Site icon Meritnews

احتساب، انتخاب اور سراب

تحریر:سلمان احمد قریشی

پاکستان میں 1973 کا آئین نافذ العمل ہے۔ جمہوری عمل کس طرح آگے بڑھتا رہے یہ سب کچھ آئینِ پاکستان میں درج ہے۔ اس کے باوجود وطنِ عزیز میں عام انتخابات کب ہونگے اس مسئلہ پر مختلف آرا ہیں۔ سیاسی معاملات عدالتوں میں ہیں۔ مختلف تشریحات اور ترجحیات ہیں۔ مسلم لیگ نواز کا سب سے اہم مسئلہ نوازشریف کی وطن واپسی ہے۔ پی ٹی آئی اپنے چیرمین کی رہائی چاہتی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی 90 دن یا جلد از جلد انتخابات کی خواہاں ہے۔دوسری طرف انتخابات سے قبل احتساب کا نعرہ ہے یہ نعرہ نیا نہیں۔پاکستان میں سیاستدانوں کے احتسا ب کا عمل پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کے دور سے شروع ہوا اور ہر دور میں مختلف طریقوں سے یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس ملک میں پہلی بار 31 مارچ 1951 کو کرپشن کے الزام پر کاروائی ہوئی جب پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے پنجاب کے وزیرِاعلیٰ افتخار ممدوٹ کی حکومت بَرطرف کر کے گورنر راج لگایا تھا۔ اُس وقت سے آج تک انتخابات سے قبل ہمیشہ احتساب کی بازگشت سنائی دی۔ انتخابات کا التواء، نتائج پر شک و شبہات یہی سب کچھ ہوتا آرہا ہے۔
قارئین کرام! آج پاکستان کے حالات اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ سیاسی معاملات، مسائل اور آئین کی بالادستی سب کچھ روایتی ہے لیکن معاشی حالات بدترین ہیں۔ آج عوام نہ اسلامی نظام کے نعرہ پر پُرجوش ہیں نہ ہی عوامی انقلاب کی خواہش ہے، امریکہ مردہ باد کی بازگشت ہے اور نہ نئے پاکستان کا جوش، صرف اور صرف مار گئی مہنگائی ہر طرف یہی ہے دوہائی، کوئی حکومت عوام کے لیے کچھ بھی نہ کرپائی۔ سب حکومت سے باہر آتے ہی بے بسی کا رونا روتے ہیں لیکن اس نظام کا حصہ بنے رہنے کو بھی تیار ہیں۔ صرف تیار ہی نہیں بلکہ اپنے لیے کردار کے انتخاب کو عام انتخابات پر ترجیحی دیتے ہیں۔ انتخابات سے قبل ایسا ماحول بن جاتا ہے کہ آئندہ حکومت کے خدوخال واضح ہونا شروع ہو جاتے ہیں ایسا کسی سروے کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ یہ تاثر اقدامات اور اعلانات سے بنتا ہے۔ صوبہ پنجاب اور کے پی کے میں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد 90 روز میں انتخابات کا آئینی تقاضا پورا نہیں کیا گیا۔
آج چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری الیکشن کمیشن سے انتخابات کی تاریخ اور شیڈول کا فوری اعلان کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ سندھ میں ترقیاتی کاموں پر عائد پابندی ہٹائے اور دوغلا نظام ختم کرے۔ انتخابات آئین کے مطابق 90 نہیں تو 120 دن میں کرا دیئے جائیں۔ پیپلز پارٹی تو 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کیلئے بھی تیار تھی، انتخابات میں تاخیر کا سوال الیکشن سے بھاگنے والوں سے کیا جائے۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے الیکشن جلد از جلد آئین کے مطابق کروائے جائیں، ہم امید کرتے ہیں الیکشن کمیشن فری اینڈ فیئر الیکشن کروائے گا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو دیکھنا چاہیے کہ ملک میں دوغلی پالیسی کیوں چل رہی ہے، الیکشن کمیشن نے ترقیاتی فنڈز روکنے کا غیر آئینی کام کیا، سندھ میں سیلاب متاثرین کے فنڈز روکے گے تو پنجاب اور وفاق میں بھی روکا جائے، بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت ہے، پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ ہمارا مقابلہ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی سے ہے، ہم نے کارکردگی سے پروپیگنڈا اور کردارکُشی کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ عوام کو اپنے فیصلے کرنے دیے جائیں، عوام اگر نواز شریف کو چُنتے ہیں تو ہم سب کو قبول کرنا چاہیے، اگر پیپلز پارٹی کے حق میں فیصلہ دے تو سب قبول کریں، اگر پاکستان تحریک انصاف کو چُنیں تو ہمیں قبول کرنا پڑے گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آصف زرداری نے ساڑھے 11 سال جیل میں گزارے، کچھ سیاست دان مشکل وقت گزار رہے ہیں ان کو بتانا چاہ رہے ہیں کہ گھبرانا نہیں، جو کہتا تھا کہ سب کو جیلوں میں ڈالوں گا آج خود جیل میں ہے، جیل میں ان کے سیاستدان بننے کی ٹریننگ ہو رہی ہے۔کٹھ پتلیاں بنانے والوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام پر تجربے کرنا بند کر دیں، عوام کو اپنے فیصلے کرنے دیے جائیں، جو کٹھ پتلیاں بناتے ہیں انہیں بھی علم ہو گیا کہ مزید تجربے نہیں چل سکتے۔ بلاول بھٹو کا موقف درست ہے لیکن ماضی قریب میں اتحادی حکومت اور الیکشن کمیشن سب نے ایک غلط روایت قائم کی۔ مہنگائی اور تمام تر مسائل میں اضافہ کے بعد آج نگران حکومت سے مطالبات اور قیمتی مشورے بے وقت کا راگ الاپنے کے سوا کچھ نہیں۔ پنجابی کہاوت کے مصداق، ویلے دیاں نمازاں تے قویلے دیاں ٹکراں، اب سیاسی بیان بازی سے آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کی آواز بلند کرنے سے کچھ ہونے والا نہیں۔ اسٹیبلیشمنٹ سے بہتر تعلقات اور بنیادی کردار کی خواہش نے جمہوری نظام کو کمزور ہی نہیں عوام کی بھی بس کروا دی ہے۔ آج غریب، جمہوریت نہیں دو وقت کی روٹی کا خواہشمند ہے۔ بلاول بھٹو کی ذات کی حد تک وہ اس کھیل کا بنیادی کردار نہیں۔ عوام انہیں موقعہ دینے پر تیار ہو سکتے ہیں اسکے لیے انہیں بھرپور مہم چلانا نے گئی۔ یہ حقیقت ہے آج عوام سیاسی قیادت پر مزید اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ احتساب ہوتا ہے یا انتخاب عوام کے نزدیک یہ نیا سراب ہی ہو گا۔ اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے بیانات اور مطالبات سے آگے بڑھ کر عمل اور کردار کو بہتر بنانا ہو گا۔
آصف علی زرداری انتخابات کے انعقاد سے قبل حلقہ بندی کے التوا کو جواز کے طور پر قبول کرتے ہیں، مفاہمت اور اتحادیوں کے ساتھ چلنے کے خواہش مند ہیں جبکہ بلاول بھٹو انتخابات کے انعقاد اور عوامی فیصلے کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنے پر تیار ہیں اور دائرہ کی سیاست سے باہر نکل کر آگے بڑھنے کے خواہاں ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک طرف کھڑے ہونا ہو گا۔ طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں اس بنیاد پر سیاست کرنا ہو گی تاکہ روایتی سیاست سے خود کو الگ کر کے عوامی عدالت میں جائے تاکہ عوام میں پائی جانے والی مایوسی اور پی ٹی آئی کی پھیلائی سیاسی تفریق کا مقابلہ کیا جا سکے۔ احتساب اور انتخاب کو سراب بننے سے بچانے کی ذمہ داری صرف اور صرف سیاسی قیادت کی ہے۔ بیانات اور مطالبات اخباری سرخیاں تو بن سکتی ہیں عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتیں۔

Exit mobile version