• لاہور ٹریفک پولیس کا عوام دشمن رویہ عروج پر

    لاہور ٹریفک پولیس کا عوام دشمن رویہ عروج پر۔

    تحریر۔ جاوید کمیانہ

    خاکسار نے آج تک تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں کا احترام لازم سمجھا اور بالخصوص یونیفارم فورسز کے خلاف خبر لگنے سے بھی احتراز ہی برتا مگر ایک واقعہ کا چشم دید گواہ اور آپ بیتی کے باعث قلم کو زحمت دے رہا ہوں کہ کچھ کھٹی میٹھی گفتگو کی جسارت کر ہی دوں۔
    ڈرائیونگ لائسنس کی سختی کے باعث میں نے اپنے فرزند ارجمند کو موٹر وہیکل چلانے سے منع کیا اور حکم صادر کیا کہ جب تک آپ کا شناختی کارڈ اور پھر ڈرائیونگ لائسنس نہیں بن جاتا اس وقت کالج جانے آنے کے لیے رکشہ استعمال کرو اور ایسا ہی کیا۔ اور ساتھ تاکید کی کہ ہیلمٹ کا استعمال لازم سمجھے۔ آج وہ گھر کے باہر دوسری گلی تک بغیر ہیلمٹ کے نکلا ہی تھا کہ ٹریفک پولیس نے دھر لیا اور پہلے ہی جھٹکے میں مبلغ دوہزار کا چالان داغ دیا۔ برخوردار نے مجھے فون کیا تو میں نے اس کی درگت بنائی اور ہیلمٹ نہ پہننے پر اس کی سرزنش کی اور چالان کے پیسے دینے کے لیے خود تھانہ اقبال ٹاؤن حاضری دی، وہاں پہنچ کر برخوردار نے بتایا کہ ندیم نامی ٹریفک وارڈن نے مجھے کالر سے پکڑ کر موٹر سائیکل کے ہمراہ تھانہ تک لے کر آئے ہیں جس پر میں نے انسپکٹر شہزاد کو اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا جس پر وہ سیخ پا ہو گیا اور میرے ساتھ بدتمیزی شروع کر دی اور ساتھ ہی مجھے دھمکی دی کہ اب میں آپ کے بیٹے پر دفعہ 186 کا مقدمہ درج کرواؤں گا میں نے عرض کی کہ حضور میں نے تو آپ کی شان میں کوئی گستاخی ہی نہیں کی اور آپ کے جونیر کی شکائیت آپ تک پہنچا رہا ہوں مگر اس نے میری ایک نہ سنی اور بیٹے کو لے جاکر منشی بادشاہ کے کمرہ میں بٹھا کر حکم صادر فرمایا کہ استغاثہ تیار کریں اور اس بچے پر مزاحمت کا مقدمہ درج کریں اس کے بعد وہ اداکاری ساتھ ثابت کرنے پر تل گیا کہ اس طرح آپ کے برخوردار نے مزاحمت کی تھی۔ میں اس سارے معاملے کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا، دراصل مزکورہ ٹریفک آفیسر اس لیے میرے ساتھ چلا رہا تھا کہ میں درعمل دوں جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار شور سن کر اس کی مدد کے لیے تشریف لائیں اور الٹا مجھ پر بدتمیزی کا الزام ٹھہرا کر میرے خلاف بھی کارروائی کر سکیں مگر میں نے ضبط، حکمت اور تدبیر سے کام لیتے ہوئے خاموشی اپنانے کو ترجیح دی اور ایک محسن کو فون کر کے سارا معاملہ گوش گزار کیا جس پر انہوں نے شفقت فرمائی اور اپنے سرکاری نمبر سے کال کر کے انسپکٹر شہزاد سے بات کی اور گزارش کی کہ معاملہ ختم کرے، بعد ازاں موصوف نے مجھ سے پوچھا کہ میں کیا کام کرتا ہوں تو میں نے بتایا کہ اخبار چلاتا ہوں جس پر اس نے میرا ادارے کا کارڈ مانگا میں نے دکھا دیا۔
    چالان جمع کروانے اور بیٹے کو لے کر میں نے ایک دو فون گھمائے تو معلوم ہوا کہ موصوف کچھ شکایات کے باعث اپنے عہدے سے ایک رینک نیچے تک بھی پہنچے ہوئے ہیں اور کچھ عرصہ قبل سزا پر معافی ملی اور کندھے پر دوبارہ تین پھول سجانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
    راقم یہی سوچ کر پشیماں ہے کہ دو ہزار جیسا بھاری بھرکم چالان کیا ہر بچہ ادا کر سکتا ہے ؟ اور اس طرح کے عوام دشمن رویہ کے ساتھ کیا پیغام دیا گیا کہ میرے جیسا پرامن اور اداروں کے خلاف خبر نہ لگنے دینے والا انسان بھی مجبور ہو گیا کہ ان جیسی کالی بھیڑوں کے منفی و اوچھے ہتھکنڈوں کو اجاگر کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہو جائے
    حکام بالا اپنی تمام تر کاوشوں کے باوجود ان جیسے منفی کرداروں کو راہ راست پر نہیں لا سکیں گے، افسران بالا پولیس کو عوام دوست بنانے اور عنوانی مشکلات میں کمی کے لیے انتھک کوششیں کرتے رہتے ہیں مگر اس طرح کے منفی کردار ان کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ اگر عاجز کے ایک دو جاننے والے نہ ہوتے اور بروقت کچھ نہ کر پاتے تو غیر ضروری مقدمہ میں ایک طالب علم کا مستقبل بھی داؤ پر لگ جاتا اور ہمیشہ کے لیے اس کے کیرئیر پر داغ لگ جاتا اور نہ کیے کی سزا بھگتنی پڑتی۔ میں آج سے ایسے کرداروں کے خلاف نہ صرف آواز بلند کروں گا بلکہ اس معاملہ کو حکام بالا تک بھی پہنچاؤں گا تا کہ مستقبل میں کوئی اور معصوم اس طرح کی پولیس گردی کا شکار نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔

    290 مناظر