہر کیا ہے کہ مولانا کسی بھی صورت اس’’غیر آئینی‘‘ ترامیم کے لیے حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ جبکہ حکومت پرامید ہے کہ وقت آنے پر مولانا اس 26ویں آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ کریں گے۔ ان ترامیم کے تناظر میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی مولانا سے متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ نوید قمر بھی چیئرمین بلاول کی ایماء پر گزشتہ دنوں مولانا کے گھر گئے اور ملاقات کی آئینی پیکج پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ نوید قمر کے بعد ن لیگ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی مولانا سے ملاقات کی۔ انہوں نے بھی آئینی ترمیمی پیکج پر مولانا کو آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن مولانا ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔
    کیا 26ویں آئینی ترامیم کو قومی اسمبلی و سینیٹ سے منظور کرانے کے لیے حکومت کے پاس مطلوبہ نمبرز موجود ہیں؟ یہ ایسا سوال ہے جو بہت سے تجزیہ کاروں اور ناقدین کی جانب سے بار بار کیا جا رہا ہے۔ صورت حال میں بہت ابہام ہے ۔ تاہم حکومتی سینیٹر بیرسٹر دانیال کا کہنا ہے کہ ہم نے امید نہیں چھوڑی۔ ہم ان آئینی ترامیم کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ہر صورت منظور کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ دانیال بیان کے وقت بڑے پراعتماد نظر آ رہے تھے۔ وزیراعظم کے سیاسی مشیر سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا بھی کہنا ہے کہ آئینی ترامیم کو منظور کرانے میں ہمارے لیے کوئی رکاوٹ نہیں۔ اس لیے تاخیر ہو رہی ہے ۔ کہ سب سے مشاورت کا عمل مکمل کیا جائے۔ تاخیر کا ہرگز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ہمارے پاس مطلوبہ نمبرز نہیں۔ ووٹنگ کے دن سب کو معلوم ہو جائے گا اور بہت سوں کی امیدوں پر پانی پھر جائے گا۔
    آئینی ترمیمی پیکج ہے کیا؟ آئیے، آپ کو بتاتے ہیں۔ پیکج میں کل 54تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ اکثریت کا تعلق اعلیٰ عدلیہ سے ہے۔ جس میں عدالت عظمیٰ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65سال سے بڑھا کا 68سال کرنے کی تجویز ہے۔ یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے لیے آٹھ ارکان پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی بنے گی جبکہ کمیٹی کے ارکان کا انتخاب اسپیکر قومی اسمبلی ہر پارلیمانی جماعت کے ارکان کی تعداد کے تناظر میں کریں گے۔ پیکج میں شامل تجاویز کے مطابق سپریم کورٹ کی سطح پر ایک آئینی عدالت بھی قائم ہو گی جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان کی ریٹائرمنٹ سے سات روز پہلے نئے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے تین نام وزیراعظم کو بھیجے جائیں گے جن میں سے بطور چیف جسٹس ایک نام کا انتخاب وزیراعظم کریں گے۔ بعد ازاں منظوری کے لیے منتخب کردہ نام وزیراعظم آفس سے صدر کو بھیجا جائے گا۔ جن کے دستخط سے چیف جسٹس کی تقرری ہو جائے گی۔ جو آئینی عدالت قائم ہو گی اُس میں صرف آئینی معاملات بھیجے جائیں گے۔ ججز کی تعنیاتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی فارمیشن تبدیل کرنے کی بھی تجویز لائی جا رہی ہے۔ آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی تقرری بھی وزیراعظم کی سفارش پر صدر پاکستان کریں گے۔
    آئینی ترمیمی پیکج میں ووٹنگ ہوتی ہے تو حکومت کو اس وقت 214ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ دو تہائی اکثریت کے لیے مزید 10ووٹ درکار ہوں گے۔ سینیٹ میں حکومت کو ایک ووٹ کی کمی کا سامنا ہے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے قومی اسمبلی میں آٹھ اور سینیٹ میں پانچ ارکان ہیں۔ مولانا فضل الرحمن آئینی ترمیمی پیکج میں حکومت کا ساتھ دیتے ہیں تو حکومت کو یہ آئینی ترمیمی پیکج منظور کرانے میں کوئی دشواری نہیں ہو گی، بصورت دیگر حکومت کو پی ٹی آئی کے منتخب ہونے والے 10ارکان کا سہارا لینا پڑے گا۔ اگلے ہفتے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس متوقع ہے۔ دیکھتے ہیں ان اجلاسوں میں اس آئینی ترمیمی پیکج کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے؟

    199 مناظر