• محکمہء ایکسائز اور وائٹ کالر کرائم

    ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب
    حکومت کا ایک انتہائی اہم محکمہ ہے جو سالانہ اوسطاً 50 بلین روپے خزانے میں جمع کرواتا ہے۔ یہ محکمہ مختلف محصولات بشمول موٹر ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس اور لیگثری ٹیکس وغیرہ کے ذریعے پنجاب کی عوام کے ساتھ براہِ راست اپنے عملے کے ذریعے رابطے میں رہتا ہے۔ یہ پنجاب میں چلنے والی لاکھوں کروڑوں گاڑیوں کو نا صرف رجسٹر کرتا ہے بلکہ ان کا ٹوکن ٹیکس بھی وصول کرتا ہے۔ اسی طرح یہ محکمہ پنجاب میں موجود ہر گھر، جائیداد، کارخانے اور دوکان پر پراپرٹی ٹیکس لاگو کرتا ہے اور پھر اسے قومی خزانے میں جمع بھی کرواتا ہے۔ یہ سارے فرائض سر انجام دینے کے لیئے اس محکمے میں انسپکٹر کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ اس نے عوام سے براہِ راست رابطہ کر کے اس عمل کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔
    انسپکٹر کے عہدے کی اتنی اہمیت کے باوجود آج تک یہ محکمہ اس کی تعیناتی کا کوئی طریقہ کار واضح نہیں کر سکا۔ اس کی تعیناتی محکمے میں لاقانونیت اور بد عنوانی کا گڑھ بنی ہوئی ہے۔ یہ محکمہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول پر چلایا جا رہا ہے۔
    اس محکمے کا کوئی بھی ملازم خواہ وہ گریڈ 7 ویں کا کانسٹیبل ہو، گریڈ 9 ویں یا 11 ویں کا جونیر کلرک ہو یا گریڈ 14 ویں کا سینئر کلرک ہو، وہ تگڑی سفارش اور پیسے کی بدولت گریڈ 16 ویں کے انسپکٹر کے عہدے پر براجمان ہو سکتا ہے۔ اور یہ معجزہ کبھی کبھی نہیں ہر روز س محکمے میں رونما ہوتا رہتا ہے۔ اگر پنجاب میں ایک ہزار ایکسائز انسپکٹر ہیں تو پچاس فیصد سے ذیادہ لوگوں کو جان بوجھ کر او-پی-ایس بنیادوں پر تعینات کر دیا جاتا ہے۔ میرٹ پر پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ڈائریکٹ بھرتی ہونیوالے انسپکڑز کو ذیادہ تر کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے۔
    چونکہ ایکسائز انسپکڑ نے براہِ راست عوام سے رابطہ کر کے ٹیکس کی کولیکشن کو یقینی بنانا ہوتا ہے، تو پھر یہ میڑک اور ایف اے پاس کلرک کانسٹیبل محکمے کے تاثر کو چند ٹکوں کی خاطر زبردست نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس بات کی تصدیق اس محکمے کے ساتھ ڈیل کرنیوالا صوبہ پنجاب کا کوئی بھی باسی کر سکتا ہے۔ لاقانونیت کا یہ کھیل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں برسوں سے چلا آ رہا ہے اور کوئی بھی آفیسر اس سے نبردآزما ہونے سے قاصر رہا ہے۔
    اتنے بڑے صوبے کے اتنے اہم محکمے کو نااہل، بدعنوان اور میڑک پاس کلرکوں کے حوالے کر دینا وائٹ کالر کرائم کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔ محکمہ ایکسائز کے اس کلچر کیخلاف ڈی جی ایکسائز، سیکرٹری ایکسائز اور وزیراعلی پنجاب کو فوری ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جب کوئی عہدہ نالائق، بدعنوان اور نااہل شخص کو دیا جائے گا، تو پھر وہ یقیناً اس عہدے کا غلط استعمال کرے گا۔ وہ اپنی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے شریف شہریوں کا جینا محال کر دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دوسرا شہری آپ کو محکمہ ایکسائز کیخلاف شکایت کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
    لہذا، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں تعیناتی اور تبادلوں کے لیے کم از کم کچھ نا کچھ تو نظم و ضبط ہونا چاہیے۔

    372 مناظر