تحریر: سلمان احمد قریشی
وطنِ عزیز میں سیاسی میدان میں ہونے والی اقتدار کے حصول کی کشمکش اور سازشوں سے عام پاکستانی مایوس ہیں۔ نوجوان ناامید اور پریشان ہیں جسکے نتیجہ میں تارکینِ وطن افراد کی تعداد میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ غریب خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ عام آدمی سٹرکوں پر ہے۔ پوری قوم مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہے اور سراپا ء احتجاج ہے۔ تاہم زوال کی طرف بڑھتے معاشرہ میں کھیل کے میدانوں سے کچھ اچھی خبریں آرہی ہیں۔ پاکستان کے ارشد ندیم نے ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپسٹ میں منعقد ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئین شپ میں جیولن تھرو کے فائنل مقابلے میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی ایتھلیٹ نے ان مقابلوں کی تاریخ میں کوئی بھی تمغہ جیتا ہو۔فائنل میں ارشد ندیم نے اپنی بہترین تھرو 87.82 میٹر دور پھینکی اور یہ رواں سیزن میں ان کی بہترین تھرو بھی تھی۔ ارشد ندیم نے سہولیات کی عدم فراہمی کے باوجود بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ وطن واپسی پر انکا شاندار استقبال کیا گیا۔ دوسری خبر کرکٹ کے گروانڈ سے ہے، افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز میں کامیابی حاصل کر کے پاکستان ون ڈے رینکینگ میں نمبر ون کی پوزیشن پر آ گئی۔ کپتان بابر اعظم ورلڈ نمبر ون بیٹر قرار پائے۔ اس کے ساتھ ہی ایشیا کپ کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس کے بعد ورلڈ کپ شیڈول ہے۔کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل ہے۔ کرکٹ کا بخار ہمیشہ سر چڑھ کر بولتا ہے۔ عالمی مقابلوں کے آغاز کے ساتھ ہی قوم کرکٹ کے میدانوں سے ایسے جُڑ جاتی ہے کہ بازار ویران ہو جاتے ہیں۔ تمام اختلافات ایک طرف کرکٹ میچ کے لئے صرف اور صرف قومی یکجہتی ہی نظر آتی ہے۔ بچے، مرد خواتین اور بزرگ سب قومی ٹیم کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔
قارئین کرام! ہم بھی زمانہ طالبِ علمی سے کرکٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔1987 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آسڑیلیا کے ہاتھ پاکستان کی شکست اور کارکردگی حافظہ میں محفوظ ہے۔ سلیم جعفر کا آخری اورر اور اٹھارہ رنز، آسٹریلوی بیٹر ڈیوڈ بون کی بیٹنگ سب یاد ہے۔ اس کے بعد 1992 کا ورلڈ کپ پہلے میچ سے لیکر فائنل میں وسیم اکرم کے شاندار اوور تک پاکستان کی کامیابی، یہ تاریخی لمحات یادگار ہیں۔1992 کے ورلڈ کپ کا تذکرہ ملکی سیاست میں بھی بہت ہوا۔ اس وقت تمام قوم خوش تھی اور کپتان عمران خان ایک ہیرو کے طور پر کرکٹ سے ریٹائر ہوئے۔ ہر طرف والہانہ استقبال، پذیرائی اور محبت کے پھول نچھاور ہوئے۔ اس کے بعد عمران خان سیاست میں آئے۔ کرکٹ کے میدان سے شہرت حاصل ہوئی جبکہ سیاسی میدان میں محبت کے ساتھ نفرت اور مخالفت بھی شدید ہوئی۔ کرکٹ کا ہیرو سیاست کا اینگری مین کے طور پر وزارتِ عظمیٰ تک پہنچا اور اسکے بعد سیاست میں اگلا دروازہ جیل کا ہی کُھلتا ہے عمران خان اس میں بھی داخل ہوئے۔ سیاست میں ”کبھی خوشی کبھی غم” جیسا سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے لیکن میدانِ سیاست سے پاکستانیوں کے حصہ میں خوشی کچھ کم ہی آئی۔ مسائل اور مشکلات وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہی گئے۔ اس کے ساتھ لیڈروں نے تقسیم اور نفرت کو ہی فروغ دیا۔ سنہ1996، کے بعد سنہ 1999 وہ آخری ورلڈ کپ تھا جب پاکستان’ڈریم ٹیم ‘ آسٹریلیا کے خلاف ورلڈ کپ فائنل میں شکست کھا گئی۔ اسکے بعد قومی کرکٹ ٹیم کئی مرتبہ پاکستانی مداحوں کے دل دُکھا چکی ہے اور اِنھیں صدموں سے دوچار کر چکی ہے۔ سنہ 2007 میں بھی پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہونے کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ سنہ 2019 میں بھی پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہونا، دکھوں کا وہی تسلسل تھا۔ تاہم اس مرتبہ پاکستان ٹیم سے امید لگانے والے مداحوں کے پاس آئی سی سی ون ڈے رینکنگز میں ٹیم کا سرِفہرست ہونے کا جواز ہے۔ قومی ٹیم متوازن اور بہترین کارکردگی کے ساتھ ایشیا کپ اور ورلڈ کپ کھیلے گی۔ پاکستان چیمیئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کا دفاعی چیمپیئن ہے اور اب اگر ہم ون ڈے ورلڈ کپ اور ایشیا کپ بھی جیت جائیں تو قوم کو خوشی کے لمحات میسر آسکتے ہیں۔ اگر اتنی پرفیکٹ ٹیم بھی ورلڈ کپ نہ جیت سکی تو مایوسی ہو گی۔ سوالات اٹھائے جائیں گے۔ مانتے ہیں کھیل کو کھیل ہی سمجھنا چاہئیے لیکن پاکستان میں کھیل بھی سیاست کی نذر ہیں۔ ہر سطح پر سفارش اور میرٹ کا قتل ہوتا ہے۔ کرکٹ کے علاوہ تمام کھیل یکسر نظر انداز ہیں۔سہولیات کا فقدان ہے۔پریشیان قوم کے لیے خوشیوں کی واحد امید کھیل کے میدان ہیں۔میدان سیاست پر چھائے مایوسی کے بادل اگر کھیل کے میدانوں پر بھی چھا جاتے ہیں توسنھبلنے میں بہت وقت لگے گا۔ اگر آج ہم کھیل کے میدان میں کامیابی کے لیے پر امید ہیں تو اسکی واحد وجہ کھلاڑیوں کی خداداد صلاحیتں ہیں۔ پاکستان میں بہترین سپورٹس مین پیدا ہوتے آ رہے ہیں۔ ارشد ندیم ایک ایسا سپوت ہے جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ کرکٹ کے میدان میں بھی بہت ٹیلنٹ موجود ہے چھوٹے شہروں میں اپنی محنت کے بل بوتے پر بہت سے نامور کھلاڑی سامنے آئے۔ بہت سا ٹیلنٹ نظر انداز ہوا جسکا نتیجہ شکستوں کی صورت میں نکلا۔ انفرادی محنت کے نتیجہ میں کرکٹ ٹیم کی کارکردگی لاجواب رہی۔ کرکٹ پاکستانیوں کا جنون ہے۔ جس کو جب بھی موقع ملا اس نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
پاکستان کے نامور کرکٹر ذوالفقار علی بابر ایک ایسی ہی مثال ہے جو بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود قومی ٹیم میں بہت دیر سے شامل ہوا لیکن جتنی کرکٹ کھیلی اس سے ثابت کیا کہ اگر اس عظیم کھلاڑی کو موقع ملتا تو یہ پاکستان کے لیے بہت کچھ کر سکتا تھا۔ ذوالفقار علی بابر کا تعلق اوکاڑہ سے ہے۔ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوینٹی میں اس کھلاڑی نے اپنی باولنگ سے ثابت کیا کہ کرکٹ ٹیلنٹ چند شہروں تک محدود نہیں۔”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی” کے مصداق ہم اوکاڑہ سے لاڑکانہ تک ٹیلنٹ دیکھتے ہیں۔ آج شاہنواز دہانی بھی ایسی ہی مثال ہے۔ وسائل کی کمی کے باوجود نہ سفارش اور نہ جان پہچان صرف اور صرف محنت اور کارکردگی کے نتیجہ میں قومی سطح پر نام پیدا کیا۔ بورڈ میں بھاری تنخواہوں پر نان پروفیشنلز کی تعیناتی کی جگہ اگر اہل افراد کو موقع دیا جائے تو بہت کچھ بہتر ہو سکتا ہے۔ ہماری یہ بدقسمتی رہی ہے کہ ہم پرفارمنس کی بجائے چہرے مُہرے اور سٹائل سے بھی بہت زیادہ مرعوب ہو جاتے ہیں۔ میڈیا کوریج نے عمران خان اور شاہد آفریدی کو لیجنڈ بنایا جبکہ انکے ہم عصر بہت سے کرکٹر انکے مقابلہ میں بہت اونچے رتبے پر ہیں۔ ایک میچ کی کارکردگی کو لیکر مسلسل ٹیم میں شامل رکھا گیا۔ جبکہ بہت سے وہ کھلاڑی جو بہتر پرفارمینس دینے کے باوجود ٹیم سے باہر ہوتے رہے۔ ان فیصلوں پر تنقید ہوتی رہی لیکن پاکستان میں ایسے ہی چلتا رہا۔
ہم نے سیاست کو کرکٹ اور کرکٹ کو سیاست کی طرح چلایا آج 2023 میں کرکٹ ون ڈے ورلڈ کپ ہے اور پاکستان میں سیاست کا بھی پاکستانی کپ ہے۔ کرکٹ ورلڈ کپ کی ٹیم تو تیار ہے عوام پاکستانی ٹیم کے لیے دعاگو ہیں۔ یہ عالمی مقابلہ ہے بس اب پاکستانی ٹیم کو آخری گیند تک لڑنا ہے۔ سیاست کے قومی کپ کے لیے مقابلہ کب ہوتا ہے اس پر ابہام ہے لیکن اس تاخیر پر عام آدمی کو ردِعمل دینا ہوگا۔ ابھی وقت ہے عام آدمی سیاست میں بہترین ٹیم سامنے لائے تاکہ ہم بجلی کے بلز پر احتجاج کرنے پر مجبور نہ ہوں اور عوام بھوک، غربت اور مہنگائی سے خود کشیاں کرنے پر مجبور نہ ہوں، پاکستانی نوجوان وطن چھوڑنے کا فیصلہ نہ کریں۔ جس طرح ورلڈکپ میں کامیابی بڑی سکرینوں اور نعروں سے ہی ممکن نہیں اسی طرح سیاست میں شخصیت پرستی اور جذباتی نعرے بہتری نہیں لا سکتے۔ کرکٹ ٹیم میں جگہ اسکی ہو جو پرفارم کرے، سیاست کا کپتان وہ جو پرفارم کر سکے۔ ہیرو اِزم سے باہر نکلیں، جیت بہتر فیصلوں کی مرہونِ مِنت ہوتی ہے صرف خواہشات رکھنے سے کامیابی ممکن نہیں۔