ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب ڈیپارٹمنٹ میں اصلاحات یا وائٹ کالر کرائم کے نام پر لوٹ مار
محکمہ ایکسائز کا پنجاب کے باسیوں کیساتھ براہِ راست تعلق ہے۔ صوبائی سطح پر محصولات کی وصولی کا اہم کام یہ محکمہ کرتا ہے۔ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے لیکر ٹوکن ٹیکس کی وصولی تک اور پراپرٹی ٹیکس کی اسیسمنٹ سے لیکر نارکوٹکس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے تک قدم با قدم یہ محکمہ عوام کیساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس محکمے کا سب سے اہم اور با اختیار افیسر ڈی جی ایکسائز ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آج تک اس محکمے کو کبھی بھی کوئی قابل اور ایماندار ڈی جی نا مل سکا۔ نئے ڈی جی کی اس محکمے میں تعیناتی سے کافی امیدیں وابستہ ہو گئی تھیں کہ وہ یہاں کوئی قابلِ قدر اقدام اٹھا کر عوام کو ریلیف مہیا کرے گا۔ مگر اس نے بھی پاکستان ایڈمنسٹرٹیو گروپ کے زیادہ تر دوسرے آفیسروں کیطرح یہاں مبینہ لوٹ مار کرنا ہی مناسب سمجھا۔ افسوس کہ اج بھی ہمارے ایڈمنسٹریٹو گروپ کے زیادہ تر افسروں کا حال ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورے آفیسرز جیسا ہی ہے۔ جو بھی اس محکمے میں آتا ہے، اس کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے ذیادہ مال بنا کر ہی یہاں سے رخصت ہو۔ اسی مال کے چکر میں نئے ڈی جی نے اپنی اگلے سکیل میں پروموشن کی ٹریننگ بھی منسوخ کروا دی۔ آپ نے اس محکمے کو بہتر بنانے میں جو خاص کردار ادا کیا ہے، اس کے چند چیدہ چیدہ اقدامات حسبِ ذیل ہیں۔
1۔ پنجاب کے تمام موٹر رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کے دفاتر میں سے باقاعدہ ہفتہ وار اور مہینہ وار رقوم میں اضافہ کر کے مبینہ بدعنوانی کے عنصر کو تقویت دی۔
2۔ دوسرا سب سے بڑا اور اہم کام ہوٹلوں سے الکوحل کی مد میں ایکسائز ڈیوٹی کی رشوت کو بھی براہِ راست اپنے خاص آدمیوں کے ذریعے وصول کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ حال ہی میں کسی صوبائی ایجنسی نے ایکسائز کے ایک کارخاص آدمی کو رنگے ہاتھوں پکڑ بھی لیا تھا۔ مگر لگتا ہے کہ آپ کچھ دے دلا کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
3۔ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں بھی باقاعدگی سے ہفتہ وار اور مہینہ وار رقوم وصول کرنے میں ذرا بھی تاخیر برداشت نہیں کرتے۔
4۔ پوسٹنگ اور ٹرانسفر میں آپ کو رقوم ہتھیانے میں خاص مہارت حاصل ہے۔ آپ اپنے کسی بھی سینیر اور جونئیر افیسر کی کال کا ذرا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔ بلکہ سفارش کروانے والے کو مزید ذلیل کر کے سب کو پیغام پہنچاتے ہیں کہ اگر مجھ سے تبادلہ کروانا ہے تو براہِ راست میرے کارخاص کے ذریعے اچھا اور بھاری سا لفافہ بھیجیں ورنہ نشان عبرت بنا دوں گا۔
5۔ آپ نے ایک اور بڑا اہم کارنامہ ادا کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں تمغہ شجاعت عنایت کیا جانا مناسب ہو گا۔ آپ نے یہ کارنامہ پورے پنجاب میں کلرکوں کو انسپکٹر کا عہدہ دے کر کیا ہے۔ اور اس کے لیے اچھی خاصی رقم بھی ان سے ہتھیانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
6۔ موٹر برانچ میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کو پیپر لیس کرنے کے بہانے ڈی جی نے ماتحت ای ٹی اوز اور انسپکٹرز کو دباؤ میں لا کر بہت ساری غیر قانونی گاڑیاں رجسٹرڈ کروائیں۔ یہ معاملہ جب میڈیا میں رپورٹ ہونا شروع ہوا تو پھر خود ہی ان کیخلاف انکوائری کا حکم نامہ جاری کر دیا۔
7۔ ڈی جی ایکسائز اپنے شاپنگ وغیرہ کا بندوبست بلکہ لاڈلے انسپکٹروں کےذریعے اکثر کرتے رہتے ہیں اور مجال ہے کبھی اس گھٹیا حرکت پر ذرا بھی پشیمان ہوتے ہوں۔
8۔ اس کے علاوہ جناب محکمے کے ملازمین کی وردیوں، پیڑول اور فلاح و بہبود کے لیے مختص فنڈز کو بھی ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں خاص مہارت بھی مہارت رکھتے ھیں
9۔ سب سے بڑا اسکینڈل جو آپ نے جان بوجھ کر جنم دیا ہے وہ ہے گاڑیوں کے سمارٹ کارڈذ اور نمبر پلیٹوں کے اجراء میں تاخیر۔ آپ نے باقاعدہ موٹر برانچ کے سب دفاتر میں ہدایات جاری کی ہوئی ہیں کہ جب تک ہر ایشو ہونے والے کارڈ پر آپ کا ایک خاص حصہ نا رکھا جائے، کارڈ اور نمبر پلیٹس متعلقہ شخص تک کبھی بھی نا پہنچنے پائے۔ اگر پنجاب میں کوئی مائی کا لال بغیر رشوت دیئے کارڈ وصول کرنے میں کامیاب ہو سکے تو پھر وہ سمجھے اس ڈی جی پر لگے تمام الزامات غلط ہیں۔
10۔آپ نے “موٹر رجسٹریشن آپ کی دہلیز پر” نامی پراجکٹ کے ذریعے بھی قومی خزانے کو اچھا خاصا لوٹا ہے۔ کیا پنجاب کا کوئی بھی رہائشی اس پراجکٹ سے ابھی تک مستفید ہو پایا ہے؟
المختصر، آپ نے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کو لوٹ لوٹ کر ان کی چینخیں نکلوا دی ہیں۔ بدلے میں ملازمین نے عوام کو لوٹ لوٹ کر ان کی چینخیں نکلوا دی ہیں۔ اس سارے عمل کو آج تک وہ جس خاص الخاص عادات کے ذریعے کامیابی سے چلانے میں کامیاب ہو رہے ہیں، وہ عادات ہے ملاذمین کو دھونس اور دھمکیوں کے ذریعے خوف ذدہ رکھنا۔ آپ انہیں اتنا ڈراتے ہیں کہ وہ بے چارے اپنی اپنی نوکری بچانے کے چکر میں ان کی ہر جائز اور ناجائز خواہش پوری کرتے چلے جا رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اب شاید پاکستانی عوام کیطرح ان کا بھی صبر جواب دے چکا ہے۔
اس کالم کےذریعے توجہ طلب مسائل کو اجاگر کرکے بھی ڈی جی ایکسائز مستفید نہ ھوئے تو اس ادارے کا اللہ ھی حافظ۔ ھے اس سے پہلے بھی ایک ڈی جی نے ھوٹل کا بیڈ ٹیکس اور دوسرے نے ٹوکن ٹیکس اور انٹرٹینمنٹ ٹیکس سے بھی اس ادارے سے چھٹکارا حاصل کیا تھا اب لگتا ھے کہ ایکسائز ٹیکس بھی ان کے ھاتھ سے جانے والا ھے آپ ادارے میں اصلاحات کے نام پرملازمین میں خوف و ہراس پھیلا کر بدعنوانی کرنا بند کردےبلکہ کوشش کریں بہتری نہیں کر سکتے توجتنی جلدی ہو سکے اب اس محکمے کی جان چھوڑ دیں۔ میں اپنے اس کالم کے ذریعے چیف سیکرٹری آفس کو بھی پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ اپنے اس افیسر کے ناجائز کاموں کا دفاع کرنے کی بجائے ان سارے الزامات کی صحیح طرح جانچ پڑتال کرے اور اگر یہ واقعی درست ثابت ہوتے ہیں تو اس طرح کے بدعنوانیوں کو منظر عام پر لا کر پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے
1100گاڑیوں کا سکینڈل میڈیا میں پر منظر عام آنےکے بعد گاڑیوں کو بلاک کردیا گیا سکینڈل ختم
اور بہت جلد ھی ایک بڑا گاڑیوں کا سکینڈل بھی سامنے آنے والا ھے ان میں لاھور کے خاص خاص انسپکٹرز بھی شامل ھیں ان کے خلاف بھی پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے ایکسائز کےتمام ضلع اور تحصیل کے ھر آفس موٹر برانچ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن دفاتر سے 70000روپے فی آفس سےفیس سکیننگ حاضری کے نام پر وصول کیے گئے اور سرکاری خزانے سے بھی کروڑو روپے نکلوا لیے گے اور سرکاری خزانے کو نقصان پنچایا گیا جبکہ پنجاب کے تمام دفاتر سے ایکسائز ملازمیں نے رقم اپنی پاکٹ سے ادا کیں اور ھاں چیف سیکرٹری کا دورہ بھی ھمیں لاکھوں کا پڑا وہ بھی بیچارے ایکسائز ملازمین نے اپنی پاکٹ سے ادا کیے اور یہ رقم سرکاری خزانے سے بھی وصول کی گئی اس سے بڑا ظلم اور کیا ھو گا اس کے لیے کوئی ٹینڈر جاری نہیں کیا گیا جبکہ ڈی جی آفس کے مطابق کسی کو بھی کوئی فیس سکیننگ ڈیوائس فراہم نہیں کی گئی ڈی جی ایکسائز آفس کے کچھ افسران نے بھی اس بہتی گنگا میں ھاتھ دھونے سے پیچھے نہیں رھیں
