اجتماعی مقاصد کا حصول عوامی شمولیت سے ہی ممکن ہے
تحریر: سلمان احمد قریشی
پنجاب کی وزیرِ اعلی مریم نواز حلف اٹھانے کے بعد کابینہ کی تشکیل سے قبل ہی متحرک ہو گیٸں۔ “صاف پنجاب” مہم کا آغاز وزیرِ اعلی پنجاب مریم کی ہدایت پر کیا گیا۔ اس سلسلہ میں محکمہ لوکل گورنمنٹ نے تمام مقامی حکومتوں اور انتظامی کمپنیوں کو ایک خط جاری کیا۔ وزیرِ اعلی مریم نواز کے وژن کے مطابق پورے پنجاب کی صفائی ایک ماہ میں مکمل ہو جائے گی۔ صاف پنجاب مہم 1 سے 31 مارچ تک جاری رہے گی۔ وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر گلیوں، محلوں کی صفائی کے لئے متعلقہ محکموں کو مکمل طور پر متحرک کیا گیا ہے۔ صفائی مہم کے دوران کچرے کے ڈھیروں کو کھلی جگہوں سے اچھی طرح صاف کیا جائے گا اور صوبے بھر میں سبزیوں کی منڈیوں، بازاروں اور بس ٹرمینلز میں بھی بھرپور صفائی ہو گی۔ ڈی جی لوکل گورنمنٹ نے “کلین پنجاب” مہم کے فوکل پرسنز کو مقرر کیا ہے، جن سے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب کی جائے گی کلین پنجاب مہم کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں رمضان کی آمد سے قبل اسے نگہبان رمضان راشن کا ایک پیکٹ تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ شہری اس معاملے پر اپنی اہلیت آن لائن بھی چیک کر سکتے ہیں۔ رمضان راشن پیکیج کی تمام معلومات آن لائن ہیں۔ اس پیکیج کی اہلیت کے لئے شرائط اور جہاں سے یہ پیکیج موصول ہو سکتا ہے یہ تمام تفصیلات میّسر ہیں۔ مزید تفصیلات کے لئے سائٹ موجود ہے جہاں رمضان راشن پیکیج کے بارے میں مزید معلومات کی ضرورت ہو تو، نام ،شناختی کارڈ نمبر رجسٹر کرنے کے لئے ضروری معلومات دستیاب ہیں۔ نگہبان پیکج کی ہیلپ لائن 1166 ہے جس پر کال کر کے اہلیت کی جانچ کی جا سکتی ہے۔ نگہبان موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے بھی رمضان راشن پیکیج کی معلومات میسر ہیں۔ اہلیت کی بنیادی شرائط آسان اور سیدھی ہیں۔ اہل فرد کا تعلق پاکستان سے ہونا چاہیے اور آمدنی غربت کی لکیر سے نیچے ہونی چاہیے۔ کوئی عوامی ملازمت یا کاروبار نہیں ہونا چاہئے۔ اس نگہبان امدادی پیکیج میں رمضان میں موصول ہونے والے راشن میں 10 کلو آٹا، 5 کلو چاول، 2 کلو گھی، 2 کلو چینی، 1 کلو دال،1 کلو چائے کی پتی، 500 گرام مصالحہ، 500 گرام کجھور شامل ہیں۔ حکومتِ پنجاب کی طرف سے جاری کردہ رمضان 2024 کے تحت راشن پیکیج کی تقسیم 15 مارچ 2024 کو شروع ہو گی۔
قارئین کرام! صاف ستھرا ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے جس کی بنیادی ذمہ داری بلدیاتی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔وال چاکنگ اور تجاوزات کے خلاف بھی سخت کارروائی بہت ضروری ہے۔ پنجاب میں بلدیاتی نمائندے موجود نہیں اس لیے اس مہم کی کامیابی کا تمام تر انحصار بیوروکریسی کی کارکردگی پر ہے۔ بیوروکریسی اگر فوٹو سیشن تک محدود نہ رہے تو بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جہاں حکومتی سطح پر ماحول کو صاف رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ یہ زمہ داری ہم پر بھی عائد ہوتی ہے وہ اس طرح کہ ہم اپنے اردگرد ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔ دیکھا یہی گیا ہے کہ گھر کا کوڑا کرکٹ ہم بڑی لاپروائی سے سڑک پر پھینک دیتے ہیں، جس سے گھر تو صاف رہتا ہے لیکن یہی کوڑا کرکٹ اِرد گِرد کے ماحول کو خراب کرتا ہے، حالانکہ حکومتی سطح پر اس کا بندوبست کیا گیا ہوتا ہے۔ مگر ہم چند گز کی مسافت طے کرنا پسند نہیں کرتے اپنی گلی محلے کو صاف ستھرا رکھ کر بڑی حد تک آلودگی پر قابو پایا جا سکتا ہے،’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ حضرت محمد ؐ کا فرمان ہے جن کی تعلیمات پر عمل کرنے میں بنی نوع انسان کی کامیابی اور نجات کا راز ہے۔ اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے وزیرِاعلی کی تصویر لگا کر تشہیری مہم سے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔ سوشل میڈیا پر بھرپور مہم کے ساتھ، مساجد کے امام اور سکول و کالجز میں صفائی ستھرائی کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے مہم چلانا ضروری ہے۔ یہ ایسے مقاصد ہیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے وسائل سے زیادہ آگاہی اور ترغیب اہم ہے۔ یورپ یا ترقی یافتہ معاشروں میں صفائی ستھرائی قائم رکھنے میں مہم سے زیادہ اہم اجتماعی سوچ کا عمل دخل ہے۔ ہم اگر اپنے ساتھ آزاد ہونے والے ہمسایہ ملک بھارت کی مثال کو سامنے رکھیں تو بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2 اکتوبر 2014ء کو ملک گیر سطح پر صفائی ستھرائی کی مہم کا آغاز کیا۔ اس مہم کا نام “سُوَچھ بھارت اَبِھیان” دیا گیا۔ 2 اکتوبر کے انتخاب کی اہم وجہ بھارت بھر میں عام طور سے بابائے قوم کا درجہ دی جانے والی شخصیت مہاتما گاندھی کا یوم پیدائش اور قومی تعطیل ہونا ہے۔ اس پروگرام کو سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور کئی اہم شخصیات کی طرف سے زبردست حمایت حاصل ہوئی ہے کیونکہ مہاتما گاندھی صفائی ستھرائی کے زبردست حامی اور خود کئی تطہیری کوششوں کا حصہ بنے تھے۔ اسی طرح ہمیں بھی صفائی ستھرائی مہم میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات اور عام آدمی کو شامل کرنا ہو گا۔حکومتی سطح پر اعلانات اور وسائل کے استعمال سے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔ وزیرِاعلی پنجاب مریم نواز کے وژن اور صلاحیت پر سوال نہیں اہم بات یہ ہے کہ اجتماعی سوچ کو پروان چڑھایا جائے کہ ہم نے گھروں کے ساتھ گلی محلہ اور اپنے شہروں کو صاف رکھنا ہے۔سیاست سیاسی میدان میں کریں اجتماعی مقاصد کے لیے قومی یکجہتی اور اجتماعی کوششیں لازم ہیں۔ اب اگر نگہبان رمضان پیکج کو دیکھیں تو رمضان نگہبان کے تحت پیکج لوگوں کے گھروں تک پہنچایا جائے گا لوگوں کو قطاروں میں نہیں لگنا پڑے گا۔ صوبہ پنجاب میں تین کروڑ لوگوں کو رمضان پیکج ملے گا جو انکے گھر کی دہلیز تک پہنچایا جائے گا۔ پنجاب حکومت نے مہنگائی میں کمی اور رمضان المبارک کی رحمتوں و برکتوں بھرے مہینے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، اس کے لئے اس نے 30 ارب روپے کا رمضان ریلیف پیکیج تیار کیا ہے جس کے مطابق صوبے بھر میں سستے بازار لگانے کے علاوہ رمضان نگہبان پیکیج کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ مستحقین کے گھر تک لاکھوں راشن بیگ بھی پہنچائے جائیں گے۔ اِس رمضان ریلیف پیکیج سے مہنگائی کے ستائے عوام کو ریلیف ملے گا۔ اِس کے ساتھ نومنتخب صوبائی حکومت کو صوبے بھر کے گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی شکنجہ سخت کرنا ہو گا جو اشیاۓ خوردو نوش سمیت دیگر اشیائے ضروریہ ذخیرہ کر لیتے ہیں اور پھر رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے قبل قیمتیں کئی گنا تک بڑھا دیتے ہیں۔ اِس سے نپٹنے کے لئے ہر ضلع میں موجود پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کرنے کے ساتھ اْن کی کارکردگی کو مانیٹر کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ فرائض میں غفلت برتنے والوں سے آہنی ہاتھ سے نپٹا جانا چاہئے، ذمہ داران کو کڑی سزا دی جانی چاہیے۔ ماضی میں سستے بازاروں کی آڑ میں کرایوں اور انتظامات کی مَد میں کروڑوں روپے کی خرد برد کی جاتی رہی ہے تو اِن کا تدراک بھی ضروری ہے تاکہ عوام کو صحیح معنوں میں ریلیف مل سکے اور حکومتی اقدامات کا ثمر عام آدمی تک بھی پہنچے یہ دونوں پروگرام نئے نہیں اور طریقہ کار بھی پہلے سے زیادہ مختلف نہیں۔ ماضی کی تمام تر کوششیں مکمل نتائج نہیں دے سکی۔ اس کی سب سے اہم وجہ سیاسی مقاصد تھے۔ نتائج سے زیادہ زور تشہیر پر لگایا جاتا ہے۔حکمران سیاسی اور بیوروکریسی روایتی انداز سے معاملات چلاتے ہیں جبکہ عوام ان فیصلوں سے دور رہتے ہیں۔ آج بھی اگر ہم حکومت اور ریاستی مشینری کے ساتھ فعال کردار ادا نہیں کرتے تو مقاصد حاصل کرنا ممکن نہیں۔ موجودہ حالات اس کا تقاضہ کرتے ہیں سیاسی بحث اور گرما گرمی کو ایک طرف رکھتے ہوئے پاکستان کے لیے سوچیں اور اپنا حال اور مستقبل خود بہتر کریں۔ نگہبان رمضان پیکج ہو یا صاف ستھرا پنجاب پیکج، ان مہمات کو کامیاب کرنے کے لیٸے ضروری ہے کہ ہر شہری اپنا بہترین کردار ادا کرے۔ ہمارا پہلا تعارف سیاسی وابستگی نہیں پاکستان ہے اور ملک چلانے کی ذمہ داری حکومتِ وقت ہی کی نہیں ہوا کرتی شہریوں کا کردار اور رویہ سب اہم ہوتا ہے تعریف و توصیف، تنقید و اعتراض کو چھوڑ کر اپنے کردار کو اجاگر کریں کیونکہ اجتماعی مقاصد کا حصول عوامی شمولیت ہی سے ممکن ہے۔