Site icon Meritnews

مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پرجُوں کا تُوں

تحریر: سلمان احمد قریشی

انڈین سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے معاملہ پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے آرٹیکل 370کو عارضی اور جموں و کشمیر کو انڈیا کااٹوٹ انگ قرار دیدیا۔عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ 30ستمبر 2024تک ریاست میں الیکشن کرائے۔370 کے خاتمہ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس ڈی وائی چندر جوڑ نے کہا کہ جموں کشمیر کی انڈیا میں دیگر ریاستوں سے علیحدہ کوئی اندرونی خود مختاری نہیں۔وجودہ حکمران جماعت بی جے پی کی حکومت نے5اگست 2019کو آئین کے آرٹیکل 370کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔آرٹیکل 370کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو نیم خود مختاری اور خصوصی اختیارات حاصل تھے۔
26 جنوری 1950ء کو منظور ہونے والے انڈین آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت تھی جس کے آرٹیکل 370 یہ واضح کرتا ہے کہ ریاست کو انڈین پارلیمنٹ کے قوانین کے اطلاق سے متفق ہونا چاہیے، سوائے ان کے جو مواصلات، دفاع اور خارجہ امور سے متعلق ہوں۔ مرکزی حکومت ریاست کے نظم و نسق کے کسی دوسرے شعبے میں مداخلت کرنے کے اپنے اختیار کا استعمال نہیں کر سکتی۔جنوری 1951ء میں دولت مشترکہ کے سالانہ اجلاس میں بھی کشمیر کے مسئلہ پر برطانیہ نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ کشمیر میں پاک بھارت مشترکہ فوج کی نگرانی میں استصواب رائے کروایا جائے۔ پاکستان نے اس تجویز کو مان لیا تھا لیکن بھارت نے رد کردیا تھا۔جولائی 1953میں انڈین وزیراعظم جواہر لال نہرو نیجموں و کشمیر میں ریفرنڈم کروانے پر رضامندی ظاہر کردی لیکن 1954ء میں جب امریکہ نے ایک طویل المدتی معاہدے کے تحت پاکستان کو بھاری فوجی اور اقتصادی امداد دینا شروع کی تو نہرو نے یوٹرن لے لیا اور کشمیر میں ریفرنڈم کروانے سے صاف مکر گیا تھا۔1962/63 میں پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر پر مذاکرات کے چھ راؤنڈ ہوئے تھے جن کی قیادت بھارت سے وزیرخارجہ سورن سنگھ اور پاکستان سے وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو کررہے تھے۔انڈیا نے اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں اور مسلمہ و مروجہ بین الاقوامی ضابطوں اور اصولوں کو نہایت بے شرمی کے ساتھ پس پشت ڈال کر اپنے دستور میں ترمیم کردی اور شق 370 کے تحت کشمیر کو دستور کا حصہ بنا کر اسے خصوصی حیثیت دے دی۔جس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کی سیاسی مخاصمت میں اضافہ ہوگیا جو بالآخر 1965 کی جنگ کا سبب بنا۔یکم فروری 1966 کو معاہدہ تاشقند ہوا اور جنگ بندی ہوگئی۔ لیکن پاکستان اور انڈیا کے تمام مسائل کے تانے بانے جموں و کشمیر کے مسئلہ کو پیچیدہ بنانے کی انڈین کوششوں سے جڑے ہیں۔
انڈیا نے جموں و کشمیر میں ابن الوقت سیاست دانوں کو خرید کر کٹھ پتلی حکومتیں بنائیں لیکن وہ کشمیریوں کے دل جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔1989 میں کاروان آزادی از سر نو منزل آزادی کے لیے سامنے آیا کہ ساری دنیا دیکھنے پر مجبور ہوگئی۔مسئلہ کشمیر پھرچوتھی پاک انڈیا جنگ یعنی جنگ کارگل کا سبب بنا۔پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں ہوئیں لیکن پاکستان کا انڈیا کے ساتھ تعلقات میں ہمیشہ سے موقف رہا کہ کشمیر کے مسئلہ کے حل کے بغیر خوشگوار تعلقات کا فروغ ممکن نہیں۔انڈیا کی کوشش رہی کہ کشمیر کے مسئلہ کو پس پشت ڈال کر تعلقات کو فروغ دیا جائے۔
قارئین کرام! اس تلخ حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فلسطین کی طرح مقبوضہ کشمیر دنیا کا بدقسمت ترین خطہ ہے جہاں 75سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کشمیریوں کو اپنا فیصلہ کرنے کا حق نہیں ملا۔سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ 75برسوں میں تنازعہ کشمیر اور فلسطین کے حل کی جانب بہتر پیش رفت نہیں ہوئی۔تمام وعدے دعوے تاحال خواب ہیں۔1948میں یو این او نے مسلمہ اصولوں کے مطابق حل کاعہد کیا۔انڈیا تمام وعدوں سے مکر گیا۔ایسٹ تیمور، جنوبی سوڈان سمیت یورپ میں یوگوسلاویہ، سوویت یونین سیکئی ممالک کو آزادی ملی لیکن کشمیریوں کی نگاہیں ہنوذ یو این او پر ہیں۔مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پرجُوں کا تُوں موجود ہے۔ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا جنوبی ایشیا ایٹمی جنگ کے سنگین خطرے سے دوچار رہے گا۔کشمیر سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ لاکھوں زندہ انسانوں کے بنیادی حقوق کی بات ہے۔ایک غاصب انڈین حکمران اور افواج ہیں جو لاکھوں کشمیریوں کو ریاستی دہشت گردی کے تحت غلام بنانے پہ تلی ہوئی ہیں اور ایک لاکھ سے زائد کشمیری جوانوں کا قتل بھی کر چکی ہیں۔خودانڈین سیاستدان مودی حکومت پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔گانگریسی رہنما راہول گاندھی بے اختیار چیخ اٹھا کہ خدا مودی کو جہالت سے نجات دے۔
اپوزیشن جماعت کانگریس نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ انڈین آئین میں ترمیم تک آرٹیکل 370 کا احترام کیا جانا چاہیے تھا۔پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انڈین سپریم کورٹ کی جانب سے کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کی توثیق کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتی جبکہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی نفی کرتا ہے۔پاکستان کشمیریوں کی تحریک کو بنیادی انسانی حقوق کی تحریک سمجھتا ہے۔مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم کی داستانیں اور چالبازی دنیا کے سامنے ہے لیکن دنیا معاشی فکروں میں پڑی ہے اور مسئلہ کشمیر کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔مسئلہ کشمیر کا التواء ممکن ہے لیکن اسے حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔انڈیا کچھ بھی کہتا رہے لیکن کشمیر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر جوں کا توں ہے اور پاکستان اپنے موقف پر قائم رہے گا تاوقتیکہ کشمیریوں کواپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں مل جاتا۔

Exit mobile version