• انتشار، عوام کا بخار

    انتشار، عوام کا بخار

    ملکی تاریخ کے ہر انتخابات میں ہارنے والی سیاسی جماعت اپنے حریف پر دھاندلی کا الزام لگاتی آئی ہے اور کبھی کسی نے شفاف،غیر جانبدارانہ انتخابات کا دعویٰ نہیں کیا مگر حالیہ انتخابات سب سے زیادہ متنازع بن کر سامنے آ رہا ہے جہاں چاروں صوبوں میں عوام سڑکوں پر ہے۔ پاکستان تحریک انصاف دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا عوامی مینڈیٹ چھینا گیا ہے اور وہ سادہ اکثریت سے مرکز، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں تھی۔ اس میں بھی شک نہیں کہ مسلم لیگ نواز آر اوز الیکشن کے حوالے سے خاصی منفی شہرت کی حامل ہے اور ماضی میں انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہوتی رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ایک روز قبل کمشنر راولپنڈی نے دھواں دار پریس کانفرنس داغ کر سب کو حیران کر دیا انہوں نے مبینہ دھاندلی کا انکشاف کیا کہ 70 ہزار سے ہارے امیدواران کو اچھے مارجن سے کامیاب کروایا گیا اور میں اس جرم میں شریک ہوں ان کا یہ دعویٰ کس حد تک درست ہے اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیں جو سچائی پر مبنی حقائق عوام کے سامنے لائیں ویسے میرے ایک قریبی رفیق سہیل اقبال جو بڑے بھائیوں کا درجہ رکھتے ہیں ان کا تعلق راولپنڈی کے علاقہ واہ کینٹ سے ہے انہوں نے الیکشن سے اگلے روز اپنے حلقہ میں مبینہ دھاندلی کے بارے میں بتایا تھا کہ رات تک آزاد امیدوار کی جیت سامنے آ رہی تھی اور مسلم لیگ ن کے کیمپ میں ویرانی اور آزاد امیدوار کی جیت کا جشن منایا جا چکا تھا مگر صبح تک سارا نتیجہ تبدیل ہو چکا تھا ۔ انتخابات 2024 کے حوالے سے یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ اس الیکشن میں ملک کے بڑے سرمایہ کار اپنے اربوں روپے بچانے کے لیے اثر انداز ہوئے جس میں مبینہ طور پر نامور پراپرٹی ٹائیکون کا نام بھی آ رہا ہے جو اس وقت دبئی میں مقیم ہے اور جب میاں نواز شریف لندن سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئے تو درمیان میں تھوڑی دیر دبئی میں مقیم اپنی بیٹی جو کہ اسحٰق ڈار کی بہو ہیں کے گھر قیام کیا جہاں یہ پراپرٹی ٹائیکون پہلے سے موجود تھے اور موصوف نے میاں صاحب کو گزارش کی کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سے میری جان چھڑوا دیں مگر میاں صاحب نے زیادہ کان نہ دھرے بعد ازاں الیکشن ڈے پر میڈیا نے جو ہیجانی کیفیت برپا کی وہ پوشیدہ نہیں ہے اور آج تک ملک میں بے چینی کی کیفیت ہے حالانکہ انتخابات کے بعد معاشی و سیاسی استحکام کی توقع کی جا رہی تھی مگر صورت حال اس کے برعکس ہے۔ عالمی میڈیا الیکشن نتائج کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ میاں صاحب شکست کے باوجود حکومت سازی میں پہل کرنے کے لیے فاتحانہ انداز میں تقریر بھی کر بیٹھے اور شہباز شریف کو تمام سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کے لیے سیاسی میدان میں بھیج دیا اور ایک روز قبل مسلم لیگ کے پارلیمانی اجلاس میں حکومت کی بجائے اپوزیشن میں بیٹھنے کی باتیں کرنا شروع ہوگئے۔
    موجودہ صورتحال میں کوئی سیاسی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے بلکہ اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے حتیٰ کہ خواجہ سعد رفیق اظہار کر چکے ہیں کہ یہ اقتدار نہیں کانٹوں کی سیج ہے لگتا ہے یہ الفاظ خواجہ صاحب نے چھوٹے میاں صاحب سے مستعار لیے ہیں جب انہوں نے ہی ڈی ایم کی حکومت سنبھالی تھی تو یہی فرمایا کرتے تھے اس وقت بھی سیاسی بصیرت رکھنے والے کہتے تھے کہ چار سال میں عمران خان کچھ ڈلیور نہیں کر سکا اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر تحریک انصاف کے ورکرز بھی خان صاحب سے دل برداشتہ ہو رہے تھے اور اگر ایک سال اور نکل جاتا تو خان صاحب کا جن بوتل میں قابو ہو جاتا کیونکہ آئی ایم ایف کے ساتھ خان صاحب کی حکومت نے جو پروگرام شروع کیا تھا اس کے اثرات آج بھی عوام پر نمایاں ہیں کہ مڈل کلاس طبقہ پس کر رہ گیا ہے اور نئی آنی والی سرکار کو اس پروگرام کو چلانے کے لیے اور سخت فیصلے کرنا ہوں گے جس کے بعد وہ عوام میں اور غیر مقبول ہو جائے گی۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ عوام کی امنگوں کے مطابق مینڈیٹ خان صاحب کو دیا جائے تاکہ وہ حکومت بنائیں اور پانچ سال مکمل ہونے سے قبل غیر مقبولیت والا تمغہ پی ٹی آئی کے گلے میں پڑ جائے گا اور خان صاحب کی مقبولیت والا بے قابو اژدھا بھی قید ہو جائے گا اور عوام کا عمرانی بخار بھی اتر جائے گا بصورت دیگر سیاسی لاش مسلم لیگ نواز کے کندھوں پر ہو گی اور آنے والے انتخابات میں یہ چند نشستوں کی جماعت بن کر رہ جائے گی مگر خان صاحب کے سیاسی انتقام کا خوف دیگر سیاسی جماعتوں کو اس دلدل میں دھنساتا جا رہا ہے جہاں رفتہ رفتہ وہ اپنا سیاسی انجام زوال دیکھتے ہوئے بھی نشہ اقتدار سے چسکی لگانا چاہتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ملک کے وسیع تر مفاد میں قومی حکومت تشکیل دیں اور ملک کو معاشی و سیاسی استحکام کی طرف لے کر جائیں مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔۔۔۔

    239 مناظر