تحریر ۔ جاوید کمیانہ
گزشتہ دنوں بھارت نے جی ٹونٹی کانفرنس کا انعقاد کر کے عالمی سطح پر بالخصوص اور چاینہ و پاکستان کو یہ کھوکھلا پیغام دیا کہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری کا توڑ نکال لیا ہے اور یورپ و مڈل ایسٹ کے ساتھ تجارت کے لیے پاکستان کے راستوں کی ضرورت نہیں ہے در حقیقت مودی سرکار نے سوائے دوچار بڑی شخصیات کی حاضری کے کوئی عملی کامیابی حاصل نہیں کی جس تجارتی منصوبے پر ہندوستان نے جی ٹونٹی کانفرنس والی سیاسی چال چلی تھی وہ مکمل طور پر ناقابل عمل منصوبہ ہے اور اس طرح کے ہوائی منصوبے بھارت پہلے بھی بنا چکا مگر کئی سال گزرنے کے باوجود اس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ جوں جوں بھارت میں انتخابات قریب آنے لگتے ہیں تو مودی سرکار اس طرح کے دوچار ڈرامے کر کے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے جیسے جی ٹونٹی کے بعد جھوٹ پر مبنی پاکستان پر دراندازی کا گھناؤنا الزام اور پھر اس کے نتیجے میں من گھڑت فالس فلیگ آپریشن اور اس کے نتیجے میں اپنے ہی فوجیوں اور شہریوں کی بلی چڑھا دی مگر پاکستان نے اس پلوامہ نما ڈرامے کو بری طرح ناکام بنایا بلکہ بھارت کو ننگا کر کے اس کا اصل چہرہ بھی دکھا دیا۔ مودی سرکار اپنے ڈراموں کی نام نہاد کامیابی پر خوش ہو کر انگڑائی ہی لے رہی تھی کہ کینیڈا کے ایک واقع نے مودی سرکار کی روح نکال لی اور بھولے ناتھ کی مورتی کی طرح ساکت کر دیا۔ ماضی قریب میں خالصتان تحریک کے سرکردہ رہنماء ہردیپ سنگھ کینیڈا میں قتل ہو گئے تھے جس کے بعد کینیڈا سمیت پوری دنیا میں مقیم سکھ برادری میں غم و غصہ پایا جاتا تھا ہردیپ سنگھ کے قتل کے بعد کینیڈا میں خالصتان تحریک زور پکڑ گئی اور دس ستمبر کو وینکوور میں خالصتان کے حق میں ریفرنڈم کروایا جس میں ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد سکھ کمیونٹی نے حصہ لیا جو بھارت کے منہ پر طمانچہ تھا مگر کینیڈا نے دوسری گال پر اس وقت شدید طمانچہ مارا جب کینیڈا میں بھارتی سفارت کار کو ملک بدر کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہردیپ سنگھ کے قتل میں بدنام زمانہ را کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں جو ہماری خودمختاری پر حملہ ہے۔ سینیٹر بھارتی سفارتکار اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے مقامی سربراہ کو ملک بدر کرنے کے بعد دونوں ممالک کی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور بھارت ،برطانیہ اور کینیڈا میں مقیم سکھ برادری کا غم و غصہ عروج پر ہے۔ مودی سرکار کی تمام تدبیریں الٹا پڑنا شروع ہو گئی ہیں اور مستقبل قریب کے بھارتی انتخابات میں ہندوتوا اور مودتوا کو بری طرح شکست کا سامنہ کرنا پڑے گا۔
