Site icon Meritnews

پروپیگنڈا و منفی سیاست کے اثرات

منفی پروپیگنڈا و منفی سیاست کے اثرات
تحریر: جاوید کمیانہ
آج کل بانی پی ٹی آئی کی صحت بارے خبریں زیر گردش ہیں جس کی بنا پر سوشل میڈیا پر ہیجان برپا ہوا ہے اس منفی خبر کا تخلیق کردہ افغانستان میں بیٹھا مراد سعید ہے جس نے شرلی چھوڑی بعد ازاں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر شور مچا دیا گیا بالآخر تحریک انصاف نے ایسے وقت میں احتجاج کی کال دے دی جب عرصہ دراز کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی عرصہ دراز بعد پاکستان میزبانی کرنے جا رہا ہے اور اس سہ روزہ کانفرنس میں چودہ سربراہان مملکت شرکت فرما رہے ہیں جو کہ پاکستانی نحیف معیشت کے لیے کسی آکسیجن سے کم نہیں ہے۔
احتجاج، جلسہ اور سیاسی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوتا ہے مگر ایک مخصوص سیاسی جماعت نے اس حسن کی شکل بگاڑ دی ہے اور ماضی کے جھروکے میں ایک نظر دوڑائیں تو 2014 میں جب چینی صدر نے دورہ پاکستان کا اعلان کیا تھا تو مزکورہ سیاسی ٹولہ اسلام آباد میں ایک دھرنے سے لطف اندوز ہو رہا تھا نتیجتاً چینی صدر کو وہ دورہ منسوخ کرنا پڑا، اول تو یہ کہ مراد سعید باوثوق ذرائع کے مطابق افغانستان میں مقیم ہے تو اس کی رسائی اڈیالہ جیل میں کیسے ہوئی جبکہ دو کلومیٹر پر بیٹھی پی ٹی آئی کی قیادت کو اس وقت جیل تک رسائی حاصل نہیں ہے دوئم اسلام آباد ہائیکورٹ میں جیل انتظامیہ نے یقین دہانی کروا دی کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے تیسری اور اہم بات بانی پی ٹی آئی عام قیدی نہیں ہیں وہ انتہائی ہائی پروفائل شخصیت ہیں جتنا وہ ریاست کے پاس محفوظ ہیں شاید باہر رہ کر نہیں ہو سکتے جبکہ حکومت اور ریاست کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتی کہ خان صاحب کو کانٹا بھی چبھے مگر چند اوورسیز یوٹیوبرز بشمول پاکستانی یوٹیوبرز جو ماضی میں غربت کی انتہا کو چھو رہے تھے اب لاکھوں ڈالرز کما رہے ہیں اور وہ ڈالرز کے لالچ میں من گھڑت منفی پروپیگنڈا کرتے اور عوام کو گمراہ کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔
میں بارہا عرض کر چکا ہوں کہ عمران خان صاحب کی شہرت آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے مگر اس طرح کے غیر سیاسی فیصلے اور بار بار مزاحمتی و انتشاری سیاست ان کی شہرت کو زوال بخشنے جا رہی ہے، وہ کارکن جو خان صاحب کو سوشل میڈیا پر مسیحا سمجھتے ہیں اور گرفتاری کے خوف سے عملی احتجاج میں شریک نہیں ہوتے اس لیے دو روز قبل پنجاب کے مختلف اضلاع میں دی گئی احتجاج کی کال بری طرح ناکام ہوئی اور ایک دو درجن سے زائد لوگ باہر نہیں نکلے۔ اسی طرح ڈی چوک میں دی گئی کال میں پی ٹی آئی کی قیادت کا شریک نا ہونا کارکنوں کو بددل کر گیا بالخصوص علی امین گنڈاپور کی منصوبہ بندی کے باعث اسلام آباد کسی بڑے سانحے سے محفوظ رہا۔
کیا ریاست کے خلاف زہر افشانی مثبت سیاست ہے ؟ کیا صبح وشام اداروں اور سیاسی مخالفین کو گالی دینے سے سیاست ممکن ہے ؟ کیا فیک نیوز پھیلانا اور ملکی معیشت کو کمزور رکھنے کی کوشش خدمت ہے ؟
ہر عروج کو زوال ہے اور میں وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ تعلیم یافتہ طبقہ جو عمران خان کے ساتھ تھا ان میں سے اہل علم و شعور رکھنے والے افراد یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ خان صاحب کا ایجنڈا ملکی سیاست میں خدمت نہیں ہے محض انتشار پھیلانا ہے اور اقتدار کی کرسی پر قابض ہونا ہے اس کے لیے وہ کسی حد تک جا سکتے ہیں اور انتشاری سیاست سے ملک عدم استحکام سے دو چار کرنا ہے اور جب کسی سیاسی جماعت میں موجود طبقے میں یہ سوچ بیدار ہو جائے تو سمجھ لیں وہ سیاسی جماعت اپنے زوال کی جانب گامزن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

Exit mobile version