قانون کی طاقت کی بجائے طاقت کا قانون
قانون کی طاقت کی بجائے طاقت کا قانون
تحریر: سلمان احمد قریشی
سب سے پہلے دولت، دولت کے ساتھ شہرت، شہرت کے ساتھ طاقت اور واہ واہ کہنے والے یہ سب مل کر انسان میں زمینی خدا کہلوانے کا شوق پیدا کرتے ہیں۔ اقتدار دنیا کا سب سے بڑا نشہ ہے عام مشاہدہ ہے بہت سے سیاسی رہنما اقتدار میں آتے ہیں تو نہ صرف انکے طور طریقے اور رہن سہن بدل جاتا ہے بلکہ وہ خود کو عقلِ کُل اور قانون سے بالادست سمجھنے لگتے ہیں۔ ویسے ان افراد کی بھی کمی نہیں جو اختیارات ملنے کے بعد عاجزی و انکساری کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں اور پھر اللہ پاک انہیں کامیابیوں و کامرانیوں کے انتہائی اعلیٰ مرتبے پر فائز کر دیتا ہے۔ عالمگیر حقیقت ہے کہ جو بھی اقتدار میں عاجزی اختیار کرتا ہے وہ حکومت اور اقتدار جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے مگر جو اختیارات ملنے پر اپنی اصل ذمہ داریاں ہی فراموش کر دیں تو پھر اقتدار جانے کے بعد ان کا آرام و سکون بھی چھن جاتا ہے مگر اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اقتدار میں آنے کے بعد غرور و تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں۔
قارئین کرام! خادم ہونے کا دعوی دار حکمران طبقہ عام آدمی کے ووٹ سے اقتدار میں آتا ہے۔اقتدار کا مقصد عوامی خدمت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوتا ہے لیکن پاکستانیوں کو اقتدار کا نشہ بری طرح چڑھتا ہے جیسے بھوت پریت چمٹتے ہیں۔ اس نشہ میں مبتلا انسان کو انسان ہی دکھائی نہیں دیتے۔ اقتدار و اختیار کی عینک سے سب نیچے دکھائی دیتے ہیں۔ روز مرہ معمولات میں ہم اقتدار پرست نمائندوں کو اختیارات کا کچھ ایسا استعمال کرتے ہوۓ دیکھتے ہیں کہ انسانیت شرمندہ ہوتی ہے۔ ہماری ملکی سیاست پیچ و خم کا شکار ہے۔ ہر کچھ دیر بعد نیا بحرانی موضوع آتا ہے کہ پچھلے سب موضوعات یکایک پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بلکہ اس کو یوں کہنا بھی مناسب ہو گا کہ ہمارے ہاں اکثریتی سیاستدانوں کے پاس عمرو عیار کی زنبیل موجود ہے جس سے وہ آۓ روز نۓ سے نۓ مساٸل اور بحران نکال کر عوامی امیدوں کو توڑتے اور ان میں پھنستے اور دھنستے ہوۓ دیکھ کر بغلیں بجاتے ہیں اور ہم تمام تکالیف سہنے اور دیکھنے کے بعد بھی سیاسی وابستگی نبھانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ عوامی نمائندوں کے ساتھ ایک تصویر بن جانے پر ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ اکثریت کسی بھی زیادتی پر اس لیے خاموش ہو جاتی ہے کہ یہ سب ہمارے ساتھ نہیں ہوا، ہمیں کیا ہمارے تعلقات تو صاحبِ اقتدار سے اچھے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں طاقت کے شکنجے میں کبھی بھی، کوئی بھی آ سکتا ہے۔
گزشتہ دونوں دو خبریں اخبارات میں شائع ہوئی جو بظاہر معمولی لگتی ہیں لیکن یہ خبریں ہمارے معاشرے کی حقیقت عیاں کرتی ہیں کہ اقتدار اور طاقت کے سامنے فرد کی عزتِ نفس، قانون کی حکمرانی بے معنی ہے۔ طاقت ہی سب سے بڑی دلیل ہے۔ خبر کے مطابق لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ملک وحید کی کالے شیشوں والی گاڑی روکنے پر تھانیدار کا تبادلہ کر دیا گیا۔ سب انسپکٹر نے اہلکاروں کے ہمراہ ایم پی اے کی کالے شیشوں والی گاڑی روکی تھی۔ گاڑی مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ملک وحید کی تھی اور وہ خود گاڑی میں موجود تھے۔ایم پی اے ملک وحید اور پولیس اہلکاروں کے درمیان گفتگو کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی۔ ویڈیو میں ملک وحید کہتے ہیں کہ میں ملک وحید ہوں، کوئی ایرا غیرا ایم پی اے نہیں ہوں۔ ایم پی اے ملک وحید اصرار کرتے ہیں کہ کیمرے کے سامنے معافی مانگو ورنہ انجام اچھا نہیں ہو گا۔ ایس آئی یاسر اور اہلکاروں نے ایم پی اے ملک وحید سے معافی مانگی تو جان چُھوٹی۔ بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز علی ناصر رضوی نے سب انسپکٹر یاسر کا تبادلہ کر کے جوڈیشل ونگ بھیج دیا۔انہوں نے کہا کہ تلاشی کے بہانے عوام میں ہمارا مذاق بنانے کی کوشش کی گئی، سیاسی ریلی تھی، عوامی نمائندہ ہوں اور عوام کے سامنے تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا گیا، پولیس کی زیادتی پر کارکن طیش میں آ گئے۔ بنیادی سوال تو یہ ہے کہ کیا قانون یہ کہتا ہے کہ ایم پی اے کی گاڑی نہ روکی جائے اور کالے شیشے لگا کر گھومنا ایم پی اے کا استعقاق ہے۔ پولیس آفیسر نے غلط بھی کیا تو ان کیمرہ اس سے معافی منگوانا کیا قانونی تقاضا تھا۔۔؟
دوسری خبر ہے کہ مسلم لیگ ن پنجاب کی ایم پی اے عظمیٰ کاردار کے زیورات کی چوری کا مقدمہ درج ہوا اور 4 خواتین کو گرفتار کیا گیا۔ لاہور کے ماڈل ٹاؤن تھانے میں درج مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق اسمبلی سیشن کے بعد رکن صوبائی اسمبلی عظمیٰ کاردار سوئمنگ کیلئے ماڈل ٹاؤن کلب گئیں تھیں، چوری کی واردات ان کی سوئمنگ کے دوران ہوئی۔ ایف آئی آر میں عظمیٰ کاردار نے مؤقف اپنایا کہ زیورات ان کے پرس میں تھے اور پرس انہوں نے کلب کے لاکر میں رکھا تھا واپسی پر معلوم ہوا کہ پرس سے 4-5 لاکھ روپے مالیت کے زیورات غائب تھے عظمیٰ کاردار کا مؤقف تھا کہ انہیں کلب کی دو انسٹریکٹرز اور ملازمین پر شبہ ہے ان سے تفتیش کی جائے۔ایس پی ماڈل ٹاؤن کے مطابق رکن اسمبلی عظمیٰ کاردار کے زیورات چوری کے معاملے کا مقدمہ درج کر کےکلب عملے کی 4 خواتین کو حراست لےلیا اور چاروں خواتین سے ہر طرح کی پوچھ گچھ کی گئی تاہم سرِدست چوری ثابت نہیں ہوئی۔ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن کے مطابق عظمیٰ کاردار کے شوہر کو اعتماد میں لیکر چاروں خواتین ملازمین کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کلب انتظامیہ نے چاروں خواتین کے بے گناہ ہونے کی ضمانت دی ہے، کلب میں لگے کیمروں اور انتظامیہ کے بیانات کی روشنی میں معاملے کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب کلب کی خواتین ملازمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے چوری نہیں کی عظمیٰ کاردار کے کہنے پر پولیس نے انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا ہے ان کے بازو مروڑے، اور ڈنڈے مارے گئے جبکہ پولیس اہلکاروں نے عظمیٰ کاردار کے سامنے انہیں برہنہ کر کے ان کی تلاشی لی۔ اگر خواتین تفتیش میں مکمل بے گناہ ثابت ہو جاتی ہیں تو معافی کون مانگے گا۔۔۔؟ کیا ہم کِسی سے معافی کا مطالبہ کر سکتے ہیں، یقینا ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ عزت صرف صاحبِ اقتدار کی ہوتی ہے غریب اور کمزور کی کیسی عزت۔ عظمی کاردار کو حال ہی میں نا خوشگوار رویہ کا سامنا کرنا پڑا دنیا نے دیکھا کہ جب وہ نومنتخب وزیرِاعلی پنجاب کو مبارکباد دینے کے لیے ان کی طرف لپکی تو انہوں نے انکا ہاتھ دور جھٹک دیا۔ اس وقت عظمی کاردار نے کیسا محسوس کیا۔غریب خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر سب خاموش رہیں گے کیونکہ عزت صرف اہل اقتدار کا حق ہے عام آدمی اسی سلوک کا مستحق ہے۔ اپنی مرضی و منشا سے پولیس کا استعمال عوامی نمائندوں کا وطیرہ ہے یہی وجہ ہے عام آدمی انصاف حاصل نہیں کر سکتا۔پاکستان کے تمام ادارے جو ملک میں امن و امان بحال رکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ وہیں ایسے اداروں کے افسران کو ریاست کی طرف سے قانونی تحفظ فراہم کرنا بھی لازم ہے لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایک طرف پولیس کا ادارہ انتہائی طاقتور ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف اسی ادارے کے افسران و ملازمین قابلِ رحم، مظلوم اور بے بس بھی ہیں۔ بدقسمتی سے پولیس ملازمین کے ساتھ ہر دور میں کھلواڑ کیا گیا۔ ہمارے سسٹم میں سیاسی مداخلت سرائیت کر چکی ہے۔ ممبرانِ اسمبلی ٹرانسفر پوسٹنگ پر اثر انداز ہونا اپنے لیے فخر کا باعث سمجھتیں ہے۔ محکمہ پولیس ہی نہیں ہر جگہ پاکستان میں قانون کی طاقت کے بجائے طاقت کا قانون رائج ہے جو جتنا با اثر ہے اتنا ہی اداروں پر اپنا اثر ڈال کر اپنی انا کی تسکین چاہتا ہے۔ بنیادی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں محکمہ صحت، محکمہ تعلیم تک میں تعیناتی میں ٹانگ اڑانا اراکین اسمبلی اپنا حق سمجھتے ہیں۔ مقامی کرپٹ مافیاز کی مکمل سرپرستی کی جاتی ہے کسی ایماندار اور اہل آفیسر کو علاقہ میں تعینات نہیں ہونے دیا جاتا۔ ہم جنہیں عوام دوست سمجھ کر منتخب کرتے ہیں وہ بھی اسی رنگ میں رنگے جاتے ہیں جیسے سطور بالا میں ملک وحید اور عظمی کاردار کا کردار سامنے آیا۔ ہماری ان باتوں کا رخ کسی خاص صاحبِ منصب شخص یا حکومت کی طرف ہر گز نہیں بلکہ یہ ایک ملکی حقیقت ہے کہ جو بھی اقتدار میں آتا ہے ایسا کرتا ہے۔ حضرت علی المرتضیٰؓ سے منسوب ہے کہ دولت، اقتدار اور اختیار ملنے پر لوگ بدلتے نہیں بلکہ آشکار ہو جاتے ہیں۔ ہم جنہیں خدام سمجھتے ہیں وہ طاقت ملنے پر ظالم بھی بن جاتے ہیں اور خود کو قانون سے بالاتر بھی سمجھتے ہیں۔ انتظامی معاملات میں دخل اندازی اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں۔ سب کو اپنے سے کمتر اور خود کو اعلی و ارفع سمجھتے ہیں۔ ہم صرف حضرت علی المرتضیٰؓ کے قول کو ہی سمجھ لیں تو خود فربیی اور ظلم کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔