تحریر:سلمان احمد قریشی
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ وعدہ ہے وزیراعظم بن گیا تو کسی سے سیاسی انتقام نہیں لوں گا۔پرانے سیاستدان نفرت، تقسیم کی سیاست کر رہے ہیں، پرانے سیاستدان سیاست کو ذاتی انتقام کے لیے استعمال کر رہے ہیں، ہم پرانی سیاست اور پرانے سیاستدانوں کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کریں گے، سیاست میں دشمنی نہیں سیاسی اختلاف ہوتے ہیں۔انہوں نےمزید کہا کہ نفرت، تقسیم کی سیاست ختم کرنا چاہتا ہوں، ملک میں بے روزگاری، غربت بڑھ رہی ہے، ایسے حالات پہلے نہیں دیکھے۔نفرت اور تقسیم کی سیاست کا نقصان عوام، ملک اور معیشت کو ہو رہا ہے۔اگرچہ یہ سیاسی اجتماع میں چیرمین پی پی پی کا خطاب ہے لیکن یہ وہ دعوت فکر ہے جس پر غور کرنا اور عملدرآمد وقت کی ضرورت ہے تاکہ مسائل میں گھرے پاکستان کو بہتری کی راہ پر ڈالا جاسکے اور تقسیم در تقسیم کی سیاست ختم ہوسکے۔ 8فروری کو عام انتخابات ہونے جارہے ہیں لیکن عام آدمی پرجوش اور پر امید نہیں جیسے سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو ، بے نظیر بھٹوکی آمد یا عمران خان کے تبدیلی والے نعرہ پر یقین کیے متحرک نظر آئے۔نئے انتخاب کو نئی امید سمجھا جاتا تھا۔طلوع سحر کی امید، سیاسی مہم میں سیاسی رنگ نمایاں ہوتا تھا۔آج امیدوار ہیں سیاسی جماعتیں ہیں لیکن انقلابی روح سیاسی اجتماعات میں نظر نہیں آتی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سطح تک بلاول بھٹو نئی سوچ اور نئی سیاست کی بات ضرور کررہے ہیں۔سندھ سے مقبول ترین جماعت پی پی پی پنجاب میں رنگ جمانے کی کوشش کرتی نظرآتی ہے۔ لیکن سیاسی ماحول میں امید سے زیادہ انتقام، محبت پر نفرت، یکجہتی کی بجائے تقسیم زیادہ محسوس ہوتی ہے۔کوئی جماعت وفاق کی سطح پر کامیاب ہونے اور یکساں مقبولیت کا دعوی نہیں کرسکتی۔”چاروں صوبوں کی زنجیر”یہ ایسا نعرہ تھا جو وفاق کی علامت تھا۔اس نعرہ کی گونج اب سنائی نہیں دیتی۔چنیوٹ میں بلاول بھٹو نے سیاسی تقسیم ختم کرنےکی بات کی، ملتان میں نوازشریف کے چور ہونے کا نعرہ لگادیا۔اب ساتھ نہ چلنے کی بات کی۔کیسی سیاست ہے کہ 16ماہ اقتدار میں شریک رہے لیکن لیگی قیادت کی کرپشن پر لب کشائی نہیں کی۔مکمل تعاون اور عہد و پیماں ہوتے رہے۔انتخابات آئے تو پھر کرپشن کی داستانیں اور نعرے سنائی دیے جانے لگے ۔
آج مسلم لیگ(ن) کی قیادت پی پی پی سے مقابلہ کےلیے انہیں اپنے صوبہ کے ابتر حالات کا طعنہ دیتی ہے۔سیاسی قیدی رہا کرنے اور انتقام کے خاتمہ پر شہباز شریف جوابا بلاول کو نجی جیلیں ختم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔یہ کیسی سطحی سوچ ہے کہ 16ماہ بلاول شہباز شریف کی کابینہ کا حصہ رہے تب سندھ کی بربادی کا نوحہ کسی نے نہ لکھا کوئی نہ بول سکا اورنجی جیلیں ختم کرنے کا مشورہ نہ دیا۔ ان جیلوں کے خاتمہ کا مکمل اختیار شہباز شریف کے پاس تھا مگر تب سب کچھ بہتر تھا۔سندھ اور پنجاب میں کوئی فرق نہ تھا۔ترقی یافتہ لاہور کے دعویداروں نے کراچی کی بربادی پرزبان بندی کو بہتر سمجھا۔آج اقتدار کی خواہش میں سندھ اور کے پی کے کی بربادی کا ذکر ضروری ہوگیا۔اقتدار کے دوران تخت لاہور کی ہی فکر رہی سندھ یا کراچی یاد بھی نہ آیا۔ بہت بہتر ہوتا مسلم لیگ (ن)سیاسی انتقام اور تقسیم کے خاتمہ کی بات کو ایسے اپناتی جیسے سی پیک، اٹیمی پروگرام اور تھر کول کو اپنانے کی کوشش کی گئی۔دوسری طرف کپتان کو ریڈ لائن سمجھا گیا۔بھٹو گرفتار ہوئے پھانسی تک دے دی گئی،محترمہ گرفتار ہوئیں سزائیں سنائی گئیں۔نوازشریف گرفتار ہوئے جلاوطن ہوئے لیکن کسی نے 9مئی والے ردعمل کا نہیں سوچا۔ہماری بدقسمتی کہ 9مئی ہوا، پی ٹی آئی منتشر ہوئی، کارکن لیڈر بندسلاسل ہوئے۔ انتخابات کا وقت آیا تو کپتان کا نشان بلا بیلٹ پیپر سے غائب ہوگیا۔ایسا سیاسی ماحول بنادیاگیا کہ امید اور امنگ باقی ہی نہیں رہی۔موجودہ حالات میں قائدین تو کیا کارکن بھی مخالف سیاسی نظریہ اور قیادت کو برداشت کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوچکے۔جس سے بات کریں وہ مخالفت میں حد سے آگے اورمنشور پر خاموش ہے۔مستقبل پر بات کرنے کی بجائے ماضی کی تلخیوں کا ذکر کرتا ہے یا صرف جذباتی نعرے فقرہ بازی کا سہارا لیتا ہے۔
قارئین کرام !اختلاف رائے ہرانسان کا بنیادی، آئینی اور اس سے بڑھ کر فطری حق ہے اور دوسروں کی رائے کا احترام ایک اخلاقی فریضہ ہے۔مگروطن عزیز میں گزشتہ چند سالوں سےسیاسی صورت حال بہت زیادہ دگرگوں ہوتی گئی۔ سیاسی اختلافات ذاتیات تک پہنچناشروع ہوگئے ہیں۔سیاسی قائدین سے لیکر پارٹی ورکرز تک صرف مخالفین کی تذلیل، سوشل میڈیا پر تضحیک کوسیاست سمجھنے لگے۔پارٹی منشور ، پروگرام، کارکردگی سب سے بڑھ کر مسائل کے ممکنہ حل پر بات کم ہی ہوتی ہے۔
کل کے دوست آج ایک دوسرے پرلعن طعن کرتے نظر آرہے ہیں جس کے جی میں آتا ہے وہ بے باکی کے ساتھ رائے قائم کرنے لگتا ہے سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگرہمیں ایک دوسرے کی عزت ووقارکااحترام کرنا چاہیئے اور صبراور اخلاقیات کادامن نہیں چھوڑناچاہیے۔سیاست مختلف مسائل کے حل پر اختلاف رائے اور اپنی رائے کے حق میں حمایت حاصل کرنے کی کوشش کا نام ہو تو بہتر ہے۔ اسے حق اور باطل کی جنگ بنانے سے افہام وتفہیم کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ جب لوگ ایک دوسرے کو چور، ڈاکو، کافر، اور غدار کہتے ہوں تو سیاست نہیں صرف نفرت رہ جاتی ہے
پاکستان میں حالیہ سیاسی ماحول کی وجہ سے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو صرف سیاسی حدتک رکھا جائے،اس کی وجہ سے دوستی ،پیارمحبت اور دیرینہ تعلقات کوپس پشت نہیں ڈال دیناچاہیے ہمیں ہر ایک کی رائے کااحترام کرنا چاہیے اورسیاسی اختلافات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے صرف اور صرف پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیئے ملک چلانے والے اداروں کی حمایت کرنی چاہیئے ،کیونکہ سیاست توچل چلاؤ کاکھیل ہے کبھی ایک کی باری توکبھی دوسرے کی مگرہماری فوج اور ادارے مسلسل ملک کے دفاع میں مصروف عمل رہتے ہیں ہمیں انکو سپورٹ کرناچاہیئے نیز اگر ہم محتاط انداز میں اپنی رائے رکھیں، جس سے کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہونے پائے تو یقین جانیے بہت سے تنازعات ختم ہو جائیں گے اور باہمی احترام و رواداری کو فروغ ملنے کے ساتھ ایک صالح معاشرہ بھی وجود میں آ سکتا ہے۔
بلاول بھٹو کی سوچ اور بیانات سب سے بہتر ہیں،اب معاملہ صرف عمل کا ہے انتخابی مہم اور اقتدار کے دوران طرز عمل میں فرق سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔بلاشبہ ماضی میں پی پی پی کا دور اقتدار اس حوالہ سے بہتر رہا کہ کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا۔انتقام، جیل میں ڈالنے اور نفرت کی باتیں نہیں تھی۔مفاہمت کی پالیسی اختیار کی گئی۔ بانی چیرمین پی ٹی آئی نےلفظ مفاہمت کو گالی بناکر پیش کیا۔ اقتدار میں آکرمخالفین کو جیل میں ڈالنے میں تمام توانائیاں خرچ کیں۔مسلم لیگ(ن) بھی ماضی کو بھول کر مستقبل کی طرف بڑھنا نہیں چاہتی۔انگشت نمائی،مخالفین کے کردار پر اظہار خیال ، شعلہ بیانیاں تعمیری سیاست نہیں ہوسکتی۔
سیاسی افہام و تفہیم ہی واحد راستہ ہے جو اس دورظلمات میں ہمیں بحران سے نکال سکتا ہے۔سیاست دان مثبت سیاست کریں گے اور اُن کا مطمع نظر ہمیشہ ملک اور قوم کا وقار ہوناچاہیے ذاتیات کے دائرے سے نکل کر بات کریں اورریاستی اداروں اورکسی دوسرے سیاسی مخالف کے لیے کبھی نازیبا الفاظ کا استعمال نہ کریں اور اگر قائدین ایسا کرتے ہیں توکارکن اور عام آدمی بھی عزت و احترام کا تعلق قائم رکھیں گے۔ملکی سیاست سے منفی رجحانات اور طرز عمل کا خاتمہ ناگزیر ہے۔عام آدمی کو بھی سوچنا چاہیے کہ سیاستدان اپنی پوزیشن سے ہٹ جاتے ہیں۔سیاستدان تو آتے جاتے رہتے ہیں مگر ملک ہمیشہ قائم رہتے ہیں اور ملکی استحکام عزت اور وقار ازحد ضروری ہے۔