Site icon Meritnews

شہباز حکومت کا ضامن۔۔ آصف علی زرداری

سیاست میں نشیب و فراز سے جمہوری سوچ کی عکاسی ہوتی ہے، ماضی کے دشمن حال کے دوست اور ماضی کے دوست مستقبل میں سیاسی دشمن بن جائیں یہ سیاست کا حصہ ہیں جس کی مثال ماضی قریب کی ہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اب نہ صرف پی ڈی ایم کا حصہ بھی نہیں ہیں بلکہ اس سیاسی الائنس میں شامل سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن کو وزیراعظم اور آصف علی زرداری کو صدر کے انتخاب میں ووٹ بھی نہیں دیا دوسری جانب پی ٹی آئی سے شدید سیاسی اختلاف رکھنے والے مولانا صاحب کی حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی سے قربتیں بڑھتی نظر آئیں اور بانی پی ٹی آئی کی منظوری کے بعد پی ٹی آئی کا وفد مولانا صاحب سے چار بار ملا یہ کوئی سوچ سکتا تھا ؟ مگر سیاسی عمل میں یہ سب جائز ہے۔ کچھ سال قبل شہباز شریف صاحب آصف علی زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کرتے ہیں مگر سولہ ماہ کی حکومت میں زرداری صاحب سے پوچھے بغیر وہ کوئی سیاسی فیصلہ نہیں کرتے تھے کیونکہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر سارا جوڑ توڑ آصف علی زرداری نے کیا تھا بلکہ ضمانت دی تھی کہ ہم عمران خان کو آئینی طریقے سے نہ صرف رخصت کریں گے بلکہ سولہ ماہ کی سرکار کو چلا کر اپنی مدت بھی پوری کریں گے اس وقت میاں نواز شریف کی سوچ متزلزل تھی مگر آصف زرداری پر اعتماد تھے اور وہ مرحلہ بخوبی تکمیل تک پہنچا۔
اب ذرا آصف علی زرداری کی شخصیت پر بات کریں تو انتہائی دھیمے لہجہ کے ساتھ مسکراہٹ بکھیرتے اس شخص کو مفاہمت کا پیکر کہا جاتا ہے جنہوں نے ماضی کے سیاسی دشمنوں کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کردیا اور مفاہمتی فارمولے کے تحت مقتدرہ کے نزدیک ہوتے چلے گئے۔ ایک بار میاں نواز شریف کے بہکاوے میں آکر بغیر نام لیے اداروں کے بارے میں کہا تھا کہ آپ نے تین سال کے لیے آنا ہوتا ہے اور ہم نے یہیں اسی سسٹم میں رہ کر سیاست کرنی ہے مگر کچھ عرصہ بعد زرداری صاحب کو اندازہ ہوا کہ الفاظوں کا چناؤ درست نہیں تھا اور فی الفور اپنے مراسم مقتدرہ کے ساتھ پہلے سے زیادہ مضبوط بنائے اور اس کے بعد سے مسلسل تیسری بار سندھ کی حکومت باآسانی بنانے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں بلکہ سینیٹ اور مرکز میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلا کر مناسب حصہ وصول کر لیتے ہیں۔
موجودہ سیاسی حکومت کی تشکیل میں تاخیر کے دوران چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں مگر واضح نظر آ رہا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اشتراک سے حکومت سازی کا عمل باآسانی مکمل ہو جائے گا۔ اس وقت صدر پاکستان سمیت متعدد آئینی عہدوں پر دونوں سیاسی جماعتوں کے مابین مذاکرات ہوئے اور ڈیڈلاک ختم ہوا یا کروایا گا جس کے بعد اعلان ہوا کہ آصف علی زرداری کو صدر مملکت بنایا جائے گا کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف اپنی حکومت کی مدت پوری ہونے کے ضامن آصف علی زرداری کو سمجھ رہے ہیں اور صدارتی انتخابات میں مسلم لیگ ن نے زرداری صاحب کو اسی طرح ووٹ دیے جیسے وزیراعظم کے انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کو اور یوں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آصف علی زرداری پہلی سول شخصیت ہیں جو دو بار صدر مملکت بننے میں کامیاب ہوئے۔ آصف علی زرداری زیرک سیاستدان ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں و مخالفین ان کے سیاسی جوڑ توڑ اور سیاسی بساط بچھانے کے معترف ہیں مگر عالمی سطح پر بھی آصف علی زرداری اپنا مقام رکھتے ہیں جہاں انہوں نے اسمبلیوں کی تحلیل اپنے ہاتھ سے نکال کر پارلیمنٹ کو مضبوط بنایا، کے ہی کے کو اس کا تشخص دیا، صوبوں کو خود مختار بنایا وہاں انہوں نے امریکہ سے بغیر ناراض کیے چین کے ساتھ سی پیک کی بنیاد رکھی اور ایران سے گیس پاکستان لانے کے لیے معاہدہ کیا جو ان کی حکومت کے بعد التوا کا شکار ہو گیا تھا ۔
موجودہ معاشی صورت حال کے بارے میں صدر مملکت آصف علی زرداری کہہ چکے ہیں کہ مل کر ملک کو بحران سے نکالیں گے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ وہ اپنے اس عہدے اور مفاہمتی مزاج کی بدولت نہ صرف ملک کے اندرونی سیاسی معاملات میں استحکام بھی لائیں گے بلکہ عالمی سطح پر خارجہ پالیسی کا فریضہ سر انجام دیتے بھی نظر آئیں گے۔…..

Exit mobile version