تحریر:سلمان احمد قریشی
کروڑوں پاکستانی آج بھی ذوالفقار علی بھٹو سے عقیدت اور محبت رکھتے ہیں۔ یہ بھٹو کا سحر ہے جو ختم نہیں ہوتا.پنجاب سے بہت سے لیڈر گڑھی خدا بخش سے ناطہ جوڑ کر مقبول ہوئے، آج وہ کپتان کے ساتھ ہیں اورزندہ ہے بھٹو زندہ ہے کے نعرہ سے پریشان ہوجاتے ہیں۔بھٹو کئی دلوں پر راج کرتا ہے یہ بات ایک طرف کئی اذہان پر سوار ہے جبکہ دوسری طرف ان کے مخالفین اپنی سیاست کو جاری رکھنے کے لیے انکے کردار کی نفی کرکے اپنا قد بڑھانے کی جستجو میں رہتے ہیں۔بھٹو کو سیاست سے مائنس کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا گیا لیکن زندہ ہے بھٹو کا نعرہ آج بھی گونجتا ہے۔ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم، اسلامی سربراہی کانفرنس کے چئیرمین اور تیسری دنیا کے عظیم قائد ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا-اس وقت کے سفاک حکمرانوں نے اور عدلیہ نے انہیں بے قصورتختہ دار پر چڑھا دیا لیکن آج تک عوام کے دلوں سے بھٹو کی محبت ختم نہیں کی جا سکی اور تاریخ دان جب بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ لکھتا ہے تو اس میں بھٹو کو مظلوم اور ضیاء و عدلیہ کو آمرو ظالم ہی لکھتا ہے-
بھٹو ایک مرتبہ نہیں چار مرتبہ قتل ہوئے۔پہلی مرتبہ 4اپریل 1979کو ایک طیارہ بھٹو کا جسد خاکی لیکر لاڑکانہ پہنچا،دوسری مرتبہ 21اگست 1985کو میر شاہنواز بھٹو کی میت لائی گئی۔تیسری مرتبہ 19ستمبر 1996کو میر مرتضی بھٹو کوخون سے غسل دے کر لاڑکانہ پہنچایا گیا۔ اس کے بعد 27دسمبر2007کو عالم اسلام کی پہلی منتخب وزیراعظم اور دختر مشرق بے نظیر کو گڑھی خدا بخش میں جمہوریت کے قبرستان میں سپرد خاک کرنے کے لیے پہنچایا گیا۔بھٹو خاندان اور انکی سیاست سے اختلاف جمہوری حق ہے لیکن جب پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور سیاسی نظریہ کے لیے جدوجہد کی تاریخ پڑھتے ہیں تو بھٹوز کے خون کی سرخی روح تک اثر دکھاتی ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخرعوام کی بات کرنے پر سزائے موت دینے کی یہ روایت کیوں قائم ہوئی،جلاوطنی یا معاہدے اور سزائیں معاف کرنے کی روایت بھی تو ہماری سیاست کا حصہ ہے پھرموت ہی بھٹوز کا مقدر کیوں۔۔؟اگربھٹوز طبعی عمر پوری کرتے توشاید آج ”زندہ ہے بھٹو”کا نعرہ نہ گونج رہا ہوتا۔بھٹوز کا خون جمہوری جدوجہد اور عوامی راج کا استعارہ بن گیا۔آج بھی سیاست
بھٹو کے گرد گھومتی ہے۔کوئی بھٹو کے نام پر ووٹ لینے کا خواہش مند ہے تو کوئی اپنی سیاست بھٹوکی مخالفت پر پروان چڑھانا چاہتا ہے۔راولپنڈی کے ایک گمنام کردار نے طویل عرصہ بعد سیاست میں اپنا نام بنانے کی کوشش کی تو زندہ ہے بھٹو کے نعرہ اور پارٹی فلسفہ کے خلاف بھٹو مرچکا ہے کہہ کر تنقید کی۔بھٹو مر چکا ہے تو پھر آپ اپنی توانائی اس نام پر صرف کیوں کررہے ہیں یقینا وہ بھٹو کے نام سیسیاست میں جگہ چاہتے ہیں۔اس کے علاوہ کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔
قارئین کرام! پاکستان کے سابق وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو کی زندگی میں ماہ ستمبر بہت اہم ہے۔18ستمبر انکا یوم ولادت اور 20ستمبریوم شہادت ہے۔زندگی اور موت میں ایک دن کا فرق المناک داستان ہے۔اس داستان کا ایک پہلو یہ ہے سالوں کیس چلنے کے بعد تمام ملزمان بری ہوگئے۔سندھ ہائیکورٹ میں میر مرتضی بھٹو قتل کیس میں ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل کی 14 سال بعد سماعت ہوئی۔مرتضی بھٹو کے ملازم نور محمد گوگا نے ملزمان کی بریت کے خلاف 2010 میں اپیل دائر کی تھی۔ دائر اپیل میں موقف اپنایا گیا تھا کہ 20 ستمبر 1996 کو میر مرتضی بھٹو اور ان کے ساتھیوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا تھا۔دسمبر 2009 میں ماتحت عدالت نے 20 پولیس افسران کو بری کردیا تھا۔ ماتحت عدالت نے پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے میر مرتضی بھٹو اور ان کے ساتھیوں کو بے گناہ قرار دیا تھا۔اسی عدالت نے سابق چیف آئی بی مسعود شریف، سابق ڈی آئی جی پولیس شعیب سڈل جواس وقت ایس ایس پی تھے۔واجد علی درانی، اس وقت کے ایس پی تھے۔ شاہد حیات مرحوم اور دیگر کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے بری کردیا تھا۔واضح رہے کہ مرتضی بھٹو قتل کیس کے ملزم انسپکٹر حق نواز سیال نے خودکشی کرلی تھی۔مرتضٰی بھٹو نے طویل عرصہ جلاوطنی میں گزارا۔ زیادہ تر وقت افغانستان اور شام میں گزارا۔ 1988 کے عام انتخابات کے بعد بینظیر بھٹو وزیراعظم بنیں لیکن وہ اس پوزیشن میں نہیں تھیں کہ اپنے بھائی کو وطن بلا سکیں۔ بیگم نصرت بھٹو کی شدید خواہش تھی کہ مرتضٰی بھٹو پاکستان آئیں۔ بیگم نصرت بھٹو کا موقف تھا کہ جب غلام مصطفٰی کھر اور اجمل خٹک واپس وطن آ سکتے ہیں تو مرتضٰی کو بھی حق ہے کہ بطور آزاد شہری کے وطن آ کر اپنی زندگی گزارے۔ بینظٰیر بھٹو کا خیال تھا کہ مقتدر قوتیں کسی طور پر مرتضٰی کو معاف نہیں کریں گی۔1993میں مرتضی بھٹو واپس آئے اور سیاست میں حصہ لیا۔محترمہ بینظیر بھٹو اور مرتضی بھٹو کے درمیان اختلافات رہے۔راقم الحروف کی میر مرتضی سے لاہور میں ملاقات ہوئی یہ وہ دور تھا جب دونوں کے درمیان برف پگھل چکی تھی۔مرتضی بھٹو محترمہ بے نظیر کے مخالف نہیں تھے صرف سیاسی اختلاف رکھتے تھے۔سات سال بعد بہن بھائی کی ملاقات 7 جولائی 1996 کو ہوئی۔ بینظیر والہانہ انداز میں بھائی سے گلے ملیں۔ اس ملاقات کے دو ماہ بعد 20 ستمبر 1996 کو مرتضیٰ بھٹو کو ان کی رہائش گاہ ستر کلفٹن کے قریب ان کے چھ ساتھیوں سمیت مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔یہ ملاقات پیپلزپارٹی اور بے نظیر بھٹو کے مخالفین کے لیے ناخوش گوار پیغام تھا۔پیپلز پارٹی کے بانی رکن اور دانشور ڈاکٹر مبشرحسن جو بعد میں پارٹی سے علیٰحدہ ہو گئے تھے۔ انہوں نے لکھاتھا کہ ’کیا مرتضیٰ کے زندہ ہوتے بینظیر کو ہٹایا جا سکتا تھا؟اگر بہن بھائی دونوں ایک پیج پر ہوتے تو کیادو بھٹوز کا مقابلہ کیا جاسکتاتھا۔۔؟حامد میر بھی نوازشریف سے ایک ملاقات کا احوال بیان کرتے ہیں کہ بی بی کی حکومت بہتر انداز میں جارہی تھی کہ نوازشریف نے اپنی حکومت کے آنے کا ذکر کیا سب حیران تھے کہ نہ الیکشن ہورہے ہیں نہ آئینی مدت پوری ہورہی تھی لیکن یہ دعوی کس بنیاد پر کیا گیا۔ چند دونوں میں ہی مرتضی بھٹو کا قتل ہوتا ہے اور صدر فاروق لغاری اپنی ہی جماعت کی حکومت توڑ دیتے ہیں الیکشن ہوئے اور نوازشریف برسراقتدار آجاتے ہیں۔تب نوازشریف کا برسراقتدار آنے کا دعوی سمجھ آیا اور مرتضی بھٹو کے قتل کی سازش بھی بے نقاب ہوگئی۔یہ کیسی سیاست ہے یہ کونسی جمہوریت ہے کہ حکومت کے خاتمہ کے لیے بھٹو کو مارا گیا۔ ظلم کی انتہا قتل کا الزام بھی آصف علی زرداری پر لگانے کی کوشش کی گئی۔مرتضی قتل کیس کا 15سال کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام قاتل بری ہوگئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کیس کی اپیل بھی عدالت میں موجود ہے۔بی بی شہید کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کی بجائے ایک شرمناک مہم چلائی گئی بھٹوز کے قاتل پکڑے گئے نہ کسی کو سزاہوئی۔اگر کوئی جمہوریت کی بات کرتا ہے ملک میں قانون و انصاف کی بات کرتا ہے تو بھٹوز کے لیے انصاف کے مطالبہ سے کیسے دستبردار ہوسکتا ہے۔ووٹ کے حصول کے لیے بھٹو کی شہادت کا مذاق،انصاف کا قتل اور جمہوریت کی تذلیل کے سوا کچھ نہیں۔انصاف ہونے تک بھٹو گونجتا رہے گا اور ظلم و ناانصافی کے طرفدار اضطراب میں مبتلا رہیں گے۔میر مرتضیٰ بھٹو کا خون حکومتوں اور عدالتوں سے انصاف طلب کررہا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں بڑے لوگوں کے قتل کی تحقیقات کبھی بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکیں، چاہے وہ،مرتضی بھٹو کی ہلاکت ہو یا بے نظیر بھٹو کا انجام اس سلسلے میں ہر طرف بس خاموشی ہی چھائی ہوئی ہے، جبکہ انصاف کی طلب اور آواز اکثر صدابہ صحرا ثابت ہوئی ہے۔ان تمام تر حالات کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھٹوکی پکار کی گونج آج بھی سنائی دے رہی ہے اور ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی۔