• جوئے کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف موثر قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے۔ رانا قیوم

    سانگلاھل رپورٹ(ریاض بھٹی) سے معروف بزنس مین رانا قیوم نےمیڈیا سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومتی سطح پر نیشنل اور انٹر نیشنل سطح پر لوگوں کو انٹرٹین کرنے کے لیے مختلف کھیلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے لیکن کچھ لوگ اس انٹرٹیمنٹ کو منفی رنگ میں ڈھال کر اپنے چند ذاتی مفادات کی خاطر اس کو جوئے کی بکنگ کے رنگ میں ڈھال کر اس معاشرے کے بہت سے نوجوانوں کی اور ان کے اہل خانہ کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا ہے ان بوکیوں کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں کہ ان کے خلاف حکومتی سطح پر کاروائی کرنا ایک خواب سا بن کر رہ چکا ہے اس گنوونے کاروبار میں ملوث بوکیوں کے اس عمل نے بہت سے ماؤں سے ان کے لال بہت سے بچوں کے والدین کو چھین لیے ہیں بلکہ اکثر اوقات اس لعنت کو تقویت بخشنے کے لیے لوگ اپنے گھر بار بیچنے کے ساتھ ساتھ خود کشی کر لیتے ہیں اگر یہ بوکیے کبھی قانونی شکنجے میں آ بھی جائیں تو حکومتی سطح پر جوئے کی اس لعنت میں ملوث ان بکیوں کے خلاف موثر قانون سازی نا ہونے کی وجہ سے یہ لوگ دوسرے روز ہی مقدمہ ہذا سے ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں رانا قیوم نے تمام حکام بالا سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ جوئے کے اس کاروبار میں ملوث بوکیوں کے خلاف موثر قانون سازی کروا کر معاشرے سے ایسے نا سوروں کو پاک کیا جائے تاکہ معاشرے میں موجود ماؤں کے لعل اور بچوں سے ان کے والد دور نا ہوں

    287 مناظر