• شکریہ میاں نواز شریف

    شکریہ میاں نواز شریف

    تحریر۔ جاوید کمیانہ

    تین بار کے پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف کبھی بھی اپنی منتخب حکومت کی مدت مکمل نہ کر سکے بلکہ ریاستی اداروں کے ساتھ اختلافات کے ساتھ ہی ایوان وزیراعظم سے رخصت ہوتے رہے اور نتیجتاً اداروں کو میاں صاحب کی تکبرانہ سوچ اور پنگا سازی مہم کے جواب میں عمران خان کو آگے لانا پڑا جو بظاہر طلسماتی شخصیت کے مالک تھے حقیقتا تو عوام کے لیے کچھ نہ کرسکے مگر دلیرانہ انداز جھوٹ اور آمرانہ سوچ کے باعث جلد اپنے سیاسی منطقی انجام کو پہنچ گئے ادھر میاں نواز شریف ہلکی موسیقی پر مجھے کیوں نکالا کا راگ الاپ رہے تھے اور اسی دوران جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا پہنچے اور مشکل وقت میں ثابت قدم رہتے ہوئے پاکستانی عوام کو تنہا چھوڑ کر ایک بار پھر ملک سے باہر پدھار گئے اور خاموشی کی گولی نگلتے ہوئے ذرائع ابلاغ سے دور رہ کر پلیٹ لیٹس کے بڑھتے نیچے آتے گراف پر توجہ مرکوز رکھتے رہے۔ دوسری جانب اداروں اور پاکستانی عوام کی امنگوں کا واحد سہارا عمران خان کی کارکردگی زمین بوس ہوتی گئی اور مجھے یوں نکالا کی چھڑی کو گھماتے ہوئے اپنے محسنوں کے خلاف ملک بھر میں جلسوں و لانگ مارچ کی شکل میں نمودار ہوئے کہ عوام میں اپنا چورن بیچنے میں کامیاب ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی مظلومیت کا گراف بلندی پر لے گئے۔
    ملکی سیاسی صورتحال نے ایک بار پھر انگڑائی لی اور میاں صاحب کی بات بن گئی اور خان صاحب اپنے اعمال کی بنیاد پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے۔ دوسرے مرحلے میں میاں صاحب نہ صرف ملک بدری بلکہ اپنے اوپر قائم مقدمات سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے مگر ماضی کی طرح ایک غلطی پھر دہرانا شروع ہو گئے کہ اپنی جماعت مسلم لیگ ن کے اجلاسوں میں صبح کا وزیر شام کو ہائی جیکر اور مختلف اداروں کے حساب اور زمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کی باتیں کرنا شروع ہو گئے اور یہی امیج میاں صاحب کا اداروں کے دماغوں میں نقش کر چکا ہے کہ مشکل وقت میں پاؤں پڑنا اور آسانی میں گلے پکڑنا میاں صاحب کا شیوہ ہے۔ میاں نواز شریف اپنی روایات اور روش برقرار رکھی تو اداروں اور عدلیہ نے ایک جھٹکا میاں صاحب کو دے دیا کہ سائفر مقدمے میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منظور ہو گئی جس کا میاں صاحب کو کافی دھچکا لگا، عمران کا سیاست میں یہ مقام بھی میاں نواز شریف کی ہٹ دھرمی کا نتیجہ تھا اور اگر اب بھی انہوں نے اپنا طرز سیاست تبدیل نہ کیا میرا مطلب کہ محسنوں کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے تنقید کا ڈھول ہی بجاتے رہے تو ایک بار پھر یہ عمران خان کی سیاست میں دھواں دار انٹری کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اگر عمران خان کے باقی مقدمات میں ضمانت و رہائی ہو گئی تو میرا دعویٰ ہے کہ میاں صاحب جو چوتھی بار وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں اپنی نشست پر شاید کامیاب نہ ہو سکیں۔ کیونکہ پی ٹی آئی کا ورکر اپنی جماعت اور عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے جبکہ پی ڈی ایم حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث میاں صاحب کے پاس کچھ بیچنے کو نہیں ہے اور مسلم لیگ ن کو اندازہ ہے کہ اب تک جتنے سروے ہوئے ہیں وہ کس نہج پر کھڑے ہیں۔
    لہزا میاں صاحب کو مشورہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی باتوں پر عمل کریں کہ پرانا سیاسی طرزِ عمل چھوڑ کر سیاسی دشمنیاں و اختلافات بھلا کر آگے بڑھنے کا وقت ہے تاکہ ملکی ادارے اور معیشت مستحکم ہو سکے۔ اب یہ میاں صاحب پر منحصر ہے کہ آئیندہ چند روز میں وہ اپنے بیانیہ کو فل اسٹاپ لگاتے ہیں یا پی ٹی آئی والوں کو شکریہ میاں نواز شریف کہنے کا موقع فراہم کرتے ہیں اور ایک بار پھر ملک کے وزیر اعظم کی شیروانی پہننے میں کامیاب ہوتے ہیں۔۔۔۔

    195 مناظر