• صبح وزیراعظم شام کو ہائی جیکر

    صبح وزیراعظم شام کو ہائی جیکر

    تحریر: سلمان احمد قریشی

    تین بار کے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کا لاہور میں پارلیمانی بورڈ کے 12ویں اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا ہے 1999میں صبح وزیراعظم تھا،شام میں ہائی جیکر بن گیا تھا۔سوچا نہیں تھا 2017میں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر فارغ کردیا جائے گا، مقصد صرف یہ تھا کہ سلیکٹڈ بندے کو لانے کے لیے منتخب وزیراعظم کو فارغ کردیا جائے۔میرے خلاف شرمناک کھیل کے سارے چہرے بے نقاب ہوچکے ہیں۔ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرنے کے بعد میاں نوازشریف کا کہنا ہے کہ کام وہ کریں اور ووٹ کسی اور کو ملے، کراچی والو! اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو،ہم نے وہاں امن قائم کیا۔21اکتوبر کو جب سزا یافتہ میاں نوازشریف لندن میں طویل قیام کے بعد واپس پاکستان آئے تھے تو انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کی۔انکا کہنا تھا میں نے اپنے معاملات اللہ پر چھوڑے۔انتقام اور حساب کی بات نہیں کرتے تھے۔میاں نوازشریف بہت ہی سنجیدہ اور معاملہ فہم سیاستدان کے طور پر دلوں کے وزیراعظم سے پاکستان کے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔دنوں میں عدالتوں نے میا ں نوازشریف کو بری کردیا، وہ سمجھتے ہیں کہ باعزت بری ہوگئے جبکہ انکے ناقدین ایسا نہیں سمجھتے۔ اکتوبر سے دسمبر تک بہت کچھ بدل چکا ہے اور مزید بدلنے جارہا ہے شاید اسی لیے اب میاں نوازشریف کبھی کبھی یہ بھی پکار اٹھتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا۔۔۔کیوں نکالا مجھے۔۔۔۔؟اب شکوہ،شکایات اور انداز تکلم، الفاظ کے چناو سے اندازہ ہوتا ہے کہ میاں نوازشریف دکھی ہیں۔

    شکوہ کرے کس سے سلجھائے کہاں جاکر

    عاصی کا مقدر تو الجھے ہوئے دھاگے ہیں

    قارئین کرام! پاکستان میں اقتدار کے کھیل اور اقتدار کی تاریخ کا ایک ایک ورق اذیت ناک، عبرت انگیز اور مفادات کی داستانوں سے بھرا پڑا ہے مگر۔۔۔۔افسوس ہم ان داستانوں سے سبق حاصل نہیں کرتے۔تاریخ اپنے آپکودھراتی رہتی ہے ایک ہی فلم چل رہی ہے۔صرف اداکاروں کے نام اور چہرے بدل جاتے ہیں۔کبھی فلم کا مرکزی کردار ضیاء الحق ہوتا ہے تو کبھی پرویز مشرف۔ہر بار آغاز اور انجام ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔پچھلے دروازے سے ا ٓنے والے پچھلے دروازے سے ہی رخصت ہوتے ہیں۔شاید یہ قانون فطرت ہے۔ مجھے کیوں نکالا کا جواب تو اس سے سادہ اور آسان انداز میں نہیں دیا جاسکتا۔
    طویل سیاست کے بعد بھی میاں نوازشریف یہ سوال کریں کہ مجھے کیوں نکالا تو ہم نے مناسب سمجھا جان کی امان پاتے ہوئے لکھے دیتے ہیں جیسا آغاز ویسا انجام، میاں نوازشریف جم خانہ میں صبح کرکٹ کھیل رہے تھے اور شام کو پنجاب کے وزیر خزانہ تھے۔میاں نواز شریف صبح سے شام تک کی اس تبدیلی کو سمجھ سکتے تو شاید 1999میں وزیراعظم پاکستان شام کو ہائی جیکر نہ بنتا۔اگر میاں نوازشریف 80 کے عشرہ میں ہی سمجھ لیتے کہ منتخب وزیراعظم کو برطرفی کے بعد پھانسی پر لٹکایا جاتا ہے جو قابل قبول نہیں۔مگر ظالم کے ہمراہی بن کر سیاست میں مظلوم پر ہی وار کریں گے تو تنخواہ نہ لینے پر گھرنہ بھیجا جاتاتو کیا ہو۔اگر سزاوں کا دنوں میں ختم ہوجانا باعزت بری ہونا ہے تو سزاوں کا سنایا جانا بھی غیر معمول فعل اور معمولی بات ہی سمجھا جائے گا۔راستہ کا انتخاب ہی منزل کی ضمانت ہوتا ہے۔
    اس مملکت میں بہت سے طاقتور لوگوں نے جو سیاسی کھیل کھیلے اپنے اقتدارکے لیے کھیلے۔سیاستدان یا کھلاڑی جب سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ کھیل کا حصہ بنیں گے پھر انجام پر شکوہ کیسا؟ عوام ان انفرادی فوائد کی خواہش کی وجہ سے دن بدن دکھوں کی گہری دلدل میں گھرتے چلے جائیں۔غربت،بیروزگاری،مالی مشکلات، فاقے اور خودکشیاں جب یہ سب کچھ اہم نہ لگے اور صرف یہ سوال ہی کیا جائے مجھے کیوں نکالا۔۔؟ تو یہ بہت ہی قابل افسوس ہے۔اپنے اقتدار کو عوام کے سکھ اور ملکی ترقی کے ساتھ جوڑنا آپکے لیے ایک آسان بیان ہے عوام اس پر یقین نہیں کرتی۔کاش اقتدار کے ساتھ ایک دفعہ عوام کے دکھوں کے متعلق بھی سوچ لیں۔ایسا گمان ہوتا ہے کہ خود کو چشم تصور میں تادم مرگ وزیراعظم پاکستان خیال کرتے ہیں۔
    ایک لیڈر اپنی ذات یا خاندان تک محدود نہیں ہوتا۔اس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ اس کی جیت، لغزشیں، اس کے کارنامے،اسکے وعدے اور غلطیوں کا بوجھ کروڑوں لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے جو اپنی امیدیں لیڈر سے لگاتے ہیں۔لیڈر کی لغزشوں کی چبھن آنے والی نسلیں بھی سہتی ہیں۔میاں نوازشریف سوالات نہ اٹھائیں عمل سے ثابت کریں کہ فیصلہ کرنے کا اختیار عوام کا ہے۔یہ دلوں کے وزیراعظم اور ریڈ لائن کہلوانا سیاست نہیں اقتدار پرستی ہے۔ہم خود اپنی تباہی کے ذمہ دار ہیں ہم خود اپنی تقدیر کوعقل سے بدلنے کی بجائے دوسروں کو پوچھتے ہیں کہ ہماری تقدیر کب بدلے گی۔دوسروں سے سوال کرنے کی بجائے ایک بار خود سے سوال کرلیں اور ہم خود اپنے گریبانوں میں جھانک لیں کسی کے گریبان تک جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔سیاسی تاریخ سے کچھ اصول اور طریقے سیکھ لیتے تو صبح کا وزیراعظم شام کو ہائی جیکر اور کھلاڑی سیاستدان سے لیڈر بننے کے بعد ملزم نہ بنتا۔کاش اقتدار کے کھلاڑی اور پجاری عوام اور جمہوریت کا سوچیں۔

    240 مناظر