Site icon Meritnews

مار خور کی جنگ

پن پوائنٹ ۔ تحریر جاوید کمیانہ

کم عمری سے ہی ایک بات ذہن میں ڈالی جاتی تھی کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی جس کا لوگو مار خور ہے یہ دنیا کی بہترین ایجنسی ہے اور یہ والدین کے محب وطن ہونے کی دلیل تھی ۔جب زمانہ طالب علمی میں پہنچے تو مطالعہ اور تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ سو فیصد سچ بات ہے کہ پاکستان کے اس خفیہ ادارے نے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوایا اور سکہ قائم کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس لوگو سے ڈرتے ہیں اور مارخور کا شمار حقیقتاً دنیا کی بہترین ایجنسی میں ہوتا ہے ۔ ہمسایہ دشمن ملک بھارت بالخصوص اور امریکہ و اسرائیل سمیت متعدد ممالک آئی ایس آئی کے نام اور کام سے خوفزدہ ہیں۔ اگر مشاہدہ کریں تو کافی مقامات پر پاکستان مخالف خفیہ ایجنسیاں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر مار خور کے خلاف صف آراء ہوئیں مگر کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ایک لمحے کے لیے غور کریں تو انڈیا کی مخالفت دو ممالک سے ہے ایک پاکستان اور دوسرا چین اور افرادی قوت ، فنڈز اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود اس کو زیادہ چیلنجز کا سامنا نہیں ہے جبکہ مار خور محدود وسائل کے باوجود بہت سے دشمن مالک کے خلاف صف آراء ہے اور گراف نمبر ون پر ہی قائم رکھے ہوئے ہے اس کے پیچھے وجہ کیا ہے ؟ جزبہ ایمانی سے سرشار اور ملک کی محبت سے بھرے دامن کے ساتھ جب میدان میں اترتے ہیں تو دشمن کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ دور حاضر میں لمحہ فکریہ ہے کہ مارخور کو بیرونی محاذوں کے ساتھ ساتھ اندرونی محاذوں پر بھی نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے جو کام سیاست دانوں اور منتخب سیاسی حکومتوں کو کرنے تھے وہ مارخور کو کرنے پر رہے ہیں مثال کے طور پر ڈالر مافیا کا مزاج درست کرنا، اسمگلنگ کی روک تھام ،پاک افغان سرحد پر دشمن کے حملے کا منہ توڑ جواب اور ہمسایہ ملک افغانستان میں چھپے پاکستان دشمن عناصر کی سرکوبی اور تو اور بجلی چوروں کے خلاف آپریشن اور پھر اس سے بھی بڑھ کر ایک سیاسی جماعت جس نے اپنی فین فاوولنگ کو اپنی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف زہر اگلا ہو اس کو قائل کرنا کہ ہم ہی تو ملک کے ساتھ مخلص ہیں یہ سیاست دان تو اپنی کرسی اور ذاتی مفادات کے باعث جب دل چاہا اپنی فوج کو اچھا اور پھر برا بنا کے پیش کر دیتے ہیں۔ بھارت کے چینلز پر بازگشت سنائی دی گئی کہ جو کام بدنام زمانہ را اربوں روپے خرچ کر کے نہ کر سکی عمران خان نے وہ پاکستان دشمن ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچا دیا ۔ گزشتہ ہفتے ایک ڈینٹل ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی میں نے سوال کیا کہ آپ تو کٹر عمران خان کے اسپورٹر تھے سوشل میڈیا پر آپ کی عمران مخالف پوسٹ میری نظر کا دھوکہ تو نہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نو مئی کے دلخراش واقعے سے پہلے ہی پی ٹی آئی کے فوج مخالف من گھڑت بیانیہ کی وجہ سے پیچھے ہٹ چکا تھا کہ یہ شخص احسان فراموش ہے جنہوں نے اس کی اس بنیاد پر مدد کی کہ کرپشن مخالف ذہن کا بندہ ہے اور ملک کو درست سمت ڈال دے گا مگر عملی طور پر زیرو نکلنے کے باعث سیاسی جماعتوں نے آئینی عمل کے ذریعے اس کو اقتدار سے نکالا آج وہ اور اس کے پیروکار اور چند لنڈے نام نہاد صحافی جن کا شعبہ صحافت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے اور آئی ایس پی آر کے جوتے سیدھے کر کے ملک کے نامور صحافی بنے بیرون ملک بیٹھ کر اپنی فوج اور مارخور کے خلاف بھونک رہے ہیں مگر کڑے احتساب کا وقت آ گیا ہے اور سپہ سالار جنرل عاصم منیر نے ٹھان لی ہے کہ ملک کی معیشت کو درست سمت میں لانا اور ملک میں سرگرم مافیا کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے، کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی اس کی زراعت ہوتی ہے اور اس وقت سوا چھ لاکھ ایکڑ بنجر اور ناقابل استعمال زمین کو سپہ سالار کے ویژن کے مطابق قابل کاشت بنا کر زراعت میں انقلاب برپا کرنے کی تیاری کا آغاز ہو چکا ہے میرا زیادہ بڑا دعویٰ تو نہیں ہے مگر اگلے تین ماہ میں پاکستان آپ کو الگ ہی ریاست نظر آئے گا جس کے اثرات شروع ہو چکے اور ثمرات سمیٹنا باقی ہیں اور اس وقت پاک فوج اور مارخور کی ملکی معیشت کو درست کرنے کے حوالے سے پروگرامات اور سپہ سالار کے تیور دیکھتے ہوئے دشمن ملک کے ذرائع ابلاغ میں معترف ہو رہے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے کارکن یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ملک کی معیشت درست اور عوام کو ریلیف مل جائے تو ہم نے سیاست دانوں سے کیا لینا ہے۔ سیٹ بیلٹ باندھ کر رکھیں ملک کی تقدیر انشاء اللہ بدلنے کا رہی ہے۔۔۔

Exit mobile version