آئینی ترمیم وقت کی ضرورت ؟
تحریر: جاوید کمیانہ
گزشتہ چند دہائیوں سے جوڈیشل اسٹیبلشمنٹ نے مضبوط پنجے گاڑھے اور ملکی سیاست کا رخ متعین یا تبدیل کرنے میں سہولت کار ثابت ہوئی۔ ایک جانب سیاست دان اپنے من پسند ججز کی تقرری کروانے میں کامیاب ہوتے تو اس کے جواب میں وہ ججز ان سیاست دانوں کے لیے من پسند فیصلے دینے میں مددگار ثابت ہوتے رہے اور پھر جہاں آئین پاکستان کا حلیہ بگاڑا گیا وہاں ملکی معیشت پر بھی کاری ضرب لگانے میں بھی چند کالے بھونڈوں کا اہم کردار رہا ہے ماضی قریب کی مثال سامنے رکھوں تو آئین کے تریسٹھ اے میں درج ہے کہ اگر کوئی رکن پارلیمنٹ اپنی پارٹی سے انحراف کر کے مخالف سمت میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرتا ہے تو ووٹ تو گن لیا جائے گا مگر ایوان کے پارلیمانی لیڈر کی شکائیت پر منحرف شدہ رکن پارلیمنٹ کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی جس کو اپنی نشست سے یقینی طور پر ہاتھ دھونا پڑے گا مگر پنجاب میں وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کی حکومت بچانے کے لیے اعلی عدلیہ میں بیٹھے چند سہولت کاروں نے اپنا نیا آئین تحریر کیا کہ منحرف رکن پارلیمنٹ کا ووٹ بھی نہیں گنا جائے گا اور وہ ڈی سیٹ بھی ہو جائے گا اور پھر ان ہم خیال ججز نے اس فیصلے کے خلاف دو سال تک اپیل بھی نہ سنی نا ہی غلط فیصلہ دینے پر شرم محسوس کی۔ دوسری بات عدالت عالیہ و عدالت عظمیٰ میں تعینات محترم ججز کا کہیں تبادلہ نہیں ہوتا اور وہ سالہا سال سے اسلام آباد ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں قیام پذیر رہنے کی وجہ سے اپنی مبینہ گروپنگ تشکیل دے کر من پسند سیاست دانوں کو نوازنے کا فریضہ سر انجام دیتے رہے میری مراد اسلام آباد ہائیکورٹ میں مزکورہ چھ اور سپریم کورٹ میں آٹھ قابل احترام ججز ہیں اس کا نتیجہ کیا نکلا تریسٹھ اے کی غلط تشریح سے لے کر آج تک سیاسی فیصلوں میں جانبداری کے باعث ملک میں سیاسی عدم استحکام رہا اور ملکی معیشت لنگڑانا شروع ہو گئی۔ لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں وصول کرنے والے محترم ججز کو دوسروں صوبوں میں بھی ٹرانسفر کرنا چاہیئے تاکہ وہاں کی عوام بھی ان سے مستفید ہو سکیں۔ اس طرح کی کافی مثالیں موجود ہیں جہاں آپ کالے بھونڈ مافیا پر کسی قسم کا کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتے بلکہ وہ چاہے تو ملک وزیراعظم کو بھی توہین عدالت میں طلب کر کے بے عزت کر سکتا ہے یا معافی منگوا سکتا ہے انصاف کی فراہمی کا عالم یہ ہے کہ لاکھوں مقدمات التوا کا شکار ہیں مگر سیاسی مقدمات پر کئی روز تک سماعت چل رہی ہوتی ہے اور عام شہری کو بھی اندازہ ہو رہا ہوتا ہے کہ ججز کیا فیصلہ دیں گے، ملک کے ہر حصے سے غریب سائل اپنی جمع پونجی فروخت کر کے انصاف کے حصول کے لیے دربدر ہیں مگر ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہے، آج برسوں بعد عدلیہ کے محترم ججز نے اعتراف کیا کہ سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو شہید کا عدالتی قتل ہوا اور وہ سرا سر غلط ہے تو کیا محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی جوانی اور محترمہ نصرت بھٹو اور اہل خانہ نے جو مشکلات جھیلیں وہ کوئی جج واپس دے سکتا ہے ؟ خیر متعدد ایسے واقعات ہیں جس کو تحریر کرنے کے لیے چند صفحات اور کافی وقت چاہیے میں اپنے موضوع پر رہتا ہوں اور بتانا چاہ رہا ہوں کہ اس ہفتے میں حکومت آئینی ترمیم لا رہی ہے اور ذرائع کے مطابق وہ باآسانی دونوں ایوانوں سے اکثریت کے ساتھ پاس ہو جائے گی اور سیاست زدہ ججز مستعفیٰ بھی ہوسکتے ہیں مگر اتنا بتاتا چلوں کے طاقتور حلقوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ آئینی مقدمات کو سننے کے لیے الگ عدالت ہو گی اور قابل احترام سپریم کورٹ اور ان کے ججز عوام کے مقدمات سنیں گے تاکہ انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے کہ کوئی بھی قابل احترام ججز اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کرسکے آئندہ چند روز میں یہ ہو کر رہے گا اور اعلیٰ عدلیہ کو سیاست سے پاک کر دیا جائے گا۔۔۔۔۔
