
ریاستی آپریشن اور اس کے ثمرات
ریاستی آپریشن اور اس کے ثمرات
پن پوائنٹ ۔ جاوید کمیانہ
ملک کے بڑے مافیا کی پشت پناہی سیاست دان یا بیوروکریسی کرتی رہی ہے اور اس کا خمیازہ معصوم عوام کو بھگتنا پڑتا ہے مثال کے طور پر بجلی چوری کی شکل میں غیر استعمال شدہ یونٹس کا بوجھ بھی عوام پر پڑتا ہے، ذخیرہ اندوزی ہو تو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ڈالر مافیا لاکھوں ڈالرز خرید کر رکھ لے تو اس کے اثرات ریاست اور عوام دونوں پر مرتب ہوتے ہیں یعنی جس نے خام مال درآمد کرنا ہے اس نے ادائیگی ڈالرز میں کرنی ہے تو اس کی رقم ڈالر مہنگا ہونے سے خود بخود بڑھ جائے گی اور ریاست کے قرضوں میں اضافہ ہونا بھی دلیل ہے کہ ڈالر کا ریٹ بڑھنے سے کس قدر نقصان ہوتا ہے مگر اس سے قبل سیاسی حکومت کیوں ان مافیاز ہر ہاتھ نہیں ڈالتی تھی ؟ کیونکہ مافیاز کو حکومت میں شامل کالی بھیڑ کی آشیر باد حاصل ہوتی ہے۔ گزشتہ پینتیس روز سے مافیاز کے خلاف جاری آپریشن سے بجلی چور بھی پکڑے جا رہے ہیں مقدمات بھی قائم ہو رہے ہیں ریکوری بھی کی جا رہی ہے اور بجلی کے کنکشن بھی منقطع ہو رہے ہیں ، ذخیرہ اندوزوں اور اسمگلنگ کے خلاف کاروائیاں جاری رہنے سے چینی اور آٹے کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں اور کراچی تا خیبر بلا تفریق ڈالرز مافیاز پر چڑھائی سے ڈالر خاصا کمزور اور روپیہ طاقتور ہو رہا ہے۔ دو روز قبل فوج کے سپہ سالار جنرل سید حافظ عاصم منیر لاہور کے دورہ پر آئے اور صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن رضا نقوی کو تاکید کی کہ غیر معاشی سرگرمیوں کے خلاف آپریشن میں کوئی کمی نہ آئے اور مافیاز کے خلاف آپریشن میں تیزی آنی چاہیے، افغان سرحد پر سخت آپریشن کے نتیجے میں پٹرول، آٹا، چینی اور ڈالرز کی اسمگلنگ کی روک تھام میں واضح کمی آئی ہے اور ریاست کا یہ اعلان کہ پاکستان میں مقیم لاکھوں افغانی پاکستان بدر کر دئیے جائیں گے جو پاکستان میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جواب میں افغان طالبان نے چترال حملے میں ملوث ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن کیا اور دو سو سے زائد پاکستانی طالبان کو گرفتار کر کے پاکستانی ریاست کو پیغام دیا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات مستحکم کرنے کا خواہشمند ہے۔ سپہ سالار کے غیر معاشی سرگرمیوں کے خلاف سخت آپریشن کے نتائج حاصل ہو رہے ہیں اور اس کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں گے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کام سیاسی حکومتوں کا ہے جو ریاست کو کرنا پڑ رہا ہے اور ریاست ہی ملک کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہے یہ کہنا درست ہے کہ سیاست دان آتے جاتے رہتے ہیں مگر ریاست کی پالیسی ایک ہی طرز پر رہتی ہے ریاستی ادارے ان پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تازہ ترین گیلپ سروے میں 88 فیصد عوام ریاست کو اپنے درد کا مداوا سمجھتی ہے مگر ایک ناکام سیاسی جماعت اس سروے کو بھی متنازعہ بنانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے مگر فوج اور عوام کو چولی دامن کا ساتھ ہے اور اس کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش ناکام ہو گی۔ اب چند ماہ شاید ملک میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی سیاسی حکومت کیا ان مافیاز کے خلاف اسی طرح آپریشن جاری رکھے گی ؟ کیا عوام کو ریلیف دینے کے لیے غیر معاشی سرگرمیوں کو روکا جائے گا ؟ اور اگر ایسا ہوا تھا جو بھی سیاسی حکومت آئے گی وہ عوام میں مقبول ہو جائے گی بصورت دیگر عوام کی نظریں پھر سے ریاست کی طرف ہوں گی کیونکہ عوام مسلسل معاشی تباہی اور بد حالی اور گھٹن کے ماحول کے بعد آکسیجن کی منتظر ہے۔۔
238 مناظر