• آپریشن عزم استحکام و عدم استحکام کا خاتمہ

    آپریشن عزم استحکام و عدم استحکام کا خاتمہ

    ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف متعدد آپریشنز کیے گئے جن میں ضرب عضب، راہ راست اور ردالفساد کے ذریعے خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی مگر ایک مخصوص سیاسی گروہ کی مسلسل پاک فوج کے خلاف تنقید اور اندرونی سازشوں سے نبردآزما ہونے کے باعث اور معاشی صورت حال پر توجہ دینے کی خاطر اپیکس کمیٹی کے اجلاس نظر انداز ہوئے اور دہشت گردوں کے خلاف موثر کاروائیاں نہ ہو سکیں نتیجتاً دہشت گرد سر اٹھانا شروع ہو گئے اور ملک میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر چل پڑی جس کی وجہ سے چاینہ کے انجینئرز اور پاک فوج کے جوان و افسران نشانہ بنے۔ پاک فوج وقتاً فوقتاً انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کی مدد سے دہشت گردوں کے خلاف مستقل صف آراء ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کے اخلاقی تعاون سے پر زور طریقے سے دہشت گردی کے خلاف بلا تفریق آپریشن شروع کیا جائے اور اندورنی و بیرونی سازشی عناصر کا قلع قمع کیا جائے۔ چند روز للہ ضلع جہلم میں ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر پر حملہ کر کے شہید کیا گیا جس کی زمہ داری بھارتی خفیہ ایجنسی نے قبول کی اور اس طرز کے بیس کے قریب ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بدنام زمانہ ایجینسی را ملوث پائی گئی۔کبھی افغانستان سے دراندازی کہیں کالعدم تحریک طالبان اور پھر را کی ٹارگٹ کلنگ اور مقابلہ میں دنیا کی بہترین واحد ایجینسی آئی ایس آئی جو تمام ملک دشمنوں کے خلاف نبرد آزما ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ان تمام پاکستان دشمنوں کو دھول چٹائی جائے اور گزشتہ روز اپیکس کمیٹی کے اجلاس جس میں مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک تھے آپریشن عزم استحکام پوری قوت کے ساتھ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کی محض پی ٹی آئی نے مخالفت کی ہے مگر مناسب ہو گا کہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے رسمی طور پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ اور پی ٹی آئی کے قائدین کو اعتماد میں لے کر آپریشن کی شروعات کی جائے تاکہ پاک فوج کو مکمل سیاسی و عوامی حمایت حاصل ہو اور اگر یہ سیاسی جماعت آپریشن کے خلاف مزاحمت کرے یا سیکورٹی فورسز کو مدد فراہم کرنے سے قاصر ہو تو صوبے میں کچھ عرصہ کے لیے گورنر راج لگا کر پوری قوت کے ساتھ بے رحم آپریشن شروع کیا جائے کیونکہ چائنا نے بھی واضح الفاظ میں حکومت پاکستان اور پاک فوج کو پیغام دیا ہے کہ ملکی سیکورٹی کے معاملات درست کریں کیونکہ عرصہ دراز سے چائینز عملے پر حملوں سے متعدد پراجیکٹ تعطل کا شکار ہیں۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے چاینہ کے سفیر کو یقین دہانی بھی کروائی ہے اور وفاقی حکومت و پاک فوج سیکورٹی معاملات درست کرنے کے لیے ایک پیج پر ہیں۔ اور آپریشن عزم استحکام ملک میں جاری عدم استحکام کے خاتمے کا ضامن بن کر سامنے آئے گا۔

    208 مناظر