
برطانیہ اور آئرلینڈ کی دریافت
برطانیہ اور آئرلینڈ کی دریافت!
۔۔۔
جیسے کولمبس ایک کشتی پر سمندر میں سفر کرتا رہا اور بالاآخر اس نے ایک زمین کا خطہ دیکھا جسے اس نے ریڈ انڈینز کا نام دیا اور امریکا دریافت کیا۔ اسی طرح 55 قبل مسیح سے قبل فرانس جو کہ اس دور میں رومی سلطنت کا صوبہ تھا اور جس کا نام رومیوں نے غال ( Gaul ) رکھا تھا اسے مغربی یورپ کا آخری سرا تصور کیا جاتا تھا۔ اس سے آگے کی سرزمین کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا اور یہ قیاس آرائی تھی کہ فرانس اور برطانیہ کے درمیان حائل سمندر جسے فرانس کے لوگ ” La Manche ” کہتے تھے جس کے معنی ہیں ” لٹکتی ہوئی آستین ” سے آگے کوئ زمین موجود نہیں ہے۔ 55 قبل مسیح میں رومی شہنشاہ ” جولیس سیزر ” ( Julius Caesar ) نے رومی بحریہ کو حکم دیا کہ وہ ایک بحری بیڑہ تیار کر کے ” La Manche ” سمندر میں آگے شمال کی طرف بڑھیں تاکہ اگر آگے کوئی زمین ہو تو اس کا پتہ چل سکے !
۔۔۔
لہذا شہنشاہ کے حکم کی تعمیل کی گئ اور ایک درجن جہازوں پر مشتمل بحری بیڑہ تیار کر کے اسے La Manche سمندر میں شمال کی طرف بھیجا گیا جو کہ ابھی تھوڑی ہی دور گیا ہو گا کہ اسے زمین نظر آئی جو کہ بہت ہری بھری تھی البتہ ساحل پر جو انہیں اس سرزمین کے باشندے نظر آۓ ان کے ہاتھ میں پتھر کے دور کے ہتھیار تھے اور انہوں نے ریچھ اور بھیڑیوں کی کھالوں سے اپنا تن ڈھانپ رکھا یعنی کہ بیرونی دنیا سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ابھی تک پتھر کے دور میں رہ رہے تھے۔ رومیوں کی تعداد اور ان کا جدید اسلحہ دیکھ کر انہوں نے ان کا مقابلہ کرنے سے گریز کیا اور وہ قریبی گھنے جنگل میں روپوش ہو گۓ !
۔۔۔
رومیوں نے اس سرزمین کا تفصیلی جائزہ لیا تو انہیں وہاں گھنے جنگلات کے علاوہ بہت سی معدنیات بھی ملیں جن میں لوہا ، زنک ، تانبا اور سب سے بڑھ کر سونا اور چاندی جیسی قیمتی معدنیات شامل تھیں البتہ جو دھات سب سے وافر مقدار میں موجود تھی وہ ٹین تھی جس کی وجہ سے رومیوں نے اس سزمین کو برطانیہ ( Britannia ) کا نام دیا جو کہ لاطینی زبان کا لفظ ہے اور جس کے معنی ہیں ” ٹین کی سرزمین ” !
۔۔۔
جب جولیس سیزر کو اس سرزمین میں موجود قیمتی معدنیات کے بارے میں بتایا گیا اور اسے وہ معدنیات کے بھی دکھاۓ گۓ جو رومی اپنے ساتھ لاۓ تھے تو اس نے خود اس سرزمین پر جانے کا فیصلہ کیا اور 54 قبل مسیح میں وہ خود اس سرزمین کا جائزہ لینے وہاں گیا اور اس نے ان معدنیات کو وہاں سے نکال کر روم تک لانے کا حکم دیا جس کے بعد رومی بڑی تعداد میں اس سرزمین پر معدنیات نکالنے جانے لگے اور انہوں نے مقامی باشندوں کو غلام بنا کر ان سے کانوں میں کام کروانا شروع کردیا اور اسی وجہ سے انہوں نے رومیوں پر حملے شروع کیۓ جن سے تنگ آکر بلآخر 43 عیسوی میں رومی شہنشاہ ” کلاڈیس ” ( Claudius ) نے اپنے جنرل ” آلس پلا ٹیس ” ( Aulus Plautius ) کو چالیس ہزار پیدل فوج اور دو ہزار گھڑ سواروں کے ساتھ برطانیہ پر قبضہ کرنے کے لیۓ بھیجا جن کا مقابلہ کرنے کے لیۓ تمام برطانوی قبائل دریاۓ ٹیمز ( River Thames ) کے کنارے جس جگہ آج برطانیہ کا دارالحکومت ” لندن ” موجود ہے وہاں اکھٹے ہوگۓ مگر باوجود اس کے کہ یہ گھنے دریائی جنگلات سے ڈھکا ہوا علاقہ ان کا دیکھا بھالا تھا اور وہ بہت دیدہ دلیری سے لڑے لیکن اس کے باوجود وہ رومیوں سے شکست کھا گۓ کیونکہ ان کے لکڑی اور پتھر کے بنے ہوۓ کند ہتھیار رومیوں کے لوہے کے بنے ہوۓ تیز دھار ہتھیاروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے !
۔۔۔
اس جنگ کے بعد رومیوں نے اس جگہ پر ” Londonium ” نامی شہر آباد کیا جس کے معنی ہیں ” نالی کا شہر ” جو کہ برطانیہ کا پہلا شہر تھا اور اسی لیۓ لندن کو برطانیہ کا سب سے پرانا شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اس کا نام ” نالی کا شہر ” اس لیۓ رکھا گیا کونکہ یہ دریاۓ ٹیمز کی سمندر میں گرنے والی نالی ” estuary ” پر قائم ہے !
۔۔۔
برطانیہ پر اپنا قبضہ مکمل کرنے کے بعد رومی 81 عیسوی میں برطانیہ کے مغرب میں Oceanus Hibernicus ( جسے آج “Irish Sea” کہا جاتاہے ) عبور کر کے آئرلینڈ تک پہنچے اور آئرلینڈ کی دریافت کے فوری بعد رومی شہنشاہ ٹیٹس فلاویس ڈومیٹیانس Titus Flavius Domitianus نے اپنے مایۂ ناز جنرل گنایس جولیس ایگریکولا ( Gnaeus Julius Agricola ) کو آئرلینڈ پر قبضہ کرنے کے لیۓ بھیجا مگر اس وقت آئرلینڈ پر وائکینگز ( Vikings ) کی حکومت تھی جو کہ بہت ظالم اور جنگجو قوم تھی جس نے رومیوں کو عبرتناک شکست دینے کے بعد ان کے جنرل کا سر قلم کر کے اس سر کو برطانیہ بھیجا جس کے بعد رومیوں کو پھر کبھی آئرلینڈ کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہ ہو سکی۔