تحریر:سلمان احمد قریشی
8فروری کو پاکستان میں عام انتخابات منعقد ہوئے۔عام انتخابات 2024ء کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں آزاد امیدوار100 نشستیں لے کر سب سے آگے ہیں جب کہ مسلم لیگ(ن) 73 اور پاکستان پیپلز پارٹی نے 54 نشستیں حاصل کی ہیں۔100آزاد نومنتخب اراکین میں سے 92 پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ہیں۔انہیں آزاد امیدوار کہنا درست نہیں کیونکہ یہ پارٹی ووٹ پرمنتخب ہوئے ہیں۔ عوام نے کسی ایک جماعت کے حق میں فیصلہ نہیں دیا۔دوجماعتیں یا زیادہ جماعتیں اتحادی حکومت بنائیں تو بہتر ہے لیکن آزادپی ٹی آئی کے منتخب ممبران کو توڑ کر حکومت بنانا مناسب نہیں۔ایسی سیاست ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ کی نفی ہے۔مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف نے بڑی جلدی میں حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے حالانکہ انہیں 169 ارکان کی حمایت درکارہے۔حکومت بنانے کے لیے پرانا طریقہ اختیار کیا جارہا ہے جو ملک اور جمہوریت کے لیے بہتر نہیں۔ماضی میں سیاستدانوں نے ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا تھا، جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔اب بھی مسلم لیگ (ن) پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کرتی تواس سے ملک میں افراتفری پھیلے گی،جس کے اثرات ملکی معیشت پر پڑیں گے۔ امریکا‘ برطانیہ اوریورپی یونین نے پاکستان میں انتخابات کی شفافیت پر تشویش کا اظہارکردیا۔ یورپی یونین نے انتخابی بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ مستقبل کی حکومت آئین کے مطابق انسانی حقوق کا احترام کرے۔برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈکیمرون نے پاکستان میں انتخابی عمل کی شفافیت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیوملرنے انتخابات میں دھاندلی اور مداخلت کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ انتخابات میں اظہار رائے کی آزادی اور پرامن اجتماعات پر غیر ضروری پابندیاں لگائی گئیں‘امریکا بروقت اور مکمل نتائج کا منتظر ہے جو پاکستانی عوام کی مرضی کی عکاسی کریں۔مبصر گروپ کا کہنا تھا کہ ایک بڑی پارٹی کو نشان سے محروم کیا گیا۔فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے ابتدائی مشاہدہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔فافن کی رپورٹ کیمطابق ملک میں ووٹر ٹرن آؤٹ 48 فیصد رہا، 63 فیصد پولنگ اسٹیشن پر زیادہ ووٹر تھے،رپورٹ کے مطابق 29 فیصد پولنگ اسٹیشنز کے باہر فارم 45 کی کاپیاں آویزاں ہی نہیں کی گئی تھیں۔حالانکہ الیکشن کمیشن نے پابند کر رکھا تھا کہ ہر پریزائنڈنگ آفیسر پولنگ کے باہر فارم 45کی کاپی آویزں کرے گا۔الیکشن کمیشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ رزلٹ دیر سے بھیجنے والے افسران کے خلاف قانونی کارروائی کرے جبکہ سیاستدانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے عوامی مینڈیٹ کااحترام کریں تاکہ جمہوری سسٹم مضبوط ہو سکے۔انتخابی نتائج کے حوالہ سے متعدد سیاسی جماعتوں کی طرف سے اعتراضات سامنے آئے۔آئندہ حکومت کس کی ہوگی، اس معاملے پر عوام میں کنفیوژن پائی جاتی ہے۔سب سے اہم سوال یہی ہے کہ انتخابات کے بعد ملک میں استحکام آئے گا۔۔۔؟خدا کرے ایسا ہی ہو لیکن فی الحال ایسا ہوتا مشکل نظر آ رہا ہے کیونکہ عوام اور سیاسی جماعتیں اب بھی تقسیم کا شکار نظر آ رہی ہیں۔اب سیاسی قیادت کا ایک اور امتحان ہے ایک اہم موقع ہے کہ وہ مل بیٹھیں اور بات چیت کرتے ہوئے سیاسی معاملات طے کرلیں۔اقتدار سے پہلے ملکی وقار کا خیال کریں۔عوام کو مایوس نہ کریں اور تمام خدشات کو دور کریں اورصرف اصولی اتفاق کرلیں کہ ووٹ کو عزت دینی ہے۔اقلیت کو اکثریت اور اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش خواہش سے اقتدار تو قائم ہوسکتا ہے لیکن استحکام مشکل ہے۔ولسن سینٹر تھنک ٹینک میں ساؤتھ ایشیا انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے پاکستان ایک ایسے نتیجے کی طرف جا رہا ہے جس سے عوام کی مرضی کی عکاسی نہیں ہوتی۔یہ پاکستان کی پہلے سے کمزور جمہوریت کے لیے ایک اور دھچکا ہو گا۔
قارئین کرام!2024اس اعتبار سے بہت اہم ہے اس سال دنیا کی نصف آبادی اپنے ووٹ کا حق استعمال کریگی۔یہ انتخابات نہ صرف ان ممالک کے لیے اہم ہیں جہاں انتخابات ہوئے اور ہونے جارہے ہیں بلکہ ان میں سے بعض ممالک کے انتخابی نتائج عالمی سیاست کے لیے بھی اہم ہونگے۔سال 2024 دنیا بھر کیلئے ایک یادگار سال ثابت ہوگا کیونکہ اس سال دنیا میں انتخابات کی نئی تاریخ رقم ہونے جارہی ہے۔پہلی بار دنیا بھر میں 76 ممالک کے 4 ارب سے زیادہ عوام ایک ہی سال میں پولنگ اسٹیشنوں کا رُخ کریں گے اور نئی حکومتیں قائم ہونگی۔تائیوان، بنگلہ دیش، پاکستان، انڈونیشیا، روس، بھارت، ایران،سری لنکا،برطانیہ اور امریکا میں انتخابات ہونگے۔یورپی یونین کے 27 رکن ممالک بھی نئی پارلیمنٹ کا انتخاب کریں گے۔گزشتہ ماہ جنوری میں تائیوان کے صدارتی انتخابات میں ”آزادی” کے حامی حکمران جماعت کے امیدوار کی مسلسل تیسری بار فتح نے تائیوان کی عمومی فضا کو ظاہر کیا جو ”آزادی” کے نقطہ نظر پر قائم ہے۔پاکستان سے قبل بنگلہ دیش میں انتخابات ہوئے۔بنگلہ دیش میں حسینہ واجد اپوزیشن کے بائیکاٹ کے بعد پانچویں بار جیت گئیں۔بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی کا اقتدار پر مکمل کنٹرول ہے۔ انڈونیشیا میں 14 فروری کو انتخابات ہونے والے ہیں اور ملک کے مطلق العنان صدر سہارتو کے 32 سال بعد نوخیز جمہوریت کو فوج، تجربہ کار سیاست دانوں اور روائتی طور پر دولت اور طاقت رکھنے والے افراد کے اثر و رسوخ کا حکومت میں کردار کوختم کرنے کا موقع ملے گا۔روس میں صدارتی انتخاب 15 سے 17 مارچ 2024 کو ہونے والے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ بڑھتے عوامی غصے کے باوجود پوتن فیصلہ کن طور پر فاتح ہوں گے۔یوکرین میں ملتوی ہونے والا صدارتی انتخاب 2024 میں ہو سکتا ہے۔دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک انڈیا میں عام انتخابات اپریل اور مئی 2024 میں ہونے والے ہیں اور ملک کے دائیں بازو کے وزیر اعظم نریندر مودی کی پارٹی کے 28 اپوزیشن گروپوں کے اتحاد جس میں کانگریس بھی شامل ہے، کے باوجود قومی اسمبلی میں اکثریت کے ساتھ اقتدار میں رہنے کی توقع ہے۔امریکہ میں نومبر میں ہونے والا صدارتی الیکشن جو شاید دنیا کا سب سے زیادہ اہم انتخاب ہے، اس کا مشرق وسطیٰ کے معاملات پر خاص طور پر اثر پڑے گا۔امریکہ میں رائے عامہ کی قیاس آرائیوں سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں واپس آ جائیں گے۔جنوبی افریقہ ایک اور بااثر ملک ہے جہاں اگلے سال قومی اسمبلی کی چار سو نشستوں پر انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ ملک میں سفید فام حکومت کے خاتمے کے بعد ساتویں عام انتخابات کے انعقاد سے جمہوریت مستحکم ہو گی۔لاطینی امریکہ ا میں بھی انتخابات ہوں گے لیکن ایران میں مجلس شوریٰ کے انتخابات کا بارہواں دور ہونے جا رہا ہے۔290 نشستوں پر مشتمل ایرانی پارلیمنٹ کے انتخابات یکم مارچ 2024 کو ہوں گے اور توقع کی جا رہی ہے کہ قدامت پسند اپنی موجودہ اکثریت برقرار رکھیں گے۔جون میں یورپی یونین میں شامل 27ممالک کے 40کروڑ ووٹر یورپی پارلیمنٹ کے 720اراکین کو منتخب کریں گے۔غالب امکان ہے کہ برطانیہ میں عام انتخابات بھی اسی سال ہونگے۔وزیر اعظم رشی سونک بھی اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ 2024میں انتخابات کروا دئیے جائیں گے۔
اس سال دنیا میں حکومتوں کی تبدیلی سے بہت کچھ بدلے گا۔جمہوری ممالک میں انتخابات عوام کی خواہشات کے مطابق تبدیلی لاتے ہیں۔پاکستان، بنگلہ دیش جیسے کمزور جمہوریت والے ممالک میں صرف حکومتوں کا تسلسل جاری رہے گا۔لیکن عالمی سطح پر ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا اثرضرور پڑے گا۔عالمی مہنگائی اور جنگوں سے متاثر ہونے والی معیشت کی بہتری کے لیے2024 تبدیلی کا سال ثابت ہوگا۔