• سفر قیادت تا شہادت

    تحریر۔ جاوید کمیانہ

    ضروری نہیں کہ سیاست دان کی اولا یا لیڈر کی نسل سیاست دان یا لیڈر بن کر سامنے آئیں اس کے لیے ویژن،با کردار ،ثابت قدمی، مستقل مزاجی اور صلاحیت کا فطرت میں شامل ہونا ضروری ہے مگر دختر شہید بھٹو نے باپ کی سیاسی وراثت کو جس طرح سنبھالا بلاشبہ کٹھن مرحلہ تھا مگر شہید بی بی نے دلیری و ثابت قدمی سے سیاسی سنگ میل کامیابی سے عبور کیا اور باپ کی کال کوٹھڑی میں ملاقاتوں سے لے خود جیل کی سلاخوں کی سختیاں جھیلیں اور پھر ملک کی وزیراعظم بن کر عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ دور حاضر کے سیاسی اسیر بغیر قربانیوں اور سہولیات و آسائش سے آراستہ مقید ہو کر بھٹو بننا چاہتے ہیں مگر شہید بھٹو و بی بی شہید بن نہیں پائیں گے، بی بی شہید نے اپنی جوانی باپ کے مشن کو بڑھانے میں صرف کر دی اور ادنیٰ جیالے کو بھی اہمیت دے کر پارٹی میں نئی روح پھونکی البتہ آج کی پیپلز پارٹی وہ جماعت نہیں رہی اور مخصوص لوگوں کا گروہ چئیرمن بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری نے گر مضبوط ہالہ بنائے ہوئے ہیں کہ پارٹی کا عام ورکر کہیں اپنے محبوب لیڈر کے درشن ہی نہ کر سکے۔
    شہید بی بی عملی سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی تھیں کبھی جیل کی سخت صعوبتیں کبھی لاٹھی چارج و نظر بندی گویا حکومت میں چند ماہ گزارے اور مشکلات کا سفر طویل تھا۔ بی بی شہید دس اپریل 1986 کو جلاوطنی ختم کر کے لاہور تشریف لائیں تو بلامبالغہ لاکھوں لوگ ائیرپورٹ پر استقبال کے لیے موجود تھے اور مینار پاکستان کے عوامی ریلے نے سیاسی حلقوں کو پریشان کر دیا۔ یہ شہید بی بی کی قیادت کا نتیجہ تھا کہ لاٹھیوں، آنسو گیس،گولی اور بم دھماکے میں بھی وہ اپنے کارکنان کے درمیان موجود رہیں۔
    بالآخر 27 دسمبر کی منحوس صبح طلوع ہوئی تو وہ بی بی شہید کی زندگی کی شام ثابت ہوئی اور لاکھوں کارکنان کو سکتہ میں ڈال کر اپنے باپ شہید بھٹو کی آغوش میں جا کر سو گئیں۔۔۔۔۔۔

    253 مناظر