Site icon Meritnews

لیجنڈ اداکار خالد بٹ

لیجنڈ اداکار خالد بٹ
پاکستان کے لیجنڈ اداکار خالد بٹ صاحب وفات پا گئے۔ ان للہ وانا الیہ راجعون۔ خالد بٹ مختصر علالت کے بعد بروز جمعرات کو وفات پا گئے۔ ان کی نماز جنازہ جمعہ کو بعد نماز عصر “واپڈا ٹاؤن سوسائٹی” لاہور میں ادا کی گئی۔ اُن کا مکمل نام خالد سلیم بٹ تھا جبکہ “خالد بٹ” کے نام سے پکارا جاتا رہا۔ ان کی تاریخ پیدائش 21 ستمبر 1946 ہے اور تاریخ وفات 11 جنوری 2024 ہے۔ انہوں نے 77 سال عمر پائی۔ ان کا تعلق ملتان سے تھا، وہیں وہ پیدا ہوئے، تعلیم حاصل کی تو اداکاری کا شوق پیدا ہو گیا تو اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے لاہور منتقل ہو گئے۔
۔
خالد سلیم بٹ کا شمار ان بہترین اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی بہترین اداکاری سے کثیر ایوارڈز اپنے نام کئے۔ خالد صاحب نے پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل PTV سے اپنی اداکاری کا آغاز 1978 میں کیا اور اپنی بہترین اداکاری کے ذریعے پاکستان کی ڈرامہ اور فلم انڈسٹری میں بہت بڑا نام پیدا کیا۔ وہ پاکستانی اداکار اور ہدایت کار تھے۔ اپنے کیرئیر کے آغاز کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کے علاوہ مختلف اردو، پنجابی ڈراموں اور فلموں میں بھی نظر آئے۔ انھوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کیا اور ساتھ ہی فلم ڈائریکٹ بھی کی۔
۔
تاہم انہیں شہرت اور شناخت پاکستان ٹیلی وژن (PTV) کے ڈراموں سے ملی۔ خالد بٹ نے ایک بہت ہی لمبا عرصہ تقریباً 45 سے 50 سال تک ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے اور پاکستان کے معاشرے میں بہترین اور عمدہ طرز کے اچھے اخلاقی اور مثبت ڈرامے کر کے اپنا نام پیدا کیا۔ ان کو بہترین اداکاری کی وجہ سے سرکاری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ’جنجال پورہ ‘، ’بُوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ اور ’لنڈا بازار‘ تھے۔ انہوں نے حالیہ چند برسوں کے دوران نجی ٹی وی کے ڈراموں ’لَو، لائف اور لاہور‘، ’لال عشق‘، اور ’جی ٹی روڈ‘ میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ خالد بٹ نے چند فلموں میں بھی کام کیا جن میں ’شاہ‘، ’رحم‘، ‘موٹرسائیکل گرل‘، ’وجود‘ اور ’دہلی گیٹ‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے جن ڈراموں میں اپنی اداکاری کے گہرے نقوش چھوڑے ان میں ’تیسرا کنارا‘، ’نیلے ہاتھ‘، ’اپنے ہوئے پرائے‘، ’خدا اور محبت‘ اور ’کچھ پیار کا پاگل پن‘ شامل ہیں۔
۔
’دُرِشہوار‘، ’مل کے بھی ہم نہ ملے‘، ’عشق عبادت‘، ’شام ڈھلے‘، ’پری زاد‘، ’خوب صورت‘۔ ’آدھی گواہی‘، ’ہری ہری چُوڑیاں‘، ’مجھے جینے دو‘ سمیت کئی دیگر ڈراموں میں ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔ ان کا ایک ڈرامہ ’خئی‘ آج کل نجی انٹرٹینمنٹ چینل ‘جیو‘ پر دکھایا جا رہا ہے جس میں انہوں نے “دُراب خان” کا کردار ادا کیا ہے۔
خالد بٹ کی نمازجنازہ میں شوبز کی نامور شخصیات سمیت سیاسی و سماجی افراد اور عام شہریوں نے بھی شرکت کی۔ شوبز کی نامور شخصیات نے اداکار خالد بٹ کے انتقال پر مرحوم کے اہلخانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے بے شمار ٹی وی ڈراموں، فلموں، تھیٹر میں صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مزید کہا کہ خالد بٹ کے انتقال سے شوبز انڈسٹری میں ہونے والا خلاء کبھی پُر نہیں ہوسکے گا۔
۔
واضح رہے کہ ان کے حالیہ ڈرامہ “خئی” میں ان کے کردار “تراب خان” کو بہت پسند کیا جا رہا تھا۔ پاکستانی پبلک نے اِس ڈرامہ کو بےحد پسند کیا۔ تاہم خالد صاحب کی وفات نے ڈرامہ “خئی” دیکھنے والوں کو بہت رنجیدہ اور غمگین کر دیا کیونکہ خالد صاحب کا کردار سب سے اہم اور نمایاں تھا اب وہ ہی نہیں رہے تو ڈرامہ “خئی” دیکھنے والوں کا دِل بھی ٹُوٹ گیا۔ مرحوم خالد بٹ نے بے شمار ٹی وی ڈراموں فلموں اور تھیٹر پر بھی کام کیا۔ خالد بٹ پرائڈ آف پرفارمنس اداکار تھے۔ ڈرامہ میں کام کے دوران ان کی طبیعت خراب ہونے پر ان کو گذشتہ سال کے آخری ماہ دسمبر 2023ء میں خرابی صحت کی وجہ سے داخل کرایا گیا تھا۔ وہ سروسز ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ وہ نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی کی مختلف کمیٹیوں کے رکن بھی تھے۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ سے جگر اور معدے کے عارضہ میں مبتلا تھے۔
۔
اوورسیز پاکستانیوں نے لیجنڈری اداکار کی وفات پر سوگ کا اظہار کرتے ہوۓ خالد سلیم بٹ کو “پاکستان کا فخر” قرار دیا۔ ان کی وفات پر پاکستان کی عوام نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اُن کی وفات کو پاکستان کا بہت بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ خالد بٹ پاکستان کا فخر ہیں۔ وہ ہمارے دلوں میں بستے ہیں، ہم اُن کے لیے دعاگو رہیں گے۔ خالد بٹ کے لاکھوں مداحوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ پاکستان کی فلم و ڈرامہ انڈسٹری کے فنکاروں نے خالد بٹ کی وفات پر گہرے رنج و الم کا اظہار کیا۔ بڑے بڑے مصنفین لکھاریوں نے بھی اُن کی وفات پر مختلف پلیٹ فارم کے ذریعے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ان کی وفات پر “واپڈا ٹاؤن” لاہور میں انکی رہائش گاہ پر ہزاروں لوگوں کا رش اُمنڈ آیا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ انکے چاہنے والے بہت گہرے صدمہ سے نڈھال تھے جیسے انکا کوئی والی و وارث اس دنیا سے چلا گیا ہو۔
۔
بےشک خالد بٹ ایک معتبر شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے پاکستان کی فلم و ڈرامہ انڈسٹری میں انتہک محنت کی، اپنا نام بنایا، اپنی سحر انگیز شخصیت اور بہترین اداکاری کے ذریعے پاکستانی عوام کے دلوں میں بےپناہ محبت پائی۔ وہ نرم مزاج، نرم طبیعت کے مالک تھے۔ عاجزی پسند انسان تھے۔ ان میں غرور تکبر انا اور غصہ ہرگز نہیں تھا۔ شریف النفس، ہمدرد اور نیک انسان تھے۔ اُن کی وفات پر پاکستان کی فلم و ڈرامہ انڈسٹری میں بہت کمی محسوس ہوتی رہے گی۔
یہاں میں ایک بات اپنے پڑھنے والے قارئین کے توسط سے ہر پاکستانی کو کہونگا کہ ہم کو اچھے اداکاروں کی ذاتی زندگی پر کبھی بھی تنقید نہیں کرنی چاہیے بلکہ ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کر کے انکو داد دینی چاہیے تاکہ یہ اداکار اپنے شعبہ میں مذید جوش و جذبہ ہمت و حوصلہ اور محنت سے کام لے کر اپنا نام پیدا کریں اور دنیا میں پاکستان کا نام اور بھی زیادہ روشن کر سکیں۔ “اور جب بھی کوئی لیجنڈ اداکار وفات پا جائے تو سب پاکستانیوں کو لازماً چاہیے کہ اس کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں”۔
کیونکہ یہ اداکار لوگ اپنے وطن کی خوبصورتی اور کلچر کو زندہ رکھنے اور اپنے لوگوں کو خوش رکھنے کی خاطر مشکل سے مشکل اداکاری بھی کرتے ہیں اور اِسی سے اپنا گُـزر بسر کرتے ہیں۔
سال 2023 میں 10 فروری کو اردو ادب کا بہت بڑا ستارہ امجد اسلام امجد وفات پا گئے تھے۔ اُن سے 2 دن بعد 13 فروری کو فلم و ڈرامہ انڈسٹری کی بہت بڑی شخصیت، بہت بڑا نام، خوبصورت شخصیت ضیاء مُحی الدین وفات پا گئے تھے۔ اُن کے بعد 5 مارچ کو ڈرامہ و فلم انڈسٹری کی بہت بڑی شخصیت قوی خان وفات پا گئے تھے۔ ان کے 3 ماہ بعد 29 جون 2023 کو ڈرامہ و فلم انڈسٹری کا بہت بڑا ستارہ ایک خوبصورت شخصیت شکیل احمد وفات پا گئے تھے۔
بلاشبہ ایک سال میں پاکستان سے چند بڑی شخصیات کا وفات پانا ایک بہت بڑا نقصان ہے اور یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ پاکستان سے لیجنڈ اداکار آہستہ آہستہ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو بھی انسان اِس دنیا میں پیدا ہوتا ہے اُس کو مرنا بھی ہے، اس دنیا میں سدا نہیں رہنا۔ خالد سلیم بٹ کی فیملی میں مرحوم نے سوگوارن میں 2 بیٹے، 2 بیٹیاں اور 1 بیوہ کو چھوڑا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک انکے خاندان کو صبر دے اور خالد سلیم بٹ صاحب کی مغفرت فرمائے، جنت میں جگہ دے۔ آمین

Exit mobile version