Site icon Meritnews

اناپرستی اور نفرت کی سیاست کا خاتمہ ناگزیر

اناپرستی اور نفرت کی سیاست کا خاتمہ ناگزیر

تحریر:سلمان احمد قریشی

عوامی رابطہ میں بلاول بھٹو سب سے آگے ہیں۔شانگلہ میں جلسے سے خطاب کے دوران چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہمیں گالم گلوچ اور ٹک ٹاک کی سیاست نہیں آتی، ہمیں گیٹ نمبر 4 کی سیاست نہیں آتی، میں کسی اور کی طرف نہیں دیکھنا چاہتا، عوام پر بھروسہ کرتا ہوں، کہیں اور نہیں دیکھوں گا، نہ کسی سے مدد مانگوں گا لیکن عوام سے مدد ضرور مانگتا ہوں۔ایک طرف سیاست تقسیم کا شکار ہے، دوسری طرف معاشی حالات بدتر ہوتے جارہے ہیں، پرانے سیاستدان آج بھی پرانی اور انا کی سیاست کررہے ہیں۔ ہمارا مقابلہ کسی سیاستدان سے نہیں، غربت، بے روزگاری اور مہنگائی سے ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ میرا ملک مشکل میں ہے، آئیں میرا ساتھ دیں۔میں نے تمام سیاستدانوں کو قریب سے دیکھا ہے،ان کے پاس صرف پرانی سیاست ہے جو انتقام کی سیاست ہے، ہمیں ایسی سیاست کو دفن کرنا ہے۔
قارئین کرام! بلاول بھٹو تسلسل سے موجودہ سیاست اور سیاستدانوں کی کاکردگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔اسے انتخابی بیانیہ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ ماضی قریب میں قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا تھا ’میاں صاحب اور زرداری صاحب کو ایسے فیصلے لینے چاہیے کہ آگے جا کر میرے اور مریم نواز کے لیے سیاست آسان ہو مشکل نہ ہو۔‘
قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے ہم چل رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ہمارے بڑوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جو 30 سال کی سیاست آپ لوگوں نے بھگتا ہے آگے جا کر ہم ایسی سیاست کریں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے جب حکومت سنبھال لی تو ہماری کوشش تھی کہ جمہوریت کو مضبوط کریں۔ہم نے ہمیشہ کوشش کی کہ کوئی ایسا کام نہ ہو جس سے تیسری قوت کو فائدہ ہو۔ ہمیں ایسی اپوزیشن ملی جس نے سیاست کو دشمنی میں تبدیل کر دیا تھا۔اس وقت ہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کو سیاست کچھ اس طرح کرنی چاہیے جس سے موجودہ صورتحال کو مفاہمت کی طرف لے جایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ’پی پی پی کا موقف ہے کہ اگر ہم نئے چارٹر آف ڈیموکریسی نہیں تو پرانے چارٹر آف ڈیموکریسی پر تمام جماعتوں، بشمول ان کے جو اسمبلی سے باہر ہیں کو ساتھ ملائیں۔ اور اداروں کو بھی اس چارٹر کو یا تو ماننا پڑے گا یا اس ڈائیلاگ کا حصہ بننا پڑے گا جس میں ہم مل بیٹھ کر یہ طے کریں کہ واپڈا کو متعلقہ وزیر چلائے گا یا سپریم کورٹ کا چیف جسٹس۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہمیں آخرکار رولز آف دی گیمز آپس میں طے کرنے پڑیں گے کہ کسی چارٹر یا کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت نہ صرف سیاسی جماعتیں آپس میں سیاست کریں گی، بلکہ ہمارے ادارے دوسرے اداروں کے ساتھ چلیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’سیلیکٹڈ حکومت کی مخالفت کر کے ہم اس بات پر زور دیتے تھے کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں، لیکن ہمیں جو 15 ماہ ملے اس میں ہم یہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔‘ہم پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ سیاست دان بنیں اور جمہوریت کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں۔اپنی تقریر میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 65 فیصد آبادی جو 30 سال سے کم نوجوانوں پر مشتمل ہے، وہ جو سیاست دیکھتے ہیں جس سے پھر وہ نہ ہم پر بھروسہ کرتے ہیں اور نہ کسی اور پر۔ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہماری نوجوان نسل ہے جو ملک کو ترقی دے سکتی ہے۔ میری تمام سیاسی جماعتوں سے گزارش ہے کہ ہم اپنا رویہ اور سیاست ایسی رکھیں کہ ان نوجوانوں کی امید باقی رہے۔‘
اعلی تعلیم یافتہ بلاول بھٹو پاکستان کے نوجوان سیاسی رہنما ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو کی مقبول عام جماعت کے چیرمین ہیں۔سیاست میں انکا مستقبل روشن ہے۔بلاول بھٹو کے خیالات اور بھر پور اظہار قابل تعریف ہے۔سیاستدان جب تک اپنی ناکامیوں کااعتراف نہیں کرتے اور روایتی سیاست ترک نہیں کرتے بہتری نہیں آسکتی۔بلاول بھٹو کو ادراک ہے کہ پاکستان کا نواجوان سیاست سے بیزار ہوچکا ہے۔ناامیدی کو امید سے تبدیل کرنے کے لیے عوامی سیاست ضروری ہے اقتدار کی سیاست اور سلیکشن سے مسائل حل ہونے والے نہیں۔بدقسمتی سے سیاسی امور و معاملات میں اس حد تک بگاڑ آچکا ہے کہ اختلاف رائے کو برداشت نہیں کیا جاتا۔الزام تراشی، تہمت معمولات زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔بغیر تحقیق کے الزام تراشی کرنا اور آنکھیں بند کرکے سب کچھ عام کرنا ہمارا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔سیاسی گھن گرج سے مخصوص طبقہ کو خوش کیا جاسکتا ہے لیکن آگے نہیں بڑھاجاسکتا۔پاکستان کا نواجوان آگے بڑھنا چاہتا ہے ہم ہیں کہ قدامت پسند ثابت ہوئے ہیں۔تین بار وزارت عظمی پر فائز رہنے والے رہنما کو چوتھی بار بر سراقتدار دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ خواہش غیر سیاسی نہیں لیکن سیاست میں تبدیلی اور بہتری کی نوید نہیں ہوسکتی۔سیاست کو دائرہ میں جاری رکھنا ہے تو پھر میاں نوازشریف، آصف زرداری اور عمران خان کے اختلافات، سلیکشن اور ریجیکشن بس یہی کچھ ہوگا پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔بلاول بھٹو بہت ہی سنجیدہ اور قابل فہم بات کررہے ہیں۔ اس سوچ کو آگے بڑھنا چاہیے نہ کہ سیاسی بیان بازی سے نفرت کو فروغ دیا جائے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے بلاول بھٹو کو جواب دیا زندگی بزرگ چلاسکتے ہیں نہ نوجوان، یہ مکس میچ ہوتا ہے۔درست ہے میچ مکس ہو نہ فکس، ہمارے انتخابی معرکے فکس ہوں تو عوامی مسائل کیسے حل ہونگے۔تجربہ بلاشبہ اہم ہوتا ہے لیکن ناکام تجربات کو دھرانے سے مستقبل میں کامیابی کی امید دھوکہ ہے۔
قائد ملت لیاقت علی خان کا قتل، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سیاسی قیادت پر مقدمات، جلاوطنی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت جیسے سانحات اور اقتدار کی رسہ کشی، جمہوری حکومتیں اور مارشل لا کا نفاذ سب کچھ تاریخ میں درج ہے۔75سالہ تاریخ میں سیاسی تسلسل نہیں، تجربات ہیں اور صرف عوامی خواہشات ہیں۔سپیڈ بریکرز ہیں اور عزم نو ہے، انتخابات ہیں اور وعدے ہیں لیکن سیاسی استحکام نہیں۔ملک جن مسائل سے دوچار ہے ان سے نمٹنے کے لئے اب اتتقام کی خواہش اور اناپرستی کو ختم کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔سیاسی تقسیم ایسی گہری ہوچکی ہے کہ کوئی جماعت تنہا حکومت سازی کی پوزیشن میں نہیں۔مسائل کا مقابلہ قومی ایجنڈے کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد سے ہی مکمن ہے۔محاذ آرائی اور سازشوں کا وقت گزر گیا۔بلاول بھٹو نے بہترین لائن اختیار کی ہے اگر سیاسی قیادت مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے اور ماضی سے کچھ سیکھا ہے تو سب جماعتوں کو اس طرز سیاست کو اختیار کرنا ہی ہوگا۔

Exit mobile version